The Loneliest Commander 18 End (Urdu) Imam Hassan A.S



معاویہ ہر وقت ڈرتا رہتا تھا کہ کہیں حسن یا حسین رضہ خروج نہ کردٰن کیونکہ معاویہ کسی بھی شرط پر عمل نہ کررہا تھا
نہ کتاب اللہ پر عمل کیا اور نہ سنت نبی صلعم پر (آپ نے دیکھا کہ کس طرح نبی صلعم کےحکم کے خلاف معاویہ نے عبیداللہ ابن زیاد کو ابو سفیان کا بیٹا بنایا اور کھلم کھلا صحیح حدیث نبیuصلعم کی خلاف ورزی کی) یہ صرف ایک واقعہ نہیں اس طرح کے خلاف حدیث و سنت اور سیرت صحابہ کے خلاف اعمال سے تاریخ پر ہے جو معاویہ نے انجام دئے
حتیٰ کے نماز کے میقات کو تباہ کردیا اور جس کسی نے شکائت کی اسے ختم کردیا حجر بن عدی کے قتل کی بشارت محمد صلعم نے دی تھی جسے جنگل میں لیجاکر قتل کیا گیا
خطبات عید و جمعہ میں علی پر شب و ستم جاری رہا اور حسن رضہ کے یاد دلانے پر اور ام سلمیٰ اور عائشہ رضہ کے احادیث بیان کرنے کے باوجود معاویہ باز نہ آیا
حج کو تباہ کیا حتیٰ کے حج افراط کو منع کردیا جسے محمد صلعم نے بڑی مشکلوں سے رائج کیا تھا
زکٰوۃ کے نظام میں غیر مسلم بھرتی کرلئے اور تعلیم کا شعبہ ایک عیسائی کو سونپ دیا
اور آخر میں یزید کیلئے بزور بیعت لینے کی کوشش میں مدینہ والوں پر اور بالخصوص صھابہ کرام پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے اور انکو فاسق و فاجر کی بیعت کرنے پر مجبور کردیا
مروان نے جب مدینہ والوں سے معاویہ کی زندگی میں ہی یزید کیلئے بزور بیعت لینا چاہی اور اس نے مسجد نبوی میں خطبے میں کہا کہ یزید آئیندہ امیر المؤمنین ہے اور یہ ابو بکر اور عمر کی سنت ہے تو عبدالرحمٰن بن ابو بکر صدیق نے کہا کہ تم جھوٹ کہتے ہو اور ان پر تہمت لگاتے ہو ابو بکر نے اپنے خاندان میں سے کسی کو جانشیں نہیں بنایا تھا یہ قیصر و کسریٰ کا طریقہ ہےمگر بدنام ابو بکر و عمر رضہ کوکرتے ہو
مروان بولا اسے گرفتار کرلو مگر وہ بھاگ کر اپنی سگی بہن ام المؤمنین عائشہ رضہ کے حجرے میں داخل ہوگئے مروان نے دروازے پر جاکرجھوٹی بات کہنے لگا کہ( سورۃ احکاف کی فلاں آئت جو کہ ایک کافر کیلئے نازل ہوئی تھی)یہ عبدالرحمٰن کے بارے میں ہی نازل ہوئی تھی
اس پر ام المؤمنین عائشہ رضہ نے پردے کے پیچھے سے فرمایا تو جھوٹا ہے قرآن میں سوائے میری براءت کے کوئی بھی آئت ابو بکر کے گھرانے کیلئے نازل نہیں ہوئی
اور عائشہ رضہ نے مزید فرمایا کہ چپ ہوجا کیا تو وہی نہیں جس پر اور جس کے باپ پر اللہ کے رسول نے لعنت کی تھی
اس کے بعد مدینہ منورہ میں پرتشدد کاروائیاں شروع ہوگئیں تاکہ یزیدکی بیعت لینے کیلئے رائے عامہ ہموار کی جاسکے (مدینہ والوں کی خبر لینے اور عبداللہ بن زبیر و حسین رضہ  کے سلسلے میں معاویہ نے وفات کے وقت بھی وصیت کی تھی جس کو امام طبری نے اور بہت سے دیگر مؤرخوں نے نقل کیا ہے مگر یہ واقعات معاویہ کی زندگی کے ہی ہیں) تو عبدالرحمٰن بن ابو بکر رضہ وہاں سے مکہ آگئے  وہاں ایک غار میں چھپے رہے اور وہیں انکی موت واقع ہوئی مگر ام المؤمنین عائشہ رضہ کو ساری زندگی شبہ رہا کہ انکے بھائی کو قتل کیا گیا ہے
اور جب وہ عمرہ کو گئیں تو بھائی کی قبر پا جاکر روئیں کہ کاش اس وقت میں یہاں ہوتی توآخری بار بھائی کو دیکھ لیتی
 اس کے بعد حضرت حسن رضہ جو کہ شرائط کی وجہ سے خاموش تھے ورنہ حالات ایسے نہ تھے کہ خاموش رہا جاتا دین کی تباہی جس طرح کی جارہی تھی حضرت حسن رضہ کی طرف سے معاویہ کو ہر وقت خطرہ رہتا تھا ایسے میں ایک گہری اور پرپیچ سازش کے ذریعے انکو زہر دے دیا گیا تاکہ راستے کا پتھر ہمیشہ کیلئے ہٹ جائے
جب زہر دیا گیا تو انکے جگر کے ٹکڑے باہر آگئے اور حضرت حسین رضہ سے فرمایا کہ مجھے 3 بار زہر دیا گیا مگر اس بار زہر تیز تھا کہ میرا جگر کٹ کر باہرآگیا
حضرت حسین نے پوچھا کہ کون ہے جس نے آپکو زہردیا ہے تو حضرت حسن رضہ نے فرمایا کہ چھوڑو اسے کہ میں جس کے بارے میں گمان رکھتا ہوں شاید وہ نہ ہو اور ناحق میں تہمت کا مرتکب ہو جاؤں
دوران بیماری آپ رضہ نے حضرت عائشہ رضہ سے اجازت مانگی کہ بعدوفات انہیں محمد صلعم کے پہلو میں دفن ہونے دیا جائے انہوں نے اجازت دیدی مگر حضرت حسن رضہ سے فرمایا کہ دفن کے وقت ایک بار پھر ام المؤمنین سے اجازت کا پوچھنا کہ شاید میری بیماری کی وجہ سے اجازت دے دی ہو اگر وہ اجازت دے دیں تو ٹھیک اور اگر امیہ خاندان مزاحم ہو اور فساد کا خدشہ ہوتو پھر بقیع میں دفن کردیان
انکی وفات کے بعد جب انکا جنازہ روضہء محمد صلعم کی طرف دفن کیلئے لیجایا گیا تو مروان مزاحم ہوا اور کہا کہ جب عثمان دفن نہیں ہوسکے تو حسن کو کیوں دفن ہونے دوں
نوبت جنگ پر جاتی کہ ابو ہریرہ رضہ آئے اور دہائی دی کہ کیا ظلم ہے کہ نواسہء رسول اپنے نانا کے پہلو میں دفن نہیں ہوسکتا، پھر انہوں نے حسین رضہ کو حضرت حسن رضہ کی وصیت یاد دلائی کہ اگر نوبت خون گری تک جائے تو بقیع میں دفن کرنا
اس جگہ شیعہ حضرات بھی ظلم کرتے ہیں اور عائشہ رضہ پر الزام لگاتے ہیں کہ انہوں نے دفن نہیں ہونے دیا اور وہ خچر پر بیٹھ کر آگئی تھیں یا مروان کو خط لکھا تھا ایسی کوئی روائت نہیں ملی اور نہ ہی انہوں نے اس طرح کی کوئی بات کی بلکہ انہوں نے بخوشی حسن رضہ کو رسول اکرم صلعم کے پہلو میں دفن ہونے کی اجازت مرحمت فرمائی
 بنو امیہ میں سے کسی نے جنازہ نہیں پڑھایا ماسوائے والیء مدینہ سعید کے کیونکہ والی کی ذمہ داری ہوتی ہے

جب حسن رضہ کی وفات کی خبر معاویہ کو پہنچی تو سنن ابن داؤد اور مسند احمد میں تحریر ہے کہ معاویہ نے صحابیء رسول مقدام اور انکے ساتھی کسی کام سے شام گئے تھے ، معاویہ نے انکو بتایا کہ حسن وفات پاگیا ہے تو مقدام رضہ نے افسوس کا اظہار کیا تو معاویہ بولا کیا حسن رضہ کی موت مصیبت ہے جو صدمہ کرتے ہو  اس پر مقدام نے کہا میں نے خود دیکھا کہ رسول اللہ صلعم فرماتے تھے کہ حسن مجھ سے ہے اتنے میں ایک درباری بولا کہ وہ تو انگارہ تھا جو بجھ گیا
مقدام رضہ نے جب یہ سنا تو کہا کہ معاویہ تم نے یہ بات کرکے میرا دل غمزدہ کردیا ہے اب میں تبھی یہاں سے جاؤنگا کہ تمہارے دل کو بھی غمزدہ کردوں
اگر میں سچ کہوں تو کہنا کہ ٹھیک ورنہ میرے سامنے ہی کہہ دینا کہ جھوٹ ہے
اس پر معاویہ بولا ٹھیک ہے
مقدام رضہ نے پوچھا قسم کھا کے بتا کیا محمد صلعم نے مرد کیلئے سونا ، ریشمی لباس اور حرام جانورں کو مار کر انکی کھال استعمال کرنے سے منع نہیں کیا
معاویہ نے جواب دیا کہ ہاں منع کیا ہے
تو مقدام نے کہا مگر تم ان میں سے کسی ایک بھی بات پر عمل پیرا نہیں ہپو اور یہ سب کام تیرے گھر میں انجام پاتے ہیں جبکہ تم محمد صلعم کے جانشیں ہونے کا دعویٰ کرتے ہو
اس پر معاویہ بولا کہ مجھے پتہ تھا مقدام کہ میں تم سے جان نہیں چھڑا پاؤں گا
حیرانی ہے کہ معاویہ نے رسول اللہ صلعم کے خاندان کی یہ شان جانی کہ حسن رضہ کی وفات پر خوشی مناتا ہے کہ انگارہ تھا بجھ گیا آفرین ہے مقدام پر کہ وہ ظالم حکمران کے سامنے حق کہنے سے باز نہ آیا اور مومن کامل کو ایسا ہی ہونا چاہئے یہی عالم مزید لکھتے ہیں کہ کیوں معاویہ نے کہا کہ حسن انگارہ تھا کیونکہ ہر کتاب(اسدالغابہ،استعاب از ابن عبدالبر)  میں درج ہے کہ شرائط میں یہ شرط بھی شامل تھی کہ معاویہ کے بعد حسن رضہ خلیفہ ہونگے کیوں کہ اصل حقدار تو حسن رضہ تھے جن کی بیعت 40ہزار سے زائد لوگوں نے کی تھی اسی لئے انکو زہر کے ذریعے راستے سے ہٹادیا گیا کہ کہیں بنا بنایا کھیل نہ بگڑ جائے اور خلافت واپس متقی لوگوں میں نہ چلی جائے

