Will of Imam Ali (R.A) and We (Wasiat Imam Ali and We)



اکیس (21) رمضان المبارک حضرت علی رضہ کا یوم شہادت ہم ہر سال انتہائی عقیدت و احترام کے ساتھ مناتے ہیں
اس دن ہمیں عہد کرلینا چاہئے کہ ہم اللہ کی کتاب اور
سنت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و اصحابہ وسلم پر عمل پیرا ہوکر زندگی گزاریں گے


حضرت علی رضہ  کی وصیت کا حصہ پیش خدمت ہے آئیے ہم اس آئینے میں خود کو دیکھیں کہ ہم کتنا اسلامی تعلیمات پر عمل کررہے ہیں حضرت علی رضہ صرف اہل تشیع کے نزدیک ہی مقدس و بزرگ ہستی نہیں بلکہ وہ رضہ تما م مکاتب فکر ، مشرب و مسلک و مذہب میں مساوی  دینی اہمیت کے حامل ہیں دین کو بچانے کیلئے ان کی کوششیں اور کاوشیں اہل نظر و تاریخ کے طالبعلموں سے پوشیدہ نہیں ہیں حسن و حسین رضہ کی قربانیوں سے کون بافہم انسان انکار کرسکتا ہے
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم خود کو دیکھیں کہ کیا ہم اپنے بزرگوں کی تعلیمات پر عمل کررہے ہیں یا روز قیامت ہم اللہ اور اس کے رسول صلعم اور اسکے اصحاب رضہ کے سامنے نادم و شرمسار کھڑے ہونگے۔ اسکا اندازہ ہم اپنے اعمال کو دیکھ کر لگا سکتے ہیں کہ کیا ہم روز حشر میں شافعی امت کی شفاعت کے حقدار ہیں
امت مسلمہ کا اتحاد وقت کی ضرورت ہی نہیں بلکہ اتحاد و یگانگت ہمارا دینی فریضہ بھی ہے ہمارے دشمن ہماری بے بنیاد ناتفاقیوں کو مزید بھڑکاکر اپنے عزائم میں کامیاب ہورہے ہیں اور ہم ابھی تک شیعہ کافر اور سنی کافر کہہ کہہ کرایک دوسرے کی گردنیں کاٹ رہے ہیں
کیا یہ اسلامی تعلیمات ہیں
الحمد اللہ ہم مسلمان ہیں تو ہم سب کو اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا ہوکر ایک دوسرے کی دل آزاری کا سبب نہیں بننا چاہئے
زیر نظر فلم ہمارے کردار کو نکھارنے کا ایک ذریعہ ثابت ہونا چاہئے ۔، انشاءاللہ

video

Next Video | Add Comment | Related Videos | Go Up | Previous Video

Read More Add your Comment 0 comments


Imam Ali A.S 23 End (Shaheed E Kufa)




کچھ صاحبان یہ رائے رکھتے ہیں کہ جو صحابہ کرام غیر جانبدار رہے وہ درست سوچ کے حامل تھے
یہ بھی ایک تاریخی غلطی ہے جسے ہم بار بار دہراتے رہتے ہیں
ابن عربی اسی حوالے سے لکھتے ہیں کہ جب حکومت معاویہ کے قبضے میں چلی گئی تو اس نے سعد بن ابی وقاص رضہ سے پوچھا کہ نہ تو صلح کروانے والوں میں سے ہوا اور نہ جنگ کرنے والوں میں سے تو سعد بن ابی وقاص رضہ نے فرمایا کہ میں خود شرمندہ ہوں کہ میں علی کے ساتھ تیرے مقابلے کیلئے کیوں نہ آیا ہم سمجھتے رہے کہ یہ فتنہ ہے اور الگ ہوکر بیٹھ گئے اور تم کو مضبوط ہونے کا موقع مل گیا
اور عبداللہ بن عمر رضہ بھی فرماتے تھے کہ میں جب بھی قرآن پاک کیا س آئت پر پہنچتا ہوں کہ باغیوں سے جنگ کرو ،،تو میں اللہ سے بہت شرمندہ ہوتا ہوں کہ باغیوں سے لڑنا ہم فتنہ سمجھتے رہے جبکہ ہم غلطی پر تھے
احادیث میں مروی ہے کہ قوم ثمود کا بدترین شخص وہ تھا جس نے اللہ کی اونٹنی کا قتل کیا اور میری امت کا بدترین شخص وہ ہوگا جو علی رضہ کو قتل کرے گا

محمد صلعم نے مزید فرمایا کہ علی تمہیں اس طرح قتل کیا جائے گا کہ تمہاری داڑھی خون سے رنگ جائے گی
ابن کثیر کی کتاب ابدائع و النہایہ میں الگ سے ایک باب باندھا ہے جس کا عنوان ہی وہ احادیث نبوی صلعم ہیں جس میں حضرت علی رضہ کا قتل کیا جانا بیان ہواہے
حضرت علی رضہ کوفیوں کی بدعنوانی اور بے وفائی اور بے دینی سے سخت پریشان تھے
وہ حکم دیتے تھے مگر فوج انکا حکم نہیں مانتی تھی
کیونکہ حضرت علی رضہ محمد صلعم کے اصھاب میں سے تھے وہ خلفائے ثلاثہ رضہ کی سنت پر عمل پیرا تھے کہ خود پھٹے پرانے کپڑے اور سوکھی روٹی کھاتے تھے
اور بیت المال کو بلاوجہ اور بغیر اجازت استعمال نہیں کرتے تھے
اور وہ بیت المال کو امت کی امانت سمجھتے تھے
جبکہ معاویہ نے بیت المال ذاتی تحویل میں لے لیا تھا اور اس نے سپاہ و جرنیلوں کو ذاتی مقاصد کیلئے نوازنا شروع کردیاتھا
جبکہ حضرت علی محمد صلعم کے طریقے کو تھامے ہوئے تھے وہ خلافت کو اللہ کی طرف سے امت کی امانت خیال کرتے تھےکہ خلیفہ اور حاکم امت کا عادل ترین شخص ہو
وہ عام آدمیوں کی طرح تھے جبکہ معاویہ نے بادشاہی نظام قائم کیا
دوسرے لفظوں میں دین بمقابلہ دنیا تھی
معاویہ دنیا کی خاطر اور علی رضہ دین کی خاطر لڑرہے تھے، تمام فقہہ کی کتابوں جن میں اہل حدیث یا کوئی بھی سب متفق ہیں کہ معاویہ ہی تھا جس نے اسلامی تاریخ میں پہلی بار بغاوت کا بیج بویا
ابن ملجم خارجی فجر کی نماز کے وقت مسجد میں نے پیچھے سے وار کرکے زکمی کردیا تلوار زہر میں بجھی ہوئی تھی آپ نے زخمی حالت میں حکم دیا کہ مجھ پر حملہ کرنے والے کو آرام سے رکھا جائے
جب انہوں نے دیکھا کہ جانبر نہ ہونگا تو انہوں نے وصیت کی کہ میرے بعد میرے قاتل کو ایک وار سے ہی قتل کرنا جیسے اس نے مجھے کیا ہے خبردار اس کا مثلہ نہ کرنا کہ یہ جاہلیت کو طور ہے اور محمد صلعم نےا س سے منع فرمایا ہے
جندب بن عبداللہ نے پوچھا کہ آپ کے بعد حسن رضہ کے ہاتھ پر بیعت کرلیں
آپ رضہ نے فرمایا میں نہ اس کا حکم دیتا ہوں نہ منع کرتا ہوں مسلمان اس بارے میں جو بہتر سمجھتے ہیں وہی کریں
زخمی ہونے کہ 3دن بعد 20رمضا ن المبارک کو آپ کا انتقال ہوگیا آپ کا جنازہ امام حسن رضہ نے پڑھایا اور آپکو کوفہ کے قبرستان میں سپردخاک کیا گیا بوقت وفات آپ کی عمر مبارک 63 سال تھی اور مدت خلافت 4سال 9 ماہ تھی