یہاں پر حضرت حسن رضہ کی زندگی کی داتسان بھہ ختم ہوگئی معاویہ کی وفات بعد حضرت حسین رضہ سے بزور بیعت لینے کیلئے یزید نے مدینہ قاصد روانہ کیا وہاں سے حضرت حسین مکہ چلے گئے اور وہاں سے بصرہ قاصد روانہ کئے
واقعات کی ترتیب کیلئے پہلےاس قاصد کے حالات پر مبنی فلم اس لنک پر موجود ہے 

سفیر حسین رضہ بجانب بصرہ
اس کے بعد فلم

سایہ برخورشید
اس کے بعد 

روز واقعہ
اور اس کے بعد

ستارہء خضرا
اس کے بعد 
طفلان مسلم بن عقیل رضہ
اور اس کے بعد

مؤکب الآباء
دیکھیں تاکہ سانحہ کربلا کے واقعات کی ایک درست ترتیب قائم رہے


video

Next Video | Add Comment | Related Videos | Go Up | Previous Video

Read More Add your Comment 0 comments


The Loneliest Commander 17 (Urdu) Imam Hassan A.S



    زکوٰہ ، حج اور خطبات کی تباہی کاحال آپ نے پڑھ لیا یہ امور اسلام پر قیامت سے کم نہیں تھے جو امویوں نے اسلام پر ڈھائے اب نماز کے بارے میں اور صحابہ کرام رضہ کے بارے میں اور سنت رسول کے بارے میں بات کرتے ہیں
وہ لوگ جو حضرت علی کے طرفدار تھے حضرت حسن نے صلح کرتے وقت ان کیلئے امان لی تھی کہ ان میں سے کسی کو بھی سابقہ جنگوں کے انتقام کا نشانہ نہیں بنایا جائے گا
نسائی شریف کے باب نماز معہ امام باطل کے تحت درج ہے کہ ابن زیاد نمازیں تاخیر سے پڑھوایا کرتا تھا راوی کہتا ہے کہ ابن صامت ہمارے پاس آئے بیٹھنے کے بعد میں نے ان سے نمازوں کے اوقات کی بات کی تو انہوں نے میری ران پر ہاتھ مارا اور اپنے ہونٹ چبائے اور کہا کہ ابو ذر غفاری نے بھی اسی طرح میری ران پر ہاتھ مارا تھا جیسے میں نے تمہاری ران پر ہاتھ مارا ہے اور ابوذر غفاری نے فرمایا تھا کہ جب میں نے رسول اکرم صلعم سے یہی سوال کیا تھا تو انہوں نے بھی اسی طرح میری ران پر ہاتھ مار کرفرمایا تھا کہ وقت پر نماز پڑھ لینا اور ان کے ساتھ جاکر بھی پڑھ لینا اور انہیں مت بتانا کہ پہلے پڑھ چکے ہو(تفصیل نسائی شریف مین معہ
حاشیہ از علامہ سندھی بھی ملاحظہ فرمائیں کہ ظالم حکمران کی امامت میں بھی نماز جائز ہے)۔اسی طرح صحیح بخاری میں ہے کہ ابن زیاد جمعہ عصر کے وقت اور عصر مغرب کے وقت تک مؤخر کرتا تھا اور سچے مسلمان اس کے دربار میں اشاروں سے نماز پڑھتے تھے کہ بالکل ہلتے بھی نہیں تھے ساکت و جامد ہی دل میں نماز وقت پر ادا کرلیتے تھے
اسی طرح جس صحابی یا تابعی نے شکایت کی نمازیں دیر سے کیوں پڑھاتے ہو تو انکا انجام انکے قتل کی صورت میں سامنےآیا
اسدالغابہ از ابن اثیر میں درج ہے
حجر بن عدی جیسے صحابی نے جب عبیداللہ بن زیادسے شکائت کی تو اس نے معاویہ کو لکھا کہ علی کے ساتھی اس طرح شکائت کرتے ہیں تو
معاویہ نے حکم دیا کہ انہیں بھیج دو حجر بن عدی اور اسکے7 ساتھیوں کو ایک جنگل میں لیجایا گیا ان کے سامنے انکی قبریں کھودی گئیں اور حجر نے فرمایا کہ اس علاقے کو سب سے پہلے میں نے فتح کرکے اس میں اذان دی تھی مگر اس میں مجھے نماز وقت پر پڑھوانے کے جرم میں قتل کیا جاتا ہے انہوں دونفل پڑھنے کی اجازت چاہی اور قتل ہونے سے پہلے کہا کہ میرا خون نہ دھونا میں اسی طرح معاویہ کو پل صراط پہ پکڑونگا جب ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضہ کو اس واقعہ کا پتہ چلا اورجب معاویہ مدینہ گیا تو انہوں نے معاویہ کو برابھلا کہا اور عذاب خدا سے ڈرایا اور اس واقعے کی اطلاع خراسان کے گورنر ربیع بن زیادکو ملی تو انہوں نے نماز کے بعد دعا مانگی اور لوگوں سے کہا کہ آمین کہو انہوں نے دعا مانگی کہ اللہ اگر میرے حق میں کوئی اچھائی ہے تو مجھے اس جہاں سےاٹھالے کہ نماز کی تاخیر کی شکائت پر ناحق مسلمان قتل ہوگئے ہیں وہ دعا کے بعد ہلے بھی نہیں کہ اللہ کو پیارے ہوگئے
سنت نبی اور سیرت صحابہ پر کتنا عمل کیا
اسی طرح رسول اکرم صلعم نے حکم دیا تھا کہ جس کے بستر پر بچہ پیدا ہوا بچہ اسی کا ہے (تفصیلی حدیث امام بخاری کتاب میں ملاحظہ فرمائیں)
عبیداللہ بن زیاد ایک ظالم و جابر شخص تھا معاویہ نے اسے ساتھ ملانے کیلئے اسے دعوت دی کہ تم ایک غلام کے بیٹے کہلاتے ہو آؤ تمہیں میں اپنا بھائی یعنی ابو سفیان سردار کا بیٹا بنا لیتا ہوں
مجلس بلائی گئی اور اس میں گواہیاں لی گئیں کہ ابو سفیان نے ابن زیاد کی ماں سے زنا کیا تھا لہذا یہ پسر ابو سفیان ہوا
مجلس نے فتویٰ دیا کہ آج سے یہ پسر ابو سفیان ہے
حضرت محمد صلعم کے فرمان کی کھلم کھلا خلاف ورزی ، کیا اب شان صحابہ یا دنہیں آتی، جب معاویہ نے حدیث صحیح کے خلاف کام کیا
صحیح بخاری میں بھی سعد بن ابی وقاص کے حوالے سے درج ہے کہ لوگوں نے ان سے پوچھا کہ کیا اللہ کے نبی نے نہیں فرمایا کہ جس نے اپنا باپ بدلا اس پر جنت کی خوشبو حرام ہے

امام شوکانی 
 Nayl al-Awtar
 
میں  لکھتے ہیں کہ
معاویہ نے ایسا غلط کام کیا کہ اپنے باپ کا گناہ سب کو بتایا اور عبداللہ بن زیاد نے دنیا کی خاطر باپ کا نام بدلا اور حدیث صحیح کے خلاف کام کیااس وقت لوگ خوف کی وجہ سے عبیداللہ بن سفیان ہی کہتے تھے مگر بعد میں لوگوں نے اس کا نام عبیداللہ بن زیاد ہی لیا
حتیٰ کے شاعروں نے شعر بھی کہے ایک یمنی شاعر نے شعر میں کہا کہ
معاویہ کو میرا پیغام دینا کہ اگر کوئی تمہارے باپ کی شرافت کی گواہی دے تو تم برامناتے ہو اور جب کوئی اس کے برے کام کا چرچا کرے تو خوش ہوتے ہو
کیا یہ دین اللہ کی خلاف ورزی نہیں
یہ واقعات صرف مختصر اور ایک ایک وقعہ بیان کیا ہے وگرنہ اسلامی تاریخ اپنوں ہی کے وار سے خون آلود ہے
 



video
Next Video | Add Comment | Related Videos | Go Up | Previous Video

Read More Add your Comment 0 comments


The Loneliest Commander 16 (Urdu) Imam Hassan A.S




حج کے بارے میں بات کرتے ہیں
نسائی شریف میں بیان ہے کہ محمد صلعم نے میدان عرفات میں بھی لبیک کہا اور وقفے وقفے سے ذکر کرتے تھے اور لبیک الھم لبیک کہتے تھے
حضرت ابن عباس رضہ فرماتے ہیں کہ لبیک الھمہ لبیک میدان عرفات کی زینت ہے کہ حاجی وقفے وقفے سے پکاریں لبیک الھم لبیک
علامہ سندھی اور امام سیوطی کاحاشیہ بھی ساتھ  ہے
لکھا ہے کہ سعید ابن زبیر میدان عرفات میں عبداللہ بن عباس کے ہمراہ تھے کہ ابن عباس نے پوچھا ہے کہ کیا وجہ ہے کہ میں سنتا ہی نہیں کہ حاجی لبیک کہتے ہیں
سعید نے جواب دیا کہ لوگ معاویہ سے ڈرتے ہیں اسی لئے میدان عرفات میں لبیک الھمہ لبیک نہیں کہتے تو ابن عباس نے زور سے لبیک الھمہ لبیک کہا اور کہا کہ لعنت ہو ان پر کہ علی سے دشمنی نے انکواس جگہ پہنچادیا ہے کہ یہ سنت ترک کرنے لگے ہیں