اس کے بعد ان کے صاحبزادے حضرت حسن رضہ کی زندگی کی فلم ہے
اس میں معاویہ کے ظلم و بربریت کی داستان تاریخ کی روشنی میں مزید واضح کی جائے گی
نیز یہ بھی بیان کیا جائے گا کہ کیسے امویوں نے نماز کے اوقات ، حج کی تباہی اور علی رضہ پر لعنت بھیجنے کو سنت قرار دیا

video
Next Video | Add Comment | Related Videos | Go Up | Previous Video

Read More Add your Comment 0 comments


Imam Ali A.S 22 (Shaheed E Kufa)



امام شوکانی نے اپنی کتاب میں بسر بن ارطاۃ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اگر کسی شخص میں رائی برابر بھی ایمان ہوتو وہ بھی یہ کام نہ کرے جو مکروہ کام بسر بن ارطاۃ نے اسلامی تاریخ میں کئے ہیں
قطر کے قاضی القضاہ نے اسکی شرح میں لکھا ہے کہ بسر بن ارطاۃ اس قابل نہیں کہ اسکی کسی حدیث کو بھی بیان یا نقل کیا جائے
آبادیوں کا قتل اور مسلمان لڑکیوں کی بیع جیسے غیر انسانی و اسلامی افعال بھی بسر بن ارطاۃ کے ضمیر کو جگا نہ سکے
اس کے ساتھ ہی قاضی القضاٰ لکھتے ہیں کہ صحابی روسول صلعم پر تنقید بالکل ٹھیک ہے اگر اس نے غلط کام کئے ہیں جن کی اسلامی معاشرے اور دین اسلام میں بالکل گنجائش نہیں
اللہ تعالیٰ نسبت کو نہیں دیکھتا کہ کوئی نبی صلعم کے ساتھ رہا تو اسے معاف کردیا جائے گا نلکہ ایسے شخص کی ذمہ داری دہری ہو جاتی ہے کہ وہ صحآبی رسول بھی لہذا ایسے کسی کام سے بھی احتیاط کرے جو نبی پاک صلعم نے نہ کیا ہو
ایک جھوٹ اسلامی تاریخ میں تسلسل سے دہرایا جاتا ہے جہ حضرت علی پچھتاتے تھے کہ وہ غلطی پر تھے اور انہوں نے ناحب معاویہ سے جنگ کی
حیرت کی بات ہے کہ تاریخ اسلامی میں ایسی کوئی روائت یا سند نہیں ملتی کہ حضرت علی نے پچھتاو کا اظہار کیا ہو بلکہ آخری وقت تک وہ معاویہ سے جنگ کی تیاری کرتے رہے
انہوں نے معاویہ سے کوئی مصالحت نہیں کی اور نہ ہی اس کو مخصوص علاقہ جات کا خلیفہ تسلیم کیا
معاویہ جس نے قصاص کا بہانہ بنا کر خلافت کو ہتھیائی تھی
حیران کن بات ہے کہ عسکری طور پر مضبوط ہونے کے باوجود معاویہ نے قصاص نہیں لیا، حضرت علی رضہ کی شہادت کے بعد یا پہلے بھی معاویہ نے قصاص لینے کے سلسلے میں کوئی اقدام نہ کیا
حضرت علی کا مؤقف یہ تھا کہ کہ انکو شوریٰ نے خلیفہ چنا ہے لہذا پہلے بیعت مکمل ہوجائے جیسا کہ اسلامی طریقہ کے مطابق بیعت کی جاتی ہے
اس کے بعد ورثاء آئیں اور دعویٰ کریں اور مجرم کو نامزد کریں اور اسے پہچانیں خواہ وہ ایک ہے یا ایک سے زیادہ تاکہ اس پر باقاعدہ گواہوں کے بعد حد جاری کی جاسکے
مگر کسی نے ایک بھی نہ سنی اور ام المؤمنین عائشی صدیقہ رضہ اور طلحہ و زبیر رضہ بھی علی رضہ کے مقابلے میں قصاص لینے کے سلسلے میں آگئے
حضرت علی رضہ کے مؤقف کی دلیل اس بات سے بھی ملتی ہے کہ جب طلحہ و زبیر اور عائشہ رضہ نے بصرہ میں  ایک شخص ہرقوس کو خلیفہ عثمان رضہ کے قتل کے الزام میں گرفتار کرنے کی کوشش کی تو 6000 افراد تلواریں اٹھا سامنے آگئے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ کیسے ہرقوس کو گرفتار کرتے ہو تو طلحہ و زبیر اور عائشہ رضہ نے توقف کیا
تب حضرت علی نے فرمایا کہ یہی وجہ ہے کہ قصاص تب تک لیا نہیں جاسکتا جب تک کہ حکموت مضبوط اور خلیفہ کی بیعت مکمل نہ ہو، اور بیان کیا جاچکا ہے کہ معاویہ نے حضرت علی کی بیعت سے صاف انکار کردیا تھاحالانکہ ان کو شوریٰ نے چنا تھا اسی شوریٰ نے جسے خلیفہ عمر بن خطاب رضہ نے بنایا تھا
یہی مؤقف قاضی ابو بکرابن عربی کا ہے وہ اپنی تفسیر احکام القرآن میں مزید فرماتے ہیں کہ
 اگر امام وقت یہ سمجھے کہ قصاص لینے سے امت میں فتنہ اور ملک کے تباہ ہونے کا خدشہ ہو تو امام کو حق حاصل ہے کہ وہ خون معاف کرے یہی اسلامی طریقہ ہے
وہ مزید لکھتے ہیں کہ علماء اسلام بھی متفق ہیں اور دین سے بھی ثابت ہوگیا  اور تاریخی حقائق بھی گواہی دیتے ہیں کہ حضرت علی خلیفہ برحق تھے جو بھی انکے مقابلے پر آیا خواہ خارجی، عائشہ رضہ طلحہ و زبیر رضہ تھے ان سے جنگ کرنا علی پر فرض تھا
 ان کو ناحق معزول کیا گیا جبکہ ایک وجہ بھی انکے معزول کرنے کی نہیں تھی اور معاویہ میں حضرت علی رضہ سے بڑھ کرکوئی ایک خوبی بھی نہ تھی کہ اسے خلیفہ بنایا گیا
video
Next Video | Add Comment | Related Videos | Go Up | Previous Video

Read More Add your Comment 0 comments


Imam Ali A.S 21 (Shaheed E Kufa)