امام مزید لکھتے ہیں کہ علی رضہ کیونکہ سنت سے ایک قدم بھی نہیں ہٹتا تھا اسی لئے علی سے بغض اور کینہ نے انہیں مجبورکردیا کہ یہ سنت کو بھی تباہ کردیں
بنو امیہ نے نظام زکوٰۃ کو کیسے تباہ کیا
کتاب اموال از ابو عبید القاسم ابن سلم
کے صفحہ 224 پر تحریر ہے کہ راوی نے سعد بن ابی وقاص
رضہ ابو ہریرہ رضہ اور عبداللہ  بن عمر رضہ سے پوچھا کہ ظالم بادشاہ کو زکٰوۃ دینی جائز ہے تو انہوں نے کہا کہ ہاں دے دینی چاہئے تم بری ہوجاؤ گے اور حساب وہ خود اللہ کو دے لے گا
اسی کتاب میں ایک دوسری روائت1789 بھی ہے
کہ راوی نے پوچھا اگر انہیں زکوٰۃ دے دیں تو کل کو یہ اسی کو بنیاد بنا کر خود 
کو جائز کہیں گے کہ اگر ہم غلط تھے تو ہمیں زکوٰۃ کیوں دی تو عبداللہ بن عمررضہ نے جواب دیا کہ زکٰوۃ دے دو خواہ یہ اپنے دسترخوانوں پر کتے نوچ کر ہی کیوں نہ کھائیں
اسی کتاب میں بیان ہے کہ سعید ابن زبیر (ایک مشہور تابعی ہیں) سے راوی نے پوچھا کہ کیا ظالموں کو زکوٰۃ دینا ٹھیک ہے انہوں نے کہا کہ ہاں جب وہ چلے تو میں بھی ساتھ ہولیا اور علیحدگی میں پوچھا کہ وہ زکٰوۃ کو غلط کاموں میں استعمال کرتے ہیں تو انہوں نے کہا کہ جہاں اللہ کا حکم ہے وہاں زکوٰۃ دو تم نے بھرے مجمعے میں پوچھا تھا جہاں ان کے جاسوس موجود رہتے ہیں
بات وہیں پہ آجاتی ہے کہ دلیل دی جاتی ہے کہ اگر ان کی خلافت غلط تھی تو صحابہ یا تابعی کیوں نہ بولے
ارے بھائی بولے تھے سب نے احتجاج کیا تھامگر جو بولا اس نے گردن کٹوالی حتیٰ کہ بہت سے صحابہ یا تابعین جو حدیثوں کو ان کے ڈر سے بیان نہیں فرماتے تھے انہوں نے مرتے ہوئے اپنے کسی جانشیں یا دوست یا رازدان کو اصل حدیث سنادی تاکہ وہ آگے پہنچ جائے روائیتیں بہت سی ہیں مگر اس کیلئے بہت سی نشستیں درکار ہیں اگر ہم صحیح معنوں میں ہی کتب احادیث اور قرآن اور (صحیح بخاری اور مسلم، اور تاریخ طبری )کے مطالعے کا غیر جانبداری سے حق ادا کردیں تو اللہ ہمیں توفیق دے گا کہ ہم حق اور جھوٹ میں فرق کرنا سیکھ لیں گے



video
Next Video | Add Comment | Related Videos | Go Up | Previous Video

Read More Add your Comment 0 comments


The Loneliest Commander 15 (Urdu) Imam Hassan A.S



صلح حضرت حسن رضہ کے بعد 20 سال کے عرصے میں آہستہ آہستہ بنو امیہ کے مکروہ چہرے سے نقاب سرکتی گئی اور اس کا اصلی چہرہ لوگوں کے سامنے عیاں ہوگیا، آج کوئی بھی عالم دیو بندی ہو ، اہلحدیث یا کسی اور مسلک سے تعلق رکھتا ہو وہ معاویہ بن ابو سفیان کو خلیفہء راشد تسلیم نہیں کرتا اور سب متفق ہیں اور تاریخ بھی گواہ ہے کہ اس کا دور ملوکیت کا دور تھا، کہاں وہ وقت کہ عام عورت بھی خلیفہ عمر رضہ کو پوچھ لے کہ اے عمر کون ہے تو(حضرت عمررضہ نے کچھ لوگوں کے کہنے پر مہر کی رقم متعین کردینی چاہی تو ایک عورت نے حضرت عمر رضہ کو پوچھا کہ اے عمر کون ہے توجو مہر کی رقم محدود کردینا چاہتا ہے جبکہ قرآن (یاحدیث) نے کہا ہے کہ اگر تم مہر میں سونے کاڈھیر بھی دے دو تو واپس نہ مانگوعمر رضہ نے مہر متعین کرنے کا فیصلہ ترک کردیا، مگر آج کے مولوی نجانے کہاں سے "شرعی مہر " کی غیر اسلامی اصطلاح لے آئے ہیں32 روپے میں کیا آتا ہے)۔
معاویہ نے کسی ایک بھی شرط پر عمل نہ کیا کتاب اللہ اور سنت اور خلفائے سابق کی سیرت پر عمل تو کجا اس نے کسی بھی شرط کو عمل کے قابل ہی نہ سمجھا سب سے پہلے ہم علی رضہ پر منبروں پر سب
و شتم والی شرط کے متعلق بات کرتے ہیں
معاویہ نے صلح کے بعد کوفہ میں مغیرہ بن شعبہ بھی موجود تھاکہ معاویہ نے ہر ایک کو باری باری کھڑاکرکے علی رضہ پر لعنت کروائی تو سعید ابن زید رضہ جو کہ حضرت عمر رضہ خلیفہء ثانی کے بہنوئی بھی ہیں نے پوچھا کہ کس پہ لعنت کرتے ہو تو ساتھ والابولا علی رضہ پر، تو سعید بن زید رضہ نے فرمایا یہ کیا ظلم ہے میں علی رضہ کے بارے میں اللہ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ محمد صلعم نے فرمایا تھا کہ علی جنتی ہے اور یہ اس پہ لعنت کررہے ہیں
امام غزالی رحہ نے خطبہء جمعہ کے بارے میں احیاالعلوم میں بیان کیا ہے کہ خطبہ کے وقت توجہ صرف خطبہ کی طرف رکھنی چاہئے اگر کسی نے زرق برق لباس پہنا ہے اور اسے پتہ ہے اس سے لوگوں کی توجہ لباس کی طرف مبذول ہوگی تو اسے ایسا لباس نہیں پہننا چاہئے (ایک اور حدیث ہے کہ اگر کسی بولنے والے کو تم نے چپ کرنے کا کہا تو یہ بھی بےہودہ بات ہے)۔
امام ابن حزم ایک اموی ہیں مگر بہت بڑے محدث اور عالم ہیں اپنی کتاب المھلہ جلد 6 صفحہ 64 میں رقمطراز ہیں
راوی کہتا ہے کہ میں نے دیکھا کہ حجاج خطبہ دے رہا ہوتا تھا مگر ابو موسیٰ اشعری اور شعبی کو دوران خطبہ محو گفتگو دیکھا مگر وہ تب بولتے تھے جب خطبے میں علی رضہ اور عبداللہ بن زبیر رضہ پر لعنت بھیجی جاتی تھی تومیں نے  کہا کہ خطبے میں بولتے کیوں ہو تو انہوں نے جواب دیا کہ کیا یہ خطبہ ہے جس کیلئے اللہ اور رسول نے چپ رہنے کاحکم ہے
ابن حزم مزید لکھتے ہیں کہ جو علی وعبداللہ بن زبیر پر لعنت کرتے ہیں اللہ ان پر لعنت کرے اور علی وعبداللہ بن زبیر سے اللہ خوش ہو(ابن زبیر رضہ پہلے مسلمان بچے تھے جو  مدینہ منورہ میں پید اہوئے تھے)۔
اور عیدیں کا خطبہ نماز کے بعد سننا واجب ہے
عیدین کے خطبے کے بارے میں بھی ابن حزم لکھتے ہیں کہ لوگ عید کاخطبہ سنے بغیر اٹھ کر چلے جاتے تھے تو بنو امیہ نے ہی سب سے پہلےبدعت ایجاد کی کہ عید کی اذان اور اقامت شروع کی اور خطبہ عید, نماز سے پہلے کرنا قرار دیا کیونکہ لوگ بعد میں خطبہ نہیں سنتے تھے کیونکہ علی اور عبداللہ بن زبیر رضہ پر لعنت کی جاتی تھی
ابن حزم لکھتے ہیں کہ یہی حق تھا کہ لوگ خطبہ نہ سنیں