معاویہ نے خلیفہ بننے کے بعد مصر بھی مکاری اور حیلہ گری سے حضرت علی سے چھین لیا اور انکے گورنر اور ابو بکر صدیق خلیفہءاول کے صاھبزادے کو بےدردی سے بھوکا پیاسا قتل کرکے انکی لاش کو مردہ گدھے میں ڈال کر جلادیا
اور مصر کی حکومت حسب وعدہ عمر بن العاص کو تاحد زیست کیلئے سونپ دی
اس کے بعد معاویہ ایک دن بھی جارحانہ اقدامات سے بعض نہ آیا اور حضرت علی کے زیر نگیں علاقے تاراج کرنے شروع کردئے اور حضرت علی کے علاقوں پر یلغار کرکے وہان کے لوگوں کو تہہ تیغ کرکے انکولوٹنا شروع کردیا
ایک اور نام نہاد صحابی کا قصہ سنئے افسوس کی بات ہے کہ ہم اہل تشیع کو برا کہتے ہیں اور نام نہاد صحابہ جن کے بارے میں اکابر علماء جن کا تعلق اہل تسنن سے ہے فرماتے ہیں کہ وہ محمد صلعم کی وفات کے بعد راہ راست پر نہیں رہے
انہی میں سے ایک بسر بن ارطاۃ تھا
معاویہ نے اسکو بھیجا کہ یمن تک جاؤ اور جو علی کاحامی ملے اسے قتل کردو گھر جلادو اور مال متاع لوٹ لو
اسلام میں اگر آپس میں لڑائی ہوجائے تو نہ تو مال غنیمت سمجھ کر انکا مال ہتھیایا جاتا ہے نہ انکو غلام بنایا جاتا ہے
مگر بسر نے وہ طوفان بدتمیزی اٹھایا کہ اللہ کی پناہ
بسر مدینے گیا اور بزور بیعت لی، تفصیل بیان کی جائے تو کئی ایک صفحے درکار ہونگے،
 تاریخ طبری، صحیح بخاری، مسلم، وغیرہ کا مطالعہ مزید واقعتا پر اٹی گرد کو ہتانے میں مددکرے گا
 
اس کے بعد یہی بسر یمن گیا اور حضرت علی کے حاکم اور صحابی عبیدللہ بن عباس کو نکال دیا اور اس کے دو کمسن بچوں کو اانکی ماں کے سامنے ذبح کردیا جس کے بعد انکی ماں پاگل ہوگئی اورگلیوں کی خاک چھانتی پھرتی تھی
 
ایک واقع
ہ عہد نبوی کابیان کرنے کو جی کرتا ہے جس کے بعد آپ ان نام نہاد صحابہ کے چہرے پر پڑے نقاب کو ہٹاکر انکا اصلی چہرہ پہچان لیں گے
جنگ بدر میں محمد صلعم نے اپنی تلوار بلند کی اور فرمایا کوئی ہے جو میری تلوار کا حق ادا کرے تو ایک صحابی رضہ نے عرض کیا یارسول اللہ صلعم اس کا کیا حق ہے
آپ صلعم نے فرمایا کہ بوڑھے، کمزور، عورت ، بچے، زخمی اور نہتے پر یہ نہ چلے یہی اسکا حق ہے
کیا حاکم یمن کو بچوں کو اسکی مان کے سامنے قتل کرکے بسر بن ارطاۃ نبی اکرم صلعم کے احکام کا مخ
الف نہیں ٹھہرتا
اور اسی بسر بن ارطاۃ نے یمن کی مسلمان عورتوں کو بازار میں لیجاکر انکی بیع کی
افسوس صد افسوس کہ مسلمان نے عورتوں کی بیع کی احادیث سے آپ حضرات عورت کے مقام کو بخوبی پڑھ سکتے ہیں
جب حضرت علی رضہ کاروائی کی غرض سے دستہ روانہ کرتے تو شامی گروہ فرار کرجاتے
video

Next Video | Add Comment | Related Videos | Go Up | Previous Video

Read More Add your Comment 0 comments


Imam Ali A.S 20 (Shaheed E Kufa)



معاویہ نے خلیفہ بننے کے بعد(یاد رہے کہ معاویہ کو مسلمانوں یا شوریٰ نے خلیفہ نہیں بنایاتھا بلکہ عمر بن العاص نے مصر کے لالچ میں تحکیم کے تحت غیر اسلامی و قرآنی فیصلہ کرکے معاویہ کو خلیفہ نامزد کردیا تھا عمر بن العاص نے بہانہ بنایا تھا کہ معاویہ مقتول خلیفہ عثمان کے قصاص کا واحد طالب اور انکا وارث ہے لہذا معاویہ خلافت پر قائم کیا جانا چاہئے) حجرت علی کے خلاف بغض سے بھر پور کاروائی جاری رکھی اور مصر کے گورنر قیس بن سعد جو کہ علی رضہ کی طرف سے کے بارے میں افواہیں اس قدر اڑائیں اور مشہور کردیا کہ قیس معاویہ سے مل گیا ہے تو قیس نے مصر کی گورنری سے استعفیٰ دے دیا اور حضرت علی نے انکی جگہ محمد بن ابی بکرصدیق رضہ کو گورنر بنا کر مصر روانہ کیا نام نہاد امیر المؤمنین اور عمر بن العاص کی کاری اور اسلام دمنی اور محمد صلعم کے احکامات کی خلاف ورزی ایک تصویر آپ کو مصر میں نظر آئے گی
عمر بن العاص نے دھوکہ دہی اور مکارانہ جنگی چالوں سے مصر پر قبضہ کیا اور محمد بن ابی بکرصدیق قیدی بنا کر لائے گئے انہوں نے پینے کیلئے پانی مانگا
عمر بن العاص نے پانی نہیں دیا
اور حضرت محمد بن ابی بکر صدیق رضہ کو شہید کرکے انکی لاش کو مردہ گدھے میں ڈال کر جلا دیا
امام ابن حجر لکھتے ہیں کہ جب اس واقعہ کی اطلاع مدینہ پہنچی تو محمد بن ابی بکر صدیق کی والدہ غمزدہ حالت میں  مسجد نبوی صلعم میں آئیں اور نماز کی نیت کرلی، شدت غم اسقدر بڑھا کہ انکے پستانوں سے خون جاری ہوگیا، اور ام المؤمنین عائشہ رضہ نے کہا کہ محمد بن ابوبکر صدیق کو میں اپنا بیٹا سمجھتی تھی اور اس دن کے بعد عائشہ رضہ نے گوشت کھانا چھوڑ دیا تھا

کیا اصحاب رسول سے ایسے اعمال سرزد ہوں جو غیر اسلامی کیا غیر انسانی بھی ہوں تو کیا انکی عزت و شان قائم رہتی ہے
کیا وہ لائق تعریف ہے
بلکہ صحابی کی دہری ذمہ داری ہے کہ وہ کوئی بھی غیر انسانی و اسلامی کام نہ کرےاگر وہ کرے تو معافی مانگے اور امت کو اس سے پوچھنے کا حق ہے کہ تم نبی صلعم کی معیت میں رہے ہو کیا محمد صلعم نے ایسے کام کئے جو تم آج کررہے ہو

video

Next Video | Add Comment | Related Videos | Go Up | Previous Video

Read More Add your Comment 0 comments


Imam Ali A.S 19 (Shaheed E Kufa)