video
Next Video | Add Comment | Related Videos | Go Up | Previous Video

Read More Add your Comment 0 comments


The Loneliest Commander 14 (Urdu) Imam Hassan A.S



حضرت محمد صلعم کی احادیث معجزہ ہیں جو انکے خاتم النبیین اور نبیء برحق ہونے کی گواہی ہیں
متواتر اور صحیح احادیث سے دفتر کے دفتر بھرے پڑے ہیں (امام ابن تیمیہ، ابن کثیر نواب سید صدیق حسن رحہ ،ابن اثیر،اب حجر )
(نواب سید صدیق نے ان تمام احادیث مبارکہ صلعم کو جمع کردیا ہے ج
و اب تک پوری ہوچکی ہیں یا قیامت تک پوری ہونگی انہوں نے اسی کتاب کے صفحہ نمبر 90 پر رقم کیا ہے کہ سیدالمسلمین و خاتم خلفائے راشدین حسن ابن علی رضہ نے 6 ماہ خلافت کے بعد صلح کرلی اور خلافت کی باگ دوڑ معاویہ کے حوالے کردی اور اس طرح خاتم النبیین کی وہ حدیث سچ ہوگئی جو متواتر منقول ہے کہ اللہ میرے اس بیٹے کے ذریعہ دو مسلم گروہوں کے مابین صلح کروائے گا اور دوسری یہ کہ مجھ سے 30 سال بعد کاٹ کھانے والی بادشاہت کازمانہ بھی اسی دن آگیا جس دن حسن خلافت سے دستبردار ہوئے)
(ابن کثیر نے افسوس کے ساتھ تحریر کیا ہے کہ کاش عراقی حسن رضہ کی قدر کرتے تو آج عالم اسلام کے حالات کچھ اور ہوتے اور مزید لکھتے ہیں کہ اگر کوئی پوچھے کہ کیسے حسن بن علی خلیفہءراشد ہیں تو فرماتے ہیں کہ وہی حدیث دلیل ہے جس میں محمد صلعم نے فرمایا ہے کہ میرے بعد 30سال تک نبوت و رحمت ہے اور اس کے بعد کاٹ کھانے والی بادشاہت اور حسن بن علی رضہ کی خلافت کے 6 ماہ جمع کرکے وہ 30 سال پورے ہوجاتے ہیں جن کی خبر احادیث میں ملتی ہے)

سب متفق ہیں کہ محمد صلعم نے فرمایا تھا کہ میرے بعد 30سال کا زمانہ نبوت و رحمت کا زمانہ ہے اس کے بعد ملکا غاصا یعنی کاٹ کھانے والی بادشاہت،(اس مکمل حدیث پر بعد میں بات کریں گے انشاءاللہ کیونکہ اس حدیث میں قیامت تک آنے والے حوادث کی ترتیب وارخبر ہے
ابن اثیر رحہ اپنی کتاب اسدالغابہ جلد دوم میں فرماتے ہیں کہ ابو محمد حسن ابن علی رضہ نے خلافت سے دستبرداری اور معاویہ سے صلح کے بعداس طرح خطبہ ارشاد فرمایا
اللہ کی حمد ثناء کے بعد، جو جنگ بندی میں نے شامیوں سے کی ہے نہ تو مجے اس میں کوئی شک ہے کہ میرا اور میرے باپ کاطریقہ غلط تھا اور نہ ہی مجھے اپنے مؤقف میں کوئی شرمندگی ہے جب تم شامیوں سے لڑرہے تھے اس وقت تمہارے اندر ایمان کی سلامتی اورثابت قدمی تھی، مگر اب فوج میں نہ رواداری ہے اور نہ صبر،صفین کی جنگ دین بچانے کی خاطر تھی،مگر اب تم سب دنیا کی خاطر جنگ پر آمادہ ہو اللہ گواہ ہے کہ میں ویسا ہی ہوں جیسا پہلے تھا(ثابت قدم)مگر تم پہلے جیسے نہیں رہے،تم میں سے کچھ صفین میں شہید ہونے والوں پر نوحہ کناں ہیں تم میں دلیری نہیں رہی،کچھ خارجی ہوگئے ہیں (یعنی انتشار پیدا ہوگیا)باقی مدد سے انکاری ہیں، بےشک معاویہ جس بات کی دعوت دے رہا ہے (یعنی صلح کی)اس میں نہ عزت ہے اور نہ انصاف، اب اگر تم شہادت چاہتے ہوتو حسن بالکل تسلیم نہیں ہوگا، اگر تم موت کو گلے لگانا چاہتے ہو اور چاہتے ہو کہ فیصلہ تلوار کی دھار سے ہو تو میں اس کو اسکی صلح واپس کردیتاہوں پھر جو اللہ کومنظور،اور اگر تم دنیا چاہتے ہو تو میں صلح قبول کرلیتاہوں اور تمہارے لئے امان لے لیتاہوں
سب پکارنے لگے کہ ہم صلح چاہتے ہیں تو حسن رضہ خلافت سے دستبردار ہوکر مدینہ کو چلے گئے
حضرت حسن رضہ کے اس خطبے سے پتہ چلتا ہے کہ نہ توانہوں نے مصالحت میں پہلی، اور نہ ہی وہ معاویہ کو خلیفہ سمجھتے تھے اور نہ ہی وہ جنگوں سے اکتائے تھے اور نہ ہی وہ معاویہ سے صلح کرنے میں عزت سمجھتے تھے
video
Next Video | Add Comment | Related Videos | Go Up | Previous Video

Read More Add your Comment 0 comments


The Loneliest Commander 13 (Urdu) Imam Hassan A.S



حضرت حسن رضہ پر ایک یہ الزام بھی لگایا جاتا ہے کہ وہ کثرت زنا کی وجہ سے فوت ہوئے اور انہوں نے 90 کے قریب عورتوں سے نکاح کئے مگر آج تک کوئی بھی ان عورتوں کے نام، حسب نسب بتانے سے قاصر ہے
قرآن پاک کے پارہ 10 کی سورۃ الانفال کی آیات نمبر 61 اور 62میں اللہ فرماتا ہے
اور اگر وہ جھکیں صلح کی طرف تو تو بھی جھک جا اسی طرف اور بھروسا کر اللہ پر بے شک وہ سننے والا جاننے
والا ہے
حدیبیہ کے موقع پر بھی محمد صلعم نے مکہ والوں کی شرائط پر صلح کی جبکہ حضرت عمر جیسے صحابہ رسول اکرم صلعم سے کہتے تھے کہ کیا آپ اللہ کے رسول نہی آپ کیوں ان ذلت والی شرائط پر صلح کررہے ہیں جس میں ہمیں کوئی فائدہ نہیں اور ہر طرف سے فائدہ مکہ والوں کو ہی ہے مگر محمد صلعم نے صلح کی اگر محمدصلعم چاہتے تو مکہ والوں کو مٹا دیتے مگر آپ صلعم اپنے صحابہ کرام رضہ کے ساتھ عمرہ کئے بغیر ہی واپس آگئےکیونکہ قرآن جو مجبور کررہا تھا کہ اگر وہ صلح کا کہیں تو ان سے صلح کرو اور اللہ پر بھروسہ رکھو
اسی طرح حسن رضہ نے بھی معاویہ سے صلح کی
اگر وہ صلح نہ کرتے تو ان کے خلاف پراپیگنڈہ کیا جاتا کہ یہ مسلمانوں کا قتل عام چاہتے ہیں اور قرآن پر عمل نہیں کرتے ، بالکل تحکیم والا معاملہ ہے جو صفین میں حضرت علی رضہ کو درپیش تھا