حضرت علی کے نامہ و پیام کے جواب میں خوارج نے لکھا کہ جب ہم نے تحکیم کو قبول کیا تھا تو ہم کافر ہوگئے تھے اب ہم نے توبہ کرلی ہے لہذا حضرت علی رضہ بھی توبہ کرلیں تو ان سے صلح کے بارے میں سوچا جاسکتا ہے
خوارج ایک ایسا گروہ تھا جو کہ نہائت متقی اور پریزگار بزرگوں پر مشتمل تھاانکی پیشانیاں عبادت کے نشانات سے سجی ہوئی تھیں کوئی بھی انکو دیکھ کر یقین نہیں کرسکتا تھا کہ یہ گروہ حق پر نہیں ہے
مگر محمد صلعم مخبر صادق نے خبر دی تھی کہ علی کے ساتھ جو بھی لڑے گا وہ حق پر نہیں ہوگا اور انہوں نے ایسے گروہ کا بھی بتایا تھا کہ جو بہت متقی ہوگا اور انکی دینداری میں کسی قسم کا تصنع نہ ہوگا وہ علی سے جنگ کرے گا اس وقت بھی علی حق پر ہونگے، اس متقی گراہ میں ایک ایسا آدمی ہوگا جس کا ایک بازو نہیں ہوگااور ہڈی کی جگہ پستان نما گوشت ہوگا
مختصر طور پر اگر یہ خوارج بغاوت نہ کرتے تو معاویہ کے بارے میں ذولفقار نے فیصلہ فرمادینا تھامگر اس دیر میں معاویہ کو سنبھلنے کا موقع مل گیا اور حضرت علی کی خوارج سے پیکار کی وجہ سے انکی عسکری طاقت میں کمی آگئی کیونکہ لوگ جہاد سے جی چراتےتھے
اشعث کندی جو کہ پہلے بھی مرتد ہونے کے بعد معافی مانگ چکا تھا علی رضہ کو چھوڑ گیا
video

Next Video | Add Comment | Related Videos | Go Up | Previous Video

Read More Add your Comment 0 comments


Imam Ali A.S 18 (Shaheed E Kufa)



عمربن العاص کی مکاری کام دکھا گئی اس نے حضرت علی کو معزول کردیا اور معاویہ کو امیر المؤمنین بننے کی مبارک باد دی اور معاویہ کے ہاتھ پر شامیوں نے بیعت کرلی، جبکہ حضرت علی رضہ کو معزول کرنے کی ایک بھی وجہ نظر نہیں آتی
معاویہ کا علی رضہ سے موازنہ ہو ہی نہیں سکتا، معاویہ نے اسلام اس وقت قبول کیا جب مکہ فتح ہوا اور دیکھا کہ اسلام باطل کے خس و خاشاک کو بہا لے جائے گاتو اسلام کے دامن میں پناہ گزیں ہوا، جبکہ حضرت علی رضہ نے اس وقت اسلام قبول کیا تھا جبکہ انکی ٹانگیں اسقدر طاقتور نہیں تھیں کہ محمد صلعم کا ساتھ دے سکتیں مگر انہوں نے محمد صلعم کی نبوت و دعوت کو تسلیم کیا اور ان کے ساتھ ہجرت کی، بدر لڑی، احد لڑی، احزاب لڑی، خیبر فتح کیا خلفائے ثالاثہ کے ادوار میں انکے وزیر اور مشیر رہے
اسلام کو سمجھنے والے تھے
اور ان سب سے بڑھ کر حضرت محمد صلعم کی احادیث جو تواتر سے ہم تک پہنچی ہیں کہ جس نے علی سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے علی سے بغض رکھا اس نے اللہ کے رسول سے بغض رکھا
مجموعی طور حضرت علی رضہ کو ناحق معزول کیا اور معزول بھی ان لوگوں نے کیا جن کا اپنا اسلام مشکوک تھا، عمر بن العاص کی اس سے بڑی جاہ پرستی کیا ہوگی کہ اس نے مادہ پرستی کی اور اس شرط پر معاویہ کا معاون و مدد گار ہو اکہ مصر کی حکومت مل جائے
حضرت علی نے اس فیصلے کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا اور دوبارہ افواج کی ترتیب بندی کی تاکہ معاویہ سے انصاف کیا جاسکے
مگر ان کے اس اعلان کے بعد ایک گروہ جن کو خوارج کہا جاتا ہےجو کہ بظاہر پرہیز گار اور مومن تھے حضرت علی کی مخالفت کی کہ انہوں نے تحکیم کو کیوں مانااسی بات کو بنیا بنا کر یہ گروہ علی سے جدا ہوگیا اور خوارج کہلایا
انہوں نے بھی بغاوت کی تھی اور بغاوت فرو کرنا حضرت علی کا فرض تھا
خوارج نے کوفہ و بصرہ میں تبلیغ کرکے ایک مضبوط جماعت اپنی ہم خیال بنا لی اور خفیہ طور پر نہروان پہنچنے لگے یہ عام مسلمانوں سے سوال کرتے کہ حکمین کے بارے میں کیا رائے ہے اگر وہ براءت کا اظہار کرتے تو چھوڑ دیتے وگرنہ قتل کردیتےانکا فتنہ اس وقت حد سے بڑھ گیا جب انہوں نے ایک صحابی اور انکی زوجہ کو قتل کردیا اور انکی حاملہ مقتول بیوی کا پیٹ چاک کرکے اس کا بچہ باہر نکال لیا
حضرت علی نے نصیحت و پیام کے ذریعے خوارج کو سمجھانا چاہا مگر بے سود
video

Next Video | Add Comment | Related Videos | Go Up | Previous Video

Read More Add your Comment 0 comments


Imam Ali A.S 17 (Shaheed E Kufa)



شامیوں کہ یہ چال بالکل کامیاب ہوگئی، عراقی قرآن پاک کو دیکھ کر جنگ سے پیچھے ہٹ گئے اور حضرت علی کو جنگ روکنے کیلئے مجبور کرنے کگے حضرت علی نے سمجھایا کہ یہ قرآن پاک ایک چال کے تحت نیزوں پر اٹھایا گیا ہے ان لوگوں نے دین کی کتاب جو کہ پڑھنے اور سمجھنے کی کتاب ہے کو بدعت بنادیا ہے
مگر عراقی نہ مانے اور کہنے لگے کہ اشتر کو فوری واپس بلایا جائے ورنہ ہم تمہیں قتل کردیں گے
مجبوری میں حضرت علی نے اشتر کو پسپائی کا حکم بھیجا
قرآن کو حکم تلیم کرلیا گیا ، سب مؤرخ کہتے ہیں کہ کوئی نہ کوئی حضرت علی کے پڑاؤ میں سے شامی فوج کے ساتھ ملا ہوا تھا یہ اشعث کندی نامی ایک شخص تھا جس نے ابوبکر صدیق کے دور میں بھی ارتداد کیا تھا
تحکیم قران کیلئے حضرت علی عبداللہ بن عباس کو بطور ثالث مامور کرنا چاہتے تھے جبکہ شام کی طرف سے عمر بن العاص ثالث مقرر ہوا
عبداللہ بن عباس کی تقرری پر بھی علی رضہ کی فوج میں سے مزاحمت کی گئی اور مجبوری میں حضرت علی نے ابو موسیٰ اشعری رضہ کو نامزد کیا
جو کہ غیر جانب دار ہوکر کسی نواحی شہر میں چلے گئے تھے انکو بلوایا گیا اور دونوں ثالثوں کو دومۃالجندل کے مقام پرکہا گیا کہ 6 ماہ کے دوران جب چاہیں فریقین کو بلا کر فیصلہ سنا دیں
معاہد لکھا گیا کہ دونوں فریقین کے ثالث کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ کریں گے اور امت میں تفرقہ نہیں ڈالیں گےاور خدا کو حاضر ناظر جان کر ایمانداری سے فیصلہ کریں گے اور دونوں افواج واپس چلی جائیں گی
ابو موسیٰ اشعری سادہ لوح تھے عبداللہ بن عباس نے ابو موسیٰ اشعری کو خبردار کیا کہ کوئی بھی فیصلہ ہو پہل عمر بن العاص کو ہی کرنے دینا تم بعد میں فیصلہ سنانا
دونوں ثالثوں نے فیصلہ کیا کہ دونوں کو معزول کردیا جائے فیصلہ سنانے کے وقت پہل ابو موسیٰ اشعری نے کی اور انہوں نے حضرت علی رضہ کو خلافت سے معزول کردیااور کہا کہ مسلمان جسے اہل سمجھیں دوبارہ منتخب کرلیں
اور جب عمر بن العاص نے فیصلہ سنایا تو اس نے بھی کہا کہ جیسے ابو موسیٰ نے علی کو معزول کردیا ہے ایسے ہی میں نے بھی علی کو معزول کیا اور معاویہ کو برقرار رکھا
مصر ملنے کا وعدہ جو تھا اسی لئے عمر بن العاص نے دھوکہ دہی سے کام لیا
ابو م،وسیٰ نے عمر بن العاص کو کتا اور بن العاص نے ابو موسیٰ کو گدھا کہا
مختصر یہ کہ گروہ معاویہ و مروان و بن العاص کسی طرح کی بھی فریبی و دھوکہ دہی سے باز نہ آئے
video

Next Video | Add Comment | Related Videos | Go Up | Previous Video

Read More Add your Comment 0 comments


Imam Ali A.S 16 (Shaheed E Kufa)



حضرت علی کی افوج نے پانی کے گھاٹ پر قبضہ کرلیا مگر علی رضہ کی سخاوت اور مسلمانوں کیلئے رحمدلی نے انہیں شام کے لشکروں کیلئے پانی بند نہ کیا
اسی دوراں محترم مہینوں کی وجہ سے جنگ کو التوا میں ڈال دیا گیا اس دوراں دونوں سپاہ ایک دوسرے سے اتنا میل جول بڑھا چکے تھے کہ جنگ کا گمان ہی نہیں ہوتا تھا
یکم صفر 37 ہجری کو باقاعدہ جنگ شروع ہوئی ایک ہفتے تک خفیف مقابلے ہوتے رہے بالآخر علی رضہ نے 11 صفر کو باقاعدہ جنگ کا حکم دیا تا کہ اس کشمکش کا باقاعدہ خاتمہ ہوجائے
فریقین کے مابین کم و بیش 90 معرکے ہوئے جس میں 45 ہزار شامی اور 25 ہزار عراقی کام ائے درمیان میں تجہیز و تکفین کیلئے دو دو دن جنگ روک دی جاتی
مجموعی طور پر حضرت علی کا پلڑا بھاری تھا کہ معرکۃ الہرہر میں مالک اشتر حملہ کرتے کرتے شامی پڑاؤ تک پہنچ گئے قریب تھا کہ حملہ آور ہوجاتے یا معاویہ فرار کرجاتا کہ عمر بن العاص نے ایک ایسا مشورہ دیا اور کہا کہ ہردو صورتوں میں مسلمانوں میں پھوٹ پڑجائے گی اور جیت ہماری ہوجائے گی
انہوں نے قرآن نیزوں پر اٹھا لیا
video

Next Video | Add Comment | Related Videos | Go Up | Previous Video

Read More Add your Comment 0 comments


Imam Ali A.S 15 (Shaheed E Kufa)



جنگ جمل نے حضرت علی رضہ کو عسکری طار پر کمزور کردیا اور معاویہ کو سنبھلنے کا موقع مل گیا
دوسری طرف عمربن العاص بھی معاویہ سے مل گیا تھا اور دونوں کا گٹھ جوڑ ہوچکا تھا
محمد بن حذیف
ہ رضہ جو کہ معاویہ کے سخت مخالف تھے وہ معاویہ کی قید سے فرار ہوگئے اور شام کے رومی ساحلوں پر فوج جمع کرنے لگے تاکہ معاویہ کو سبق سکھاسکیں
عمر بن العاص جن کی مکاری کسی سے پوشیدہ نہیں انہوں نے مشورہ دیا کہ محمد بن حذیفہ کا معاملہ اہم نہیں رومی قیدی آزاد کرکے رومی سلطنت سے صلح کرلو مگر علی والا معاملہ اہم ہے قرابت رسول اور سبقت اسلام کی وجہ سے وہ تم سے اعلیٰ و برتر ہیں مسلمان تم کو اور انہیں برابر نہیں سمجھیں گے
مختصر یہ کہ عمربن العاص نے  معاویہ کو جتانے کا بیڑہ اس شرط پر اٹھایا کہ جیت کے بعد مصر کی حکومت عمر بن العاص کو ملے گی اور دونوں میں تحریری معاہدہ طے پاگیا
جنگ صفین میں 80 ہزار فوجی حضرت عی کی زیرقیادت تھے جن میں 70 بدری صحابہ کرام 700بیعت رضوان کے صحابہ اور 400 مہاجرین و انصار صحابہ کرام تھے
یہاں پھر ایک بار رسول اکرم صلعم کی تعلیم کی جھلک علی رضہ کی ہدایات برائے جنگ صفین کی روشنی میں ملتی ہیں
انہوں نے فرمایا کہ خبردار جنگ نہ کرنا جب تک کہ وہ پہل نہ کریں، ذاتی رنجش پہ نہ جانا،باربار صلح کی دعوت دینا،نہ قریب تر جانا کہ وہ سمجھیں کہ ہم حملہ کاارادہ رکھتے ہیں اور نہ ہی اسقدردور کہ ہمیں بزدل شمار کریں
معاویہ نے پہلے پہنچ کر پانی پر قبضہ کرلیا
معاویہ نے علی رضہ کے لشکر کیلئے پانی بند کردیا حضرت علی نے کہلا بھیجا کہ پانی بند کرنا مناسب
نہیں یہ سب کیلئے یکساں کھلا رہنا چاہئے
مگر معاویہ نے پرواہ نہ مجبوری میں علی رضہ نے پانی بز
ور لانے کی حکم فرمایا
video

Next Video | Add Comment | Related Videos | Go Up | Previous Video

Read More Add your Comment 0 comments


Imam Ali A.S 14 (Shaheed E Kufa)