دوسرے لفظوں میں حضرت حسن رضہ کو دہشت گرد اور فسادی کہا جاتا
مگر حسن رضہ کو پتا تھا کہ معاویہ ایک بھی شرط پر عمل نہیں کرے گااور حسن رضہ کی صلح کے بعد معاویہ اور آل امیہ کا چہرہ عیاں ہوکر مسلمانوں کے سامنے آگیا(یاد رہے کہ  صلح سے پہلے اور نہ بعد میں معاویہ نے قصاص عثمان کے سلسلے میں کو اقدام کیا)انکی صلح کی مخالفت تمام صحابہ کرام رضہ اور دیگر مخلص لوگوں نے کی، حجر ابن عدی نے جب اعتراض کیا تو آپ رضہ نے فرمایا کہ اگر سب کی رائے  تم جیسی ہوتی تو آج میں واپس مدینہ نہ جاتا
اس سلسلے میں ابن حجر کی کتاب فتح الباری کا مطالعہ معلومات بخش ہے
یہاں ایک الزام یہ بھی لگایا جاتا ہے کہ حضرت حسن رضہ نے وظائف اور کچھ علاقہ جات کی آمدنی خود لینے کی شرط پر معاویہ سے صلح کی
حیرت کی بات ہے محمد صلعم نے جن کو جنت کے سردار کہا ہے اور انکو فرمایا ہے کہ حسن و حسین رضہ میرے دو پھول ہیں ، اور میں ان سے ہوں یہ مجھ سے ہیں، انکو ہم دنیا کا طالب بنادیتے ہیں کہ انہوں نے معاویہ سے درہم و دینار کے بدلے صلح کی
اسی طرح فدک کے معاملے کی طرف دھیان جاتا ہے کہ فاطمہ
رضہ جو کہ سیدۃالنساء اور جنت کی خواتین کی بھی سردار ہیں وہ مادی دنیا کی آسائش کی خاطر ابو بکر صدیق رضہ سے جھگڑا کریں
کیسے وہ دنیا کی طالب ہوسکتی ہیں جبکہ ایک بار انہوں نے محمد صلعم کو اپنے ہاتھ دکھائے کہ چکی گھما گھما کے چھالے پر گئے ہیں مال غنیمت میں سے ایک لونڈی مجھے بھی دے دیں تو محمد صلعم نے نکار کردیا اور کہا کہ اے فاطمہ نبی کی بیٹی ہونے کی وجہ سے یہ نہ سمجھنا کہ کل روز قیامت اللہ تم سے باز پرس نہیں کرے گا، اللہ کے نزدیک صرف صالح اعمال ہی قبول کئے جاتے ہیں
کیسے فاطمۃالزہرا یا اس کی اولاد دنیاوی خواہشات کے اسیر ہوسکتے ہیں
عقل تسلیم نہیں کرتی کہ اگر حسن رضہ نے داراب جبرد کا کل خراج اور بیس ہزار درہم حسین رضہ نے کہاں خرچ کئے
کیوں انہوں نے اس رقم کی مدد سے اپنے گرد فوج اکٹھی نہ کی، کیوں نے انہوں نے پر آسائش زندگی نہ گزاری
لوگ بات کرتے ہوئے بالکل نہیں سوچتے کہ کیا کہنے جارہے ہیں اور اس بات سے کونسا گناہ سرزد ہوگا
مختصر یہ کہ حضرت حسن رضہ پر کوئی بھی الزام سچا نہیں نہ ہی انہوں نے 90 عورتیں نکاح میں لیں اور نہ ہی درہم و دینار یا وظیفے کا مطالبہ کیا
اگر کوئی وظیفہ انکو ملتا بھی تھا تو بالکل وہی وظیفہ تھا جو عمر و صدیق رضہ نے طے کردیا تھا
اس صلح کا نتیجہ وہی نکلا جو حدیبیہ کے بعد نکلا تھا کہ مکہ والوں نے محمد صلعم کے حامی کو قتل کردیا نتیجے میں معاہدہ ٹوٹ گیا اور محمد صلعم نے اعلان جنگ کردیا جس کی وجہ سے فتح مکہ ہوا
اسی طرح حضرت رضہ کی صلح کے بعد معاویہ نے ایک بھی شرط پوری نہ کی نہ تو خطبات سے علی رضہ پر لعنت بھیجنا ختم کیا نہ سابقہ جنگوں میں لڑنے والے علی رضہ کے طرفداروں کو معاف کیاا ور ان سب کو قتل کیا اور مزید یہ کہ یزید کو اپنی زندگی میں ہی خلیفہ نامزد کرکے بزور اس کی بیعت لیناچاہی اور جب پانی سر سے اونچا ہوگیا تو حضرت حسن رضہ نے جہاد کیا اور کربلا میں پوراخاندان کٹوادیا مگر اسلام کو فتح و کامرانی سے ہمکنار کیا


video
Next Video | Add Comment | Related Videos | Go Up | Previous Video

Read More Add your Comment 0 comments


The Loneliest Commander 12 (Urdu) Imam Hassan A.S



حضرت حسن رضہ کے سرداروں کی وفاداری مشکوک ہوچکی تھی اور معاویہ کی طرف سے دئے گئے درہم و دینار کے لالچ نے حضرت حسن کو اس قابل نہیں چھوڑا تھا کہ وہ کسی پر اعتبار کریں مزید یہ کہ معاویہ بن ابی سفیان کو سبھی نیک اور دیندار سمجھتے تھے اور حضرت حسن رضہ اور علی رضہ کو لوگ دین سے بھٹکے ہوئے سمجھتے تھے حتیٰ کے معاویہ نے حضرت علی رضہ پر لعنت بھیجنا سنت قرار دیا اور لوگوں کو مجبور کیا کہ وہ علی پر لعنت سنیں
پہلے عرض کیا تھا کہ بنو امیہ نے میقات صلوٰۃ، خطبات عید و جمعہ، اور اہتمام حج کو تباہ کرکے رکھ دیا جو کہ  سبب بنے تھے حضرت حسین رضہ کے کربلا میں شہید ہوجانے کا، کیونکہ اگر حضرت حسین ان بداعتدالیوں اور دین کو تباہ کرنے والے کاموں پر خاموش رہتے تو لوگ سمجھتے کہ جب نواسہء رسول صلعم ہی خاموش ہیں اور تو پھر یہی درست اسلام ہے اسی لئے حضرت حسین رضہ بے سروسامانی کے عام میں نکلے اور پنا خاندان کربلا کے میدان میں کٹوادیابقول شاعر

اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد
ہم لوگ یہ نہیں سمجھتے کہ کیوں حضرت حسین رضہ نے یزید کے خلاف جہاد کیا اور پھر وہ صلح کیوں کرنا چاہتے تھے یا وہ مدینہ کو واپس یا سرحدوں کی طرف کیوں جانا چاہتے تھے
یہ وہ جہاد ہے جو ہم ناقص فہم لوگوں کی عقل میں نہیں سماتا
کیونکہ آل امیہ نے دین کو تباہ کرنے والے ایسے ایسے کام کئے کہ  حسین رضہ کو جہاد کیلئے نکلنا پڑا
یہ ایک ذیلی بات ت تھی جو بیان کی گئی 
 مدائن کے سفید محل میں سعید ثقفی کی جانثاری میں حسن رضہ نے اپنے زخموں کا علاج کروایااور معاویہ کی صلح کی پیشکش کے سلسلے میں اپنی فوج کے لوگوں سے پوچھا اور فرمایا کہ میں معاویہ سے صلح نہیں چاہتا مگر تم لوگ دین کیلئے نہیں نکلتے اور میراساتھ نہیں دیتے تم میں سے کچھ سابقہ مقتولین کو رورہے ہیں اور ذاتی انتقام کیلئے لڑناچاہتے ہیں، مختصر یہ کہ لوگوں نے بھی صلح کی تائید کی
حسن رضہ کی بصیرت افروز اور دوراندیش نظریں بنو امیہ کے ہاتھوں دین کی تباہی کو دیکھ چکی تھیں مگر لوگ نہیں سمجھتے تھےاور اگر یہ صلح بیچ میں نہ آتی توشاید ہم قیامت تک کیلئے حضرت علی رضہ اور حسن و حسین سید جوانان جنت کو باطل کے آلہ کار اور بنو امیہ کو حق پر سمجھتے
مگر اللہ اپنے بندوں کیلئے ہر بات واضح کردیاتا ہے
حضرت حسن رضہ کی صلح میں ہی بنو امیہ کی تمام خامیاں پوشیدہ ہیں، ان شرائط کے ایک ایک لفظ سے بنو امیہ نے بغاوت کرنی تھی اور مسلمانوں کو پتہ چلنا تھا کہ
حق کس کے ساتھ ہے علی یا معاویہ کے ساتھ، معاویہ یا حسن کے ساتھ، یزید یا حسین کے ساتھ
حضرت حسن رضہ کی جانب سے صلح کی چیدہ چیدہ شرائط درج ذیل تھیں
کہ
تم کتاب اللہ اور سنت اور سابق خلفاء کی سیرت پر عمل کروگے
سابقہ جنگوں میں لڑنے والے خواہ کسی کے بھی طرفدار ہوں کسی کو کچھ نہیں کہا جائے گا
اپنے بعد کسی کو اپنا جانشیں نامزد نہیں کروگے بلکہ شوریٰ (جو کہ عمر رضہ نے قائم کی تھی)کے مطابق متقی و عادل حکمران چنا جائے گا
علی رضہ اور اہل بیت رسول اکرم صلعم پر لعنت کو خطبات سے ختم کیا جائے
یہ شرائط عبداللہ بن عامر کے ذریعے معاویہ کو بھجوائی گئیں
معاویہ نے بغیر کسی ردوبدل کے یہ شرائط قبول کرلیں
لیکن حیرت کی بات ہے کہ وہ ان میں سے کسی ایک شرط پر بھی قائم نہ رہا
یہاں پہ حضرت محمد صلعم کی اس حدیث کی طرف دھیان جاتا ہے کہ منافق کی نشانیوں میں ہے کہ 
بولے تو جھوٹ بولے ور عہد کرے تو توڑدے
کیسے معاویہ نے ان شرائط کو پامال کیا اس پر آئیندہ اقساط میں بات کی جائے گی

video
Next Video | Add Comment | Related Videos | Go Up | Previous Video

Read More Add your Comment 0 comments


The Loneliest Commander 11 (Urdu) Imam Hassan A.S



تاریخ اسلامی میں مظلوم تریں شخصیت حضرت حسن رضہ ہیں ان پر ایسے حالات گزرے ہیں کہ انکے اپنے بھی ان کے مخالف ہوگئے اور مخالفوں کی تو بات ہی الگ ہے
جیسے ہی انہوں نے معاویہ کی فوج کشی کی خبر سنی انہوں نے اپنے ہراول دستے کو قیس ابن سعد رضہ کی سرکردگی میں آگے روانہ کیا اور خود بھی ان کے پیچھے روانہ ہوئے وہ مدائن کے راستے میں ساباط کے مقام پرتھے کہ ان پر خوارج کی طرف سے ایک بار پھر حملہ ہوا اور انکے پاؤں مبارک میں زخم آیا ابھی وہ وہیں مقیم تھے کہ فوج میں ایک غلط بات پھیلی کہ قیس ابن سعدرضہ  جو کہ 12ہزار فوج کے ساتھ تھے انکو معاویہ کی فوج نے شکست دے دی ہے اس افواہ کی وجہ سے حسن رضہ کی فوج میں بغاوت پھیل گئی اور اس بدتہذیب فوج نے اپنے ہی ساتھیوں کو لوٹنا شروع کردیا حتیٰ کہ انہوں نے حضرت حسن رضہ کے خیمے پر بھی دھاوا بول دیا اور انکا قالین جس پر وہ بیٹھے تھے وہ بھی ان کے نیچے سے کھینچ لیا اور انکے شانوں پر تلوار سے وار کئے جس کی وجہ سے انکو کافی زخم آگئے