یہ بات ڈھکی چھپی نہیں کہ معاویہ نے بیت المال میں خورد برد شروع کردی تھی اس  نے لوگوں کو خریدنے کیلئے خزانوں کے منہ کھول دئے اور کبار صحابہ کو بھی خریدنے کی کوشش کی مگر کبار صحابہ معویہ اور علی رضہ کا موازنہ کیا کرتے انہوں نے دیکھا تھا کہ کس طرح آل امیہ نے ظہوراسلام سے ہی پیغمبر اسلام سے دشمنی میں کمی نہ کی تھی اور فقط فتح مکہ کے موقع پر محمد صلعم کی رحمت اور کرم کی وجہ سے ہی معاف فرمائے گئے تھے آج وہ خود خلافت کے دعویدار تھے خلافت کا مطلب صرف مسلمانوں کی حکومت نہیں ہے یہ ایک مکمل ادارہ ہے جس کے بالکل اسی طرح شعبے ہوتے ہیں جس طرح جمہوری ممالک میں یا بادشاہی والے ممالک میں ہوتے ہیں
اس کے بعد جنگ صفین وقوع پذیر ہوئی جو کہ معاویہ اور حضرت علی کے مابین صفین کے مقام پرلڑی گئی

video
Next Video | Add Comment | Related Videos | Go Up | Previous Video

Read More Add your Comment 0 comments


Imam Ali A.S 13 (Shaheed E Kufa)



جنگ جمل کا نتیجہ حضرت علی رضہ کے برحق ہونے کا ایک ثبوت تھا
حضرت محمد صلعم کی احادیث جو کہ ایک معجزانہ شان رکھتی ہیں میں بیان کیا جاچکا تھا کہ علی کے ساتھ جو بھی جنگ کرے کا وہ حق پر نہیں ہوگا اور علی ہی حق پر ہونگے
محمد صلعم کی احادیث بخاری کی کتاب الفتن اور امام شوکانی اور بہت سی مستند کتابوں میں درج ہیں جن میں حضرت علی کے برحق ہونے کی خبریں ہیں
ایک چھوٹا سا موازنہ درج کرتا ہوں
جنگ جمل میں ہر ممکن حد تک حضرت علی رضہ نے کوشش کی کہ جنگ سے گریز کیا جائے اور حضرت عائشہ کے بھائی محمد بن ابی بکر صدیق رضہ بھی پیغام لے کر حضرت عائشہ کی جانب جاتے رہے کہ یہ معاملہ افہام تفہیم سے حل ہونا چاہئے
مگر بصرے کا ایک یا دو قبیلے حضرت عائشہ رضہ کی رائے پر غالب آگئے اور جنگ ناگزیر ہوگئی
حضرت علی رضہ نے فرمایا کہ جو گر جائے اس کو نشانہ نہ بناؤ، جو بھاگ جائے اس کا پیچھا نہ کرو اور مخالفین کا مال مال غنیمت نہیں ہے کیونکہ یہ بھی مسلمانوں کا مال ہے اور ہمارا مقصد صرف بغاوت فرو کرنا ہے اس لئے انکا مال ہمارے لئے حلال نہیں ہے
جنگ کے بعد حضرت علی رضہ کو حضرت عائشہ کی فکر لاحق ہوئی انکی خیریت دریافت کروائی اور انکو بحافاظت بصرے کی 40 معذز اشراف زادیوں کے ہمراہ واپس روانہ کیا اور خود بھی انکی معیت میں تھوڑے فاصلے تک گئے
یہ حضرت علی کی خلافت کی جھلک ہے
آئیندہ اقساط میں اور امام حسن کی زندگی کی فلم میں معاویہ اور آل امیہ کی ملوکیت کی جھلک پیش کی جائے گی
صاحب بصیرت و درک خود ہی ادراک کرسکتے ہیں اسلامی احکامات کی کھلم کھلا خلاف ورزی کس نے کی
مجموعی طور پر جنگ جمل میں جہاں دونوں گروہوں کو نقصان ہوا اسی طرح معاویہ کو فائدہ ہوا

video
Next Video | Add Comment | Related Videos | Go Up | Previous Video

Read More Add your Comment 0 comments


Imam Ali A.S 12 (Shaheed E Kufa)



حضرت علی کی خلافت کو مسلمانوں نے تسلیم کرلیا تھا اور جوق در جوق انکی بیعت بھی کرلی تھی مگر شام میں معاویہ اور مصر سے عمر بن العاص جن سے حضرت عثمان نے انکی مصر کی گورنری چھین لی تھی وہ بھی دل میں رنج لئے ہوئے تھا معاویہ کو تو حضرت علی ایک دن بھی شام کا گورنر نہیں دیکھنا چاہتے تھے یہ انکی ذاتی خواہش نہ تھی بلکہ یہ دین و دنیا کا معاملہ تھا معاویہ دنیا طلبی میں مکاری و فریب سے کام لے رہا تھا جب کہ حضرت علی رضہ الہہ و رسول اللہ کیلئے معاویہ کا احتساب کرنا چاہتے تھے وہ اصلی بات کررہے تھے مگر معاویہ نے جب یہ دیکھا کہ علی رضہ کا احتساب سخت اور خالص قرآنی ہوگا تو انہوں نے قصاص عثمان رضہ کو آڑ بنا لیا
امیر المؤمنین حضرت علی رضہ نے معاویہ کی بیخ کنی کا قطعی فیصلہ کرلیا تھا اور لشکر کی ترتیب بندی کرلی تھی کیوں کہ اسلام میں خلیفہ جو کہ اسوۃ حسنہ کے مطابق زندگی بسر کررہا ہو اور جس کو شوریٰ نے چنا ہو اور اس کی حکمرانی کا طرز بھی خالص اسلامی و نبوی صہ ہو تو ایسے برحق خلیفہ کی بیعت بغاوت ہی ہے جس کا ارتکاب معاویہ نے کیا تھا
اگر ایسے میں ام المؤمنین حضرت عائشہ رضہ مروانیوں نے کے فریب میں نہ آتیں اور یا تو غیر جانبدار رہتیں یا حضرت علی کا ساتھ دیتیں تو معاویہ کا انصاف ہوجانا تھا مگر جنگ جمل میں معاویہ، مروان، عمر بن العاص اور عبداللہ بن سبا جیسے بہت سے خفیہ یہودی حرکت میں آچکے تھے



video
Next Video | Add Comment | Related Videos | Go Up | Previous Video

Read More Add your Comment 0 comments


Imam Ali A.S 11 (Shaheed E Kufa)



مکہ مکرمہ سے ام المؤمنین عائشہ رضہ طلحہ و زبیر رضہ کے ہمراہ بصرہ کی طرف روانہ ہوئیں ان کا مطالبہ تھا کہ مقتول خلیفہ کا خون بہا لیا جائے
دوسری طرف معاویہ بن ابی سفیان نے حضرت علی رضہ کو امیر المؤمنین تسلیم کرنے سے انکار کردیا ، حالانکہ حضرت علی کی بیعت بھی اسی طرح اور انہی لوگوں نے کی تھی جنہوں نے حضرت ابو بکر صدیق ، عمر بن خطاب اور حضرت عثمان کی کی تھی
مگر تاریخ گواہ ہے کہ معاویہ ہی وہ پہلا شخص ہے جس نے اسلامی دنیا میں بغاوت کا بیج بویا اور اپنی حیلہ کاری و عیاری سے حضرت علی جو کہ بلاغیرے شرکت امیر المؤمنین تھے کو ایک دن بھی چین نہ لینے دیا اور تاریخ حیران ہے کہ جن لوگوں نے قربانیاں دے کر اور اللہ کے نصرت کے طالب ہوکر دین اسلام کی آبیاری کی تھی ان کو کونے سے لگا دیا گیا تھا اور امت مہدی وہ بن گئے جنہوں نے اسلام اسوقت قبول کیا تھا جب تلواریں انکی گردنوں پر تھیں اس وقت بھی ابو سفیان نے کہا تھا کہ مجھے اب بھی شک ہے کہ آپ صہ رسول اللہ ہیں

video

Next Video | Add Comment | Related Videos | Go Up | Previous Video

Read More Add your Comment 0 comments


Imam Ali A.S 10 (Shaheed E Kufa)