بالآخر انہوں نے مدائن کے قصر سفید میں جانے کا حکم دیا 
وہاں پر معاویہ بن ابی سفیان کے قاصد صلح کی پیشکش اور  ان جعلی خطوط کے ساتھ پہنچے جو انکو حسن رضہ کی فوج کے سرداروں کی طرف سے معاویہ کو لکھے گئے تھے کہ ہم حسن رضہ کو لارہے ہیں اور تمہارے حوالے اس شرط پر کریں گے کہ ہم انعام و کرام اور مناصب سے نوازے جائیں
مزید یہ کہ حضرت حسن رضہ عراقی فوج کی بدتمیزی و بدتہذیبی بھی ملاحظہ فرماچکے تھے کہ انہوں نے اپنے خلیفۃالمسلمیں حسن رضہ کے خیمے پر بھی دھاوا بول دیا اور انکا قالین تک انکے نیچے سے کھینچ لیا
یہ سب باتیں مجبور کررہی تھیں کہ حضرت حسن رضہ معاویہ سے صلح کرلیں
مگر اصل حقائق جو کہ صلح کے ہیں ان پر روشنی ڈالنا بھی ضروری ہے کچھ باتیں ہیں جو انکی نسبت غلط مشہور کردی گئی ہیں کہ حسن رضہ پہلے دن سے معاویہ کے ساتھ جنگوں کو صحیح خیال نہیں کرتے تھے اور جنگوں سے باغی تھے حتیٰ کے اپنے والد ماجد علی رضہ کو بھی معاویہ سے جنگ کرنے سے روکا کرت
ے تھے
مگر حیرت ہے کہ تاریخ کو مسخ کرنے والوں نے یہ نہ سوچا کہ تاریخ کا طالب علم یہ بھی تو پوچھ سکتا ہے کہ جب علی رضہ کو حسن رضہ جنگوں سے منع کرتے تھے تو پھر خود کیوں وہ صفین، جمل ، نہروان اور دیگر چھوٹے موٹے حملوں میں ساتھ ساتھ رہے،اگر وہ جنگوں کے مخالف تھے تو انہوں نے اپنے باپ علی رضہ کا ساتھ کیوں نہ چھوڑا، اگر وہ جنگوں کے مخالف تھے تو انہوں نے قیس ابن سعد اور کندی نامی فوجی سرداروں کو کیوں جنگ کیلئے آگے روانہ کیا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اگر وہ جنگ کے مخالف تھے تو کیوں وہ کوفہ سے مدائن کی طرف یعنی عراق سے شام کی فوجوں کی طرف بڑھ رہے تھے کیوں وہ واپس مدینہ یا مکہ کی طرف نہ چلے گئے
 واقعات کو اس طرح گڈ مڈ کرکے حقائق کو اوجھل کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ تاریخ انسانی میں اس کی مثال شاید ہی ملے

video
Next Video | Add Comment | Related Videos | Go Up | Previous Video

Read More Add your Comment 0 comments


The Loneliest Commander 10 (Urdu) Imam Hassan A.S



حضرت علی رضہ علم و فضل میں بھی برتر تھے
محمد
صلعم کا ان کیلئے یہ فرمانا کہ میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ
اس کی واضح دلیل ہے
آپ رضہ علم کے بے پایاں سمندر تھے، فقہہ میں بھی آپکا پایہ بہت بلند تھا، اسی لئے تو خلفائے رضہ گذشتہ ان سے مشاورت کیا کرتے تھے
آپکی فصاحت و بلاغت بھی بے مثل تھی، آپ حکیم العرب اور خوش البیان تھے، آپکی تحریرات اور خطبات کا مجموعہ نہج البلاغہ اس حقیقت کی مظہر ہے
آپ لکھتے تھے تو حسن تحریر سے صفحہء قرطاس پر چمن کھلا دیتے تھے
تقریر فرماتے تو علم و حکمت کے فردوس جگمگا اٹھتے تھے، آپکی شاعری دم مسیحا کا جواب تھی، جس سے مردہ و غمزدہ دلوں میں بہاریں جاگ اٹھتی تھیں، آپ عربی قواعد کے موجد تھے آپ نے عربی گرامر پر ایک مختصر سا رسالہ اپنے شاگرد ابو الاسود دؤلی کو لکھ کردیا تھاآپ رضہ دشمنوں سے حسن سلوک میں بھی ارفع و اعلیٰ تھے، حدیث رسول کریم صلعم ہے کہ بہادر وہ نہیں کہ جو دشمن کو پچھاڑ دے بلکہ بہادر وہ ہے جو اپنے نفس کو زیر کرے ، ایک دفعہ ایک لڑائی میں آپکا ایک حریف گر کر برہنہ ہوگیا تو آپ رضہ اس کو چھوڑ کر الگ کھڑے ہوگئے تاکہ وہ شرمندہ نہ ہو

جنگ جمل میں آپ نے  القعقاع بن عمر التمیمی کو بار بار صلح کیلئے انکی طرف روانہ کیا مگر شر پسندوں کی رائے ام المؤمنین کی رائے پر غالب آگئی اور جنگ ناگزیر ہوگئی، ام المؤمنین عائشہ رضہ کی فوج کو شکست کے بعد آپ رضہ نے آگے بڑھ کر ام المؤمنین کی خیریت دریافت کی اور ام المؤمنین کو انہی کے طرفدار عبداللہ بن خلف کے مکان میں ٹھہرایا اور جنگ جمل میں شریک لوگوں کی نسبت اعلان کروادیا کہ انکا پیچھا نہ کیا جائے، مال غنیمت نہ لوٹا جائے اور زخمیوں پر کوڑے نہ برسائے جائیں
آپ کا سب سے برا دشمن آپکا قاتل ابن ملجم ہوسکتا تھا مگر آپ نے اس سے بھی حسن سلوک کا حکم دیا اور صرف قصاص کے طور پر اسی طرح ایک ور سے قتل کرنے کی وصیت کی جس طرح اس نے آپ پر وار کیا تھا
video
Next Video | Add Comment | Related Videos | Go Up | Previous Video

Read More Add your Comment 0 comments


The Loneliest Commander 9 (Urdu) Imam Hassan A.S



کندی جو کہ معاویہ کی فوج سے جا ملا تھا اس کی وجہ سے بہت سے لوگ حضرت حسن رضہ کی فوج کا ساتھ چھوڑ کر فوجی پڑاؤ سے واپس کوفہ چلے گئے جن میں خوارج بھی شامل تھے، اس دوراں قیس ابن سعد انصاری رضہ نے مسجد کوفہ میں ایسی جامع تقریر کی کہ بہت سے مسلمان معاویہ سے جنگ کرنے کیلئے تیار  ہوگئے اور اپنی تلواروں کے ہمراہ پڑاؤ کی طرف روانہ ہوگئے
خوارج اور بہت سے ساتھی یہ گمان کررہے تھے کہ کندی جس کی وفاداری پر شبہ نہیں کیا جاسکتا تھا اگر وہ معاویہ سے مل سکتا ہے تو عدی بن حاتم اور حجر ابن اودے، قیس ابن سعد انصاری رضہ اور دیگر کبار صحابہ رضہ کے بارے میں یقین نہیں کہ کہیں وہ بھی معاویہ سے نہ مل جائیں
جبکہ حسن رضہ سے بیعت کے وقت یہ سب صحابہ کرام رضہ جو حضرت حسن رضہ کے وفادار ساتھیوں میں تھے یہ گمان کررہے تھے کہ  اب شاید لوگ مخلص ہوگئے ہیں اور آئندہ یہ لوگ حضرت علی رضہ کے دور والی غلطی نہیں دہرائیں گے

قیس ابن سعد انصاری کے بارے میں تاریخ کی کتابوں میں مذکور ہے کہ یہ ایک بہت جری قد آور ، مضبوط اور بہادر جنگجو تھے یہ جسمانی طاقت اور زور کا عظیم الشان نمونہ تھے.20 کے قریب لڑائیوں میں داد شجاعت پاچکے تھے، اسی طرح انکی دینداری بھی بے مثل تھی، دین کے ارکان جان کے خطرے میں بھی ادا کرسکتے تھے، ایک روز نماز پڑھ رہے تھے کہ ایک سانپ عین اسی جگہ کنڈلی مارے بیٹھا تھاجس جگہ سجدے میں ماتھا ٹکتا تھا قیس جس طرح نماز پڑھ رہے تھے پڑھتے رہے اور جب سجدے میں گئے تو سانپ کے قریب پیشانی سجدے میں ٹکادی سانپ فوری گردن سے لپٹ گیا مگر اس نے کاٹا نہیں ، جب قیس نماز مکمل کرچکے تھے تو سانپ کو گردن سے چھڑا کر الگ کردیا 
یہ معاویہ کو حق پر نہیں سمجھتے تھے، جب قیس رضہ حضرت علی رضہ کی طرف سے مصر کے حاکم تھے تو معاویہ نے قیس رضہ کو خط لکھا اور ان القاب سے شروع کیا
اے یہودی کے بیٹے یہودی
تو قیس نے جواب میں لکھا کہ
اے بت پرست کے بیٹے بت پرست
تو نے بے دلی سے اسلام اس وقت قبول کیا جب تو مجبور کیا گیا لیکن جب تم نے اسلام چھوڑا تو دل سے خوش ہوکر چھوڑا، تیرا دین اگر کچھ ہے تو کل کی بات ہے مگر تیری عیاری ہمیشہ کی ہے



video
Next Video | Add Comment | Related Videos | Go Up | Previous Video

Read More Add your Comment 0 comments


The Loneliest Commander 8 (Urdu) Imam Hassan A.S



حضرت حسن رضہ کی مسجد کوفہ میں بیعت کرنے والوں میں خوارج بھی شامل تھے جنہوں نے علی بن ابی طالب رضہ کو شہید کیا تھا ، خوارج کا مقصد یہ تھا کہ حسن رضہ معاویہ کے ساتھ جنگ برپا کریں کچھ لوگوں نے بیعت کے وقت شرط رکھی کہ ہم اس شرط پر آپکی بیعت کرتے ہیں کہ آپ معاویہ سے جنگ کریں گے مگر آپ رضہ نے کہا کہ تمہیں میرا حکم ماننا ہوگا جس سے میں جنگ کا حکم دوں اس سے لڑنا ہوگا اور جس سے روکوں اس سے رک جانا ہوگا
ان لوگوں بادل نخواستہ بیعت کرلی،
دوسری طرف معاویہ کو جونہی پتہ چلا کہ حسن رضہ کی بیعت اختتام پذیر ہوئی اور عراق والوں نے جوش و جذبے کے ساتھ انکی بیعت کی ہے تو معاویہ بھی مصر و شام سے تجدید بیعت کی اور ایک لشکر جرار لے کر عراق کی سمت حرکت کرنا شروع کی
حضرت حسن رضہ کو جب معاویہ کیا س پیش قدمی کی خبر ملی تو آپ نے بھی جنگ کی تیاری شروع کردی اور قیس ابن سعد کو ہراول دستے کے طور پر آگے روانہ کردیا اور خود ان کے پیچھے جانے کی تیاری شروع کردی
مگر اس دوران حضرت حسن رضہ کے طلایہ گرد دستے کو سپہ سالار کندی فریب میں آکر معاویہ کے لشکر میں پہنچ گیا جس کی وجہ سے کوفہ والے بہت دل ہوئے اور بہت سے لوگ حسن رضہ کا ساتھ دینے سے کترانے لگے
کیونکہ حضرت علی رضہ نے جب کوفہ کو دارلخلافت بنایا تو وہ ایک میدان میں فروکش ہوئے تھے اور عالیشان محلات کے بارے میں فرمایا تھا کہ
عمر رضہ نے بھی ہمیشہ ان عالیشان محلات کو حقارت کی نظر سے دیکھا ہے
مجھے بھی اس کی حاجت نہیں ہے
انکے عدل اور اسلام پسندانہ فیصلے دنیا پرست لوگوں کو تکلیف دیتے تھے اس لئے وہ حضرت علی رضہ کو پسند نہیں کرتے تھے
حضرت حسن رضہ بھی اپنے والد گرامی کی تصویر اورخلفائے گذشتہ کی عملی تفسیر تھے
video

Next Video | Add Comment | Related Videos | Go Up | Previous Video

Read More Add your Comment 0 comments


The Loneliest Commander 7 (Urdu) Imam Hassan A.S




قسط نمبر سات 7 میں مغیرہ بن شعبہ کا کردار بھی نظر آئے گا
نبی اکرم محمد صعلم کی تدفین کے وقت مغیرہ بن شعبہ نے قبر مبارک میں اپنی انگوٹھی گرادی مغرہ بن شعبہ نہ السابقون الاولون میں سے ہیں نہ ہجرت کرنے والوں کے ساتھ نہ بدر، احد اور نہ احزاب میں ساتھ تھے
انگوٹھی آنکھوں پر لگا چشمہ یا جیب میں لگا قلم نہیں کہ نادانستہ گرجائے
پھر جن کی نظر مغیرہ بن شعبہ کے خاندان، انکی تعلیم و تربیت ، انکی علمی و فنی صلاحیت ، انکے علمی و فنی مشاغل، اسلام لانے سے قبل انکے سابقہ افعال و اعمال پر ہے وہ اس واقعہ کو معمولی نہیں سمجھ سکتے، مغیرہ بن شعبہ نے ایسا کیوں کیا وہ اندر جاکر کیا ٹٹول رہے تھے وہ اندر جاکر کس راز کو جان لینا چاہتے تھے اور انکا ایسا کرنے کا اصلی محرک کیا تھا، آج تک اس کی تحقیق نہیں کی جاسکی

اس ذیل میں یہ بھی یاد رکھیں کہ ابو بکر صدیق نے محمد صلعم کی وفات کے وقت فرمایا تھا کہ اے اللہ کے رسول آپ پر دو موتیں واقع نہیں ہونگی، کیا کسی پر دو موتیں بھی واقع ہوتی ہیں اور عمر رضہ نے کہا تھا کہ اگر کسی نے یہ کہا کہ محمد صلعم وفات پاگئے تو وہ مرتد ہے
تاریخ اسلامی میں بہت سے ایسے واقعات ہیں جن کی جامع تحقیق آج تک نہیں ہوسکی  اگر کسی نے تحقیق کرنے کی کوشش کی تو انہیں جھٹلایا گیا اور نام نہا علماءوقت نے انکی شدید مخالفت کی اور انکو تحقیق کی منزلیں طے کرنے سے روک دیا گیا ہے
کچھ سوالات ذہن میں آتے ہیں  کہ حضرت علی رضہ، حسن و حسین رضہ، عبداللہ بن زبیر رضہ،جعفرالصادق رحہ، اما بن تیمیہ رحہ، مالک بن انس، احمد بن حنبل،احمد سرہندی مجدد الف ثانی اور شاہ ولی اللہ محدث دلوی جیسے لوگ کماحقہ اسلام سے ناواقف تھے کیا سبھی تقویٰ کے معیار مطلوب سے فروتر تھے کیا سبھی اسلام کے ساتھ غیر مخلص تھے کیا سبھی باطل کے آلہء کار تھے کیا سبھی متشدد تھے اور کیا ان سبھوں کو دین اسلام میں رسوخ حاصل نہ تھا
یہ لوگ ایسے تھے جو اللہ نے دین کی تجدید کیلئے پید اکئے تھے اسی دین اللہ اور سنت نبوی صلعم کو زندہ کرنے کیلئے اللہ نے انکو اس معاشرے میں پید اکیا جس کو لوگ بھلا چکے تھے اور علماء وقت ان کی راہ میں سنگ گراں بن جاتے رہے ہیں
حضرت محمد صلعم کی پیشین گوئی کے مطابق یہ سازش حضرت عمر رضہ کی وفات کے بعد پوری قوت سے حرکت میں آگئی مگر 661 عیسوی تک یہ مکمل کامیا ب ہوگئ کہ اسلامی نظام میں پوری طرح خلل پیدا کرکے اس معاشرے کو معطل، مسخ، تبدیل، مجروح اور تباہ کرسکیں، چنانچہ اس سازش کے ماہرین جو کہ اس وقت کے عالمی ماہرین تھےاسلامی معاشرت میں سات 7 عظیم فسادات پید ا کئے جن کی تفصیل بعد میں الگ بیان کی جائے گی
1.الحکم کی ادارہ سازی
2.الہدیٰ یعنی قرآن و سنت کی مشنیٰ سازی
3.الحدیث کی جمارہ سازی
4.القرآن کی مدرش سازی
5.العبادۃ کی قبلہ سازی
6.عقیدہ و عمل کی شدید سازی
7.معاشرہ کی طبقہ سازی

video
Next Video | Add Comment | Related Videos | Go Up | Previous Video

Read More Add your Comment 0 comments


The Loneliest Commander 6 (Urdu) Imam Hassan A.S




حیرت کی بات ہے جو جنگیں حضرت علی رضہ نے باغیوں کے ساتھ کی ہیں جن کا حکم قرآن پاک بھی دیتا ہے کہ مفسدوں کے خلاف جنگ کرو، ان جنگوں پر اعتراض کیا جاتا ہے تاریخ گواہ ہے کہ حضرت علی رضہ نے نہتے، زخمی، انجان ، ضعیف اور بچوں پر وار نہیں کیا بلکہ اسی طرح حکم دیا کرتے تھے جس طرح ابو بکر صدیق رضہ خلیفہ اول نے خالد بن ولید رضہ کو فتنہء ارتداد کے خاتمے کی مہم پر روانہ کرتے ہوئے دیا تھا
اور معاویہ نے جو مسلمانوں کا ناحق خون بہایا ہے اس کی پردہ پوشی کرکے حق کو مسلمانوں کی نظروں سے چھپاتے ہیں اور اگر معاویہ کا کوئی گناہ بھی نہ ہو اور وہ صحابیء رسول بھی ہوتو اس کے اس عمل کو کیا کہا جائے گا جو اس نے حضرت علی المرتضیٰ فاتح خیبر داماد مصطفیٰ صلعم پر لعنت بھیجنا سنت قرار دیا مسجدوں کے منبروں پر علی پر لعنت بھیجنا ضروری ٹھہرادیا اور عید اور جمعے کے خطبوں میں بھی علی رضہ پر لعنت بھیجنا شروع کروایا