دوسری طرف حضرت عثمان رضہ کی خون آلود قمیض اور انکی زوجہ نائلہ کی کٹی ہوئی انگلیاں دمشق پہنچا دی گئیں
معاویہ نے خون عثمان کو بہانہ بنایا اور دمشق کی جامع مسجد میں عثمان رضہ کی قمیض اور انکی زوجہ کی کٹی ہوئی انگلیاں لوگوں کو دکھا دکھا کے خوب گریہ و آہ زاری کی تاکہ لوگوں کو باور ہوجائے کہ معاویہ کو خلیفہ عثمان کے خون کا بڑا قلق ہے دمشق کے لوگ یہ سب دیکھ کر مشتعل ہوگئے
حضرت ابو بکر کے بیٹے محمد بن ابی بکر رضہ جو کہ حضرت علی متبنیٰ تھے پر بھی الزام آیا کہ وہ خلیفہ کے قل میں ملوث ہیں حضرت علی ان سے تفتیش کی تو انہوں نے اللہ کی قسم کھائی کے قتل کے ارادے سے گئے ضرور تھے مگر حضرت عثمان کی کسی بات پر وہ واپس ہولئے حضرت نائیلہ نے بھی گواہی دی کہ محمد بن ابی بکر شامل نہ تھے مگر دو اور قاتل تھے جن کو وہ بھی نہیں پہچانتےٴ
غرض یہ کہ طلحہ و زبیر اور معاویہ وغیر نے قصاص کا مطالبہ کردیا
مگر قصاص کن سے لیا جاتا مصری اور عراق والے سب کے سب ہی قاتل تھے اور مروان اور عمر بن العاص کی سازشوں کی وجہ سے نوبت یہاں تک پہنچی تھی
video

Next Video | Add Comment | Related Videos | Go Up | Previous Video

Read More Add your Comment 0 comments


Imam Ali A.S 9 (Shaheed E Kufa)



مگر اللہ کو منظور ہوچکا تھا کہ خلیفہء عثمان رضہ کو واپس اپنے پا بلالے
بلوائیوں نے کئی ہفتے تک قصر خلافت کا محاصرہ کئے رکھا دراصل بلوائی بھی صرف دباب سے کام لینا چاہتے تھے کہ حضرت عثمان کسی طرح خلافت سے دستبردار ہو جائیں اسی طرح مدینہ والے بھی ان کے خلاف تلوار نہیں اٹھا رہے تھے مگر خطرے کو محسوس کرکے حضرت علی رضہ نے قصر خلافت کے داخلی راستوں پر اپنے بیٹوں حسن و حسین رضہ اور بہت سے بنی ہاشم کے جوانوں کو خلیفہ عثمان کی حفاظت کیلئے کھڑا کردیا ، بلوائیں نے قصر خلافت کا پانی بند کردیا حضرت علی رضہ کو جب اس کی اطلاع ملی تو ضخود خلیفہ کیلئے پانی و کھانا لے کر گئے مگر مفسدوں اور شرارتی لوگوں نے اکابر صحابہ و بزرگوں کے سمجھانے کے باوجود خلیفہ کو قتل کریا
انہوں نے قصر خلافت کے پہلو میں واقعہ بنی حزم جو کہ انصار کا ایک خاندان تھا کا مکان استعمال کیا اور اس وقت خلیفہ کو قتل کردیا جب وہ تلاوت قرآن فرمارہے تھے
سات دن تک منصب خلافت خالی رہا اور بہت سی دشواریوں کے بعد حضرت علی رضہ کو خلیفہ چن لیا گیا
حضرت علی رضہ خلیفہ بننا نہیں چاہتے تھے وہ فرماتے تھے کہ امیر بننے سے مشیر بننا زیادہ آسان ہے
اس دوران مروان مدینہ سے مکہ فرار کرگیا، حضرت عائشہ ام المؤمنین رضہ پہلے ہی عمرہ کی غرض سے مکہ میں تھیں
حضرت علی نے سب سے پہلے معاویہ بن ابی سفیان کو گورنر سے معزول کیا بہت لوگوں نے مصلحت سے کام لینے کا مشورہ کیا مگر حضرت علی ایک لمحے کیلئے بھی معاویہ کی گورنری پر راضی نہ ہوئے
video

Next Video | Add Comment | Related Videos | Go Up | Previous Video

Read More Add your Comment 0 comments


Imam Ali A.S 8 (Shaheed E Kufa)



صلح کے بعد معاملات بالکل ٹھیک ہوگئے تھے خلیفہ عثمان رضہ نے مصری اور دیگر بلوائیوں کے جو جو شکوے تھے انکو حل کردیا اور آئیندہ کیلئے انکے ساتھ انصاف کی یقین دہانی کروائی ، سب نے خلیفہ پر اعتبار کیا مگر عمر بن العاص جن کو خلیفہء عثمان نے مصر کی گورنری سے برطرف کردیا تھا نے مشہور کردیا کہ عراق سے لشکر آرہا ہے تاکہ بلوائیوں کو سبق سکھایا جا سکے مگر سمجھدار مومنین خلیفہ کی ایمانداری میں کسی قسم کا شک نہ کررہے تھے
اور وہ خیال کرتے تھے کہ لشکر جس مرضی غرض سے ائے مگر ہمیں خلیفہ نے وعدہ دیا ہے کہ آئیندہ انکو شکائت کا موقع نہیں دیا جائے گا
مصری جو کہ واپس اپنے ملک کو چل دئے تھے انہوں نے راستے میں ایک قاصد پکڑا جو کہ مصر کو جارہا تھا اس کے پاس ایک خط تھا جو کہ خلیفہ وقت کی طرف سے حاکم مصرکو تھا جس میں تحریر تھا کہ جیسے ہی یہ مصری واپس پہنچیں انکی گردن اڑا دی جائے
مصری بپھرے ہوئے واپس مدینہ پہنچے اور عثمان رضہ کو مجبور کرنے لگے کہ وہ خلافت سے دستبردار ہو جائیں
   مگر انکو مخبر صادق صلعم نے خبر دی تھی کہ اللہ تمکو ایک قمیض پہنائے گا لوگ اتارنے کا تقاضا کریں گے مگر اے عثمان تم وہ قمیض نہ اتارنا اور صبر کرنا
یہ سازشیں کرنے والے اپنے ہی لوگ تھے اور ان سازشوں کے نتیجے میں بھڑکنے والے شعلوں کو بےگانے ہوا دے رہے تھے
حضرت علی رضہ کو جب پتہ چلا کہ حضرت عثمان کی جان کو خطرہ ہے انہوں نے اپنے بیٹوں جوانان جنت اور بنو ہاشم کے جوانوں کو خلیفہ عثمان کی حفاظت کیلئے انکے گھر پر م
تعین کردیا
 
video
Next Video | Add Comment | Related Videos | Go Up | Previous Video

Read More Add your Comment 0 comments


Imam Ali A.S 7 (Shaheed E Kufa)



مصری جو کہ خلیفہء عثمان کے خون کے درپئے تھے انہوں نے قصر خلافت کو گھیرے میں لے لیا اور انکا پانی بند کردیا
بہت سے صحابہ کرام رضہ مسلمانوں کی آپس کی جنگ سمجھ کر گوشہ نشین ہوگئے
عائشہ رضہ اور دیگر بہت سے صحابہ کرام مکہ مکرمہ کو عمرہ کیلئے تشریف لے گئے سب ہی مروان سے تنگ تھے جو خلیفہ کے مزاج میں اتنا رسوخ حاصل کرگیا تھا کہ خلیفہ اس پر اندھا اعتماد کرتے تھے مگر خلیفہء عثمان اس کی چالوں کو خوب سمجھ رہے تھے ، مصری چونکہ اس سے کم پر راضی نہ ہوتے تھے کہ مروان اپنے عہدے  سے دستربردار ہو جائیں
خلیفہ عثمان رضہ تنہا ہوچکے تھے ماسوائے مروان ان کے ساتھ تھا ایسے میں حضرت علی رضہ نے مصری اور دیگر بلوائیں اور خلیفہ کے مابین تنازع کو حل کروایا
video
Next Video | Add Comment | Related Videos | Go Up | Previous Video

Read More Add your Comment 0 comments


Imam Ali A.S 6 (Shaheed E Kufa)



قرآن پاک ایک ایسا ضابطہء حیات ہے جو قیامت تک کیلئے امت محمدی صلعم کیلئے نجات کا ذریہع ہے اسی طرح سنت رسول اکرم صلعم بھی ہمارے ایک عملی نمونہ ہے جس پر ہم عمل پیرا ہوکر دائمی نجات کیلئے سعی کرسکتے ہیں اور جنت کے حقدار ٹھہر سکتے ہیں
ظالم لوگ قرآن پاک کو تو بدل نہ سکے اور نہ ہی اس جیسا کوئی اور لاسکے جس میں انکی مرضی کا اسلام ہو مگر انہوں نے سنت نبی صلعم کا انہدام بہت بڑے پیمانے پر کیا اورجعلی احادیث کو گھڑنا شروع کردیا یہ دور ایسا تھا جب مسلمانوں کو دوست نما دشمن اور بیرونی اقوام سے خطرہ درپیش تھا
حیرت بات ہے کہ ہم جب کوئی حدیث سنتے ہیں کہ فلاں نے فلاں سے کہا مگر ہم نے کبھی یہ غور نہیں کیا وہ کیا وجوہات تھیں جب یہ سب یا کوئی ایک حدیث بیان کی گئی کیوں کسی راوی نے حدیث بیان کی وہ کیا حالات تھے کہ اسے وہ حدیث بیان کرنا پڑی یا اس نے اپنے گردو پیش میں کیا خلاف معمول تبدیلیاں ہوتی دیکھیں کہ اسے حدیث کو بیان کرنا پڑا
سب سے بڑھ کر یہ کہ امام بخاری اور دیگر تمام محدث جو کہ احادیث کی تدوین و ترتیب کررہے تھے وہ کیوں یہ کام ایک کمرے، ایک شہر یا ایک ملک میں نہیں کررہے تھے
اور وہ انکی ترتیب و تدوین کا کام قریہ قریہ اور ملک ملک جاکرکیوں کررہے تھے
جب یہ حدیث بیان کی جاتی ہے کہ مسجد نبوی صہ کی چھت  بارش کی وجہ سے ٹپک پڑی اور ہم نے دیکھا کہ محمد صلعم کیچڑ میں سجدہ فرمارہے ہیں اور کیچڑ ان کی پیشانی پر بھی لگ گیا
سوچنے کی بات ہے کہ مسلمان اتنے مفلوک الحال تھے کہ مسجد کو پختہ اور مضبوط نہ بناسکتے تھے اور کیا وہ فارس و
روم کے فن تعمیر سے واقف نہ تھے کیا ان کے پاس مدینۃالنبی میں مہندس نہ تھے جو ایسی عمارت تعمیر کرسکتے اور اسکو پختہ و مضبوط بنا سکتے وہ کیوں کھجور کے تنوں کے سہارے قائم تھی کیوں اس کی چھت کھجور کی ٹہنیوں اور خشک پتوں کی تھی
بات صرف اتنی سی ہے کہ محمد صلعم نے اس دنیا میں فطرتیت کو ترقی دی ہر کام خالص اور فطرت کے پیمانے سے دیکھا جائے یہی انکی تعلیم تھی
یہی وجہ حدیث کے بیان کی ہے کہ کیچڑ میں سجدہ کیا اور کیچڑ انکی پیشانی پر تھا
اصحاب کرام اس بات کو سمجھتے تھے جو محمد صلعم نے سکھائیں تھیں اور جو ساری نسلوں تک پہنچانا چاہتے تھے مگر افسوس کہ جاہ پرست اور مادہ طلب حکمرانوں نے ان تعلیمات کو کیا سے کیا بنا دیا
video
Next Video | Add Comment | Related Videos | Go Up | Previous Video

Read More Add your Comment 0 comments


Imam Ali A.S 5 (Shaheed E Kufa)



یہ بات طے شدہ ہے کہ معاویہ جس طرز کی ھکومت چلا رہے تھے وہ اسلامی نہ تھی اسلامی حکومت کا نقشہ دیکھنا ہو تو محمد صلعم کی زندگی اور ان کے ان اصحاب رضہ کی زندگی کا مطالعہ جنہوں نے اپنی زندگی کے کئی ماہ و سال محمد صلعم کی معیت میں گزارے اور اسلامی حکومت کی انتظامی اہلیت ابو بکر صدیق رضہ، عمر ابن خطاب رضہ میں بخوبی دیکھی جا سکتی ہیں عثمان رضہ کی خلافت کا زمانہ بھی پرآشوب تھا جب عمال حکومت کی بدعنوانیاں حد سے بڑھ چکی تھیں جن میں زیادہ تر وہ لوگ تھے جو اموی تھے
بیرونی طرف سے وہ ممالک جو اسلام کے آگے سرنگوں ہوچکے تھے ان کے معتصب لوگ اسلام کی دشمنی میں ایک پل بھی چین سے نہ بیٹھے خاص طور پر یہودی کہ انہیں اپنے علم پر بہت غرور ہے اور جب انہوں نے دیکھا کہ محمد صلعم کے خلفء نے بیت المقدس کو فتح کرلیا اور یہودیوں کو وہاں سے نکال باہر کردیا جو کہ میثاق محمدی صلعم کا ہی  ایک حصہ تھا یہودی جو کہ سالہا سال سے مکہ اور عرب کی سیاست و تجارت میں ایک خاص رسوخ رکھتے تھے وہ امیہ و ہاشم خاندان کی دشمنی سے بخوبی واقف تھے انہوں نے متزلزل قسم کے مسلمانوں پر غلبہ پالیا اور ان کے ذہنوں کو مسخر کرلیا
اور ان کو اسلام کی مخالفت کیلئے استعمال کیا جس سے انہوں نے دو رویہ فوائد حاصل کئے اسلامی ریسات کو کمزور کردیا اور اسلام کی روحانی عمارت یعنی خلافت کو بھی منہدم کردیا

 
video
Next Video | Add Comment | Related Videos | Go Up | Previous Video

Read More Add your Comment 0 comments