کیا معاویہ نے یہ حدیث کسی سے بھی نہیں سنی تھی کہ جس کا میں مولیٰ اس کا علی مولیٰ(جس نے مجھے دوست بنانا ہے وہ علی کو بھی دوست سمجھے) متفق
اس لعنت کو آل امیہ کے خلیفہ راشد عمر بن عبدالعزیز رحہ نے بند فرمادیا اور اس لعنت کی جگہ قرآن پاک کی آئت(ان اللہ یاء مر بالعدل و الاحسان) داخل کی جس کو ہم اپنے خطبوں میں آج تک دہراتے ہیں
معاویہ کے اس عمل کے آگے سب گناہ ہیچ ہیں
ایک صاحب ام سلمیٰ ام المؤمنین کے پاس گئے تو ام سلمیٰ نے ان سے کہا کہ
اب تو مسجدوں میں محمد صلعم کو برا بھلا کیا جاتا ہے تو ان صاحب نے کہا کہ معاذاللہ
اس پر ام سلمیٰ نے فرمایا کہ کیا علی پر لعنت نہیں کی جاتی اور مجھ سے بڑھ کر کون جانتا ہے کہ محمد صلعم علی رضہ سے سب سے زیادہ محبت کرتے تھے

video

Next Video | Add Comment | Related Videos | Go Up | Previous Video

Read More Add your Comment 0 comments


The Loneliest Commander 5 (Urdu) Imam Hassan A.S



امام ابن کثی کتاب النہایا والبدائع کی جلد نمبر 8 صفحہ نمبر 90 میں لکھتے ہیں کہ

امام ابن علی مدینی فرماتے ہیں کہ (امام ابن علی مدینی حدیث کے بہت بڑے امام گزرے ہیں) میں نے سفیان ابن ? سے سنا ہے کہ علی رضہ میں ایک بھی ایسی خامی نہ تھی کہ انہیں خلافت سے معزول کیا جاتا اور معاویہ میں ایک بھی ایسی خوبی نہ تھی کہ وہ علی رضہ سے جنگ کرتا،لوگ کہتے ہیں کہ معاویہ بڑا دانا اور حلیم تھا، مگر جو حق کو نہ پہچانے اوراس کا انکار کرے  حق سے جنگ کرے وہ کہاں کا دانا اور حلیم ہے،
1108
ہجری میں ایک عالم گزرے ہیں العلامہ الصالح المقلبی رحہ انکی ایک کتاب ہے جس کا اردو ترجمہ (کتاب کے نام کا اردو ترجمہ=آباواجدادکا لحاظ کئے بغیر حق کا جھنڈا بلند کرنا)اس کتاب کا اردو ترجمہ بالکل نہیں ہوا اس کے مصنف نے بھی بےحد جہاد کیا ہے تاکہ حق لوگوں پر واضح ہوجائےآخر کار مکہ میں آگئے اسی کتاب میں لکھتے ہیں کہ
معاویہ کو دین سے کچھ غرض نہ تھی یہ حکومت اور دنیا کی جاہ پرستی میں مبتلا تھادنیاوی حکومت کے حصول کیلئے اس نے ہر غلط عمل سے بھی احتراز نہ کیا ، خواہ قرآن سے دھوکہ کرنا پڑا یا جھوٹ و فریب کا سہارا لیا، اور صرف اپنی زندگی میں برے کام نہیں کئے بلکہ یزید کیلئے بھی بیعت لینے کا برا کام  اپنی زندگی میں ہی انجام دیا اور جوکوئی یہ کہتا ہے کہ معاویہ نے اجتہاد کیا اور اسکی نیت ٹھیک تھی،یا تو یہ کہنے والا بے شعور ہے جو صرف سنی سنائی باتوں پر چل رہا ہے یا پھر وہ گمراہ ہے اور جان بوجھ کرحق کو چھپا رہا ہے
آخر میں لکھتے ہیں کہ اے اللہ گواہ رہنا کہ یہی ہمارا ایمان ہے
video
Next Video | Add Comment | Related Videos | Go Up | Previous Video

Read More Add your Comment 0 comments


The Loneliest Commander 4 (Urdu) Imam Hassan A.S



قیامت کا ایک دن معین ہے جس دن اللہ تعالیٰ اس تخلیق شدہ کائینات کو تباہ کرکے اسکا اعادہ کرے گا
ایک یہ قیامت ہوگی جس کا علم صرف اللہ کو ہے
اور ایک دوسری قیامت جو اسلام پر آئی مگر امت آج تک لاعلم ہے اور سمجھ نہیں پائی کہ یہ قیامت سے کم نہ تھا کہ جب امت کے بہترین لوگ جن میں عشرہ مبشرہ بھی شامل تھے ان کو کونے میں لگادیا گیا اور ایک ایسا شخص نام نہاد خلیفۃ المسلمین بن گیا جس کے باپ اور خود اسے  اللہ کے رسول صلعم نے فتح مکہ کے موقع پر معافی دی تھی
صحیح بخاری میں غزوہ احزاب کے باب کے تحت تحریر ہے کہ اس شخص کے غرور و تکبر کی حد یہ تھی کہ جب ثالثی کے موقع پر حیلہ و مکاری سے یہ شخص خلیفہ بن گیا تو اس نے لوگوں سے کہا کہ تم میں کون خود کو خلافت کا زیادہ حقدار سمجھتا ہے وہ سر اونچا کرے
عبداللہ بن عمر رضہ نے فرمایا کہ اگر مجھے کوئی خطرہ نہ ہوتا تو میں اسے کہتا کہ حکومت کرنے کا حقدار تم سے زیادہ وہ ہے جس نے تمکو اور تمہارے باپ کو جنگیں لڑکے اسلام قبول کرنے پر مجبور کیا
حضرت عمر رضہ نے فرمایا تھا کہ جن کو فتح مکہ کے موقع کے محمد صلعم نے معاف فرمایا انکا خلافت میں کوئی حصہ نہیں
مگر قیامت ہی ہے کہ اسلام کو سمجھنے والے اور بزرگ و فاتح صحابہ کو اس لائق نہ سمجھاگیا اور وہ لوگ سریر آرائے حکومت ہوگئے جن کا اسلام کل کی بات تھی
علامہ اقبال  کے شعر کے مصداق کہ پہلی نسل کو ہی بادشاہی کا سبق سکھا دیا گیا اور خلافت کا وہ جھنڈا جو محمد صلعم اور انکے صحابہ کرام نے قائم فرمایا تھا اس کو گرادیا
وہی قیصر و کسریٰ کا انداز حکومت، محل دربان، محافظ، اور تلواروں کے سائے، سوچوں پر بھی پابندی
یہ حادثہ اسلام پر قیامت سے کم نہیں تھا

 

video
Next Video | Add Comment | Related Videos | Go Up | Previous Video

Read More Add your Comment 0 comments


The Loneliest Commander 3 (Urdu) Imam Hassan A.S




حضرت علی رضہ پابند صوم صلوٰۃ تھے اور وہ حضرت محمد صلعم کی اسوہء حسنہ کی کامل تصویر تھےانکی زندگی فاقہ و فقر میں بسر ہوتی تھی
انہوں نےایام طفولیت میں ہی محمد صلعم کے دامن عاطفیت میں تربیت پائی تھی، انکی پیشانی نہ تو غیر خدا کے سامنے جھکی اور نہ ہی انکی زبان کبھی کفروشرک کے کلمات سے آلودہ ہوئی، آپکی سیرت علمی و عملی ہر دوپہلو سے جمال محمد سعلم کی آئینہ دار تھی
محمد صلعم نے فرمایا تھا کہ میں علم کا شہر ہوں اور علی رضہ اسکا دروازہ
اسی طرح حضرت علی کے تقویٰ اور عبادت گزاری کے بارے میں حضرت عائشہ رضہ کا فرمان ہے کہ
میں نے علی رضہ سے بڑھ کر کسی کو عبادت گزار نہیں دیکھا
انکے تقدس کا اندازہ حضور اکرم صلعم کے اس فرمان سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ
علی کے چہرے کو دیکھنا بھی عبادت ہے
حضرت حسن رضہ بھی تقویٰ و پرہیزگاری کی مثال تھے
ان کے والد علی رضہ کی شہادت کے بعد مسلمانوں نے حضرت حسن کو خلیفۃالمسلمین چن لیا بالکل اسی طرح جس طرح اللہ نے حکم دیا ہے اور حضرت عمر رضہ بھی شوریٰ کا قیام اسی مقصد کے تحت کیا تھا تاکہ مسلمانوں کا حاکم کتاب اللہ کے مطابق چنا جاسکے
حضرت حسن رضہ کی خلافت کے وقت بھی حالات انتہائی پر آشوب تھے
سازشوں کے جال بچھائے جاچکے تھے
لوگوں کو انکی وقعت کے مطابق درہم و دینار کے بدلے خریدا گیاجو بکا نہیں اسکو خوفزدہ کرکے دبا دیا گیا جو خوفزدہ نہیں ہوا اس کو راستے سے ہٹا دیا گیا
معاویہ کا طرز حکومت تاریخ گواہ ہے کہ بالکل قیصر و کسریٰ جیسا تھا
محمد صلعم کی سادگی اور خلفائے گذشتہ رضہ کی عاجزی معاویہ میں بالکل دکھائی نہ دیتی تھی

video
Next Video | Add Comment | Related Videos | Go Up | Previous Video

Read More Add your Comment 0 comments


The Loneliest Commander 2 (Urdu) Imam Hassan A.S



جس دن ابن ملجم نے آپ رضہ کو مضروب کیا اس سے تیسرے دن تلوار کے زہر میں بجھے ہونے کی وجہ سے آپ کی شہادت واقع ہوئی
اس دوران جند بن عبداللہ نے پوچھا کہ کیا ہم اپ کے بعد حسن رضہ کے ہاتھ پر بیعت کرلیں 
مگر آپ رضہ نے فرمایا کہ میں نہ تم کو اسکا حکم دیتا ہوں اور نہ روکتا ہوں
  کسی نے پوچھا کہ پھر آپ امت کو تنہا چھوڑ جائینگے
حضرت علی نے فرمایا کہ میں تمکو ایسے ہی چھوڑ جاؤں گا جس طرح محمد صلعم امت کو چھوڑ گئے تھے
فلم بنانے والے نے معلوم نہیں کس مآخذ سے استفادہ کیا ہے اگر ہم یہ باور کرلیں کہ حضرت علی رضہ نے اپنے بعد حضرت حسن رضہ کو خلیفۃالمسلمین نامزد فرمادیا تھا تو بات وہیں آکر ٹھہر جاتی ہے کہ یہی کام بعد میں معاویہ نے یزید کے سلسلہ میں کیا تھا جو کہ غلط تھا اور امت میں مزید انتشار کا سبب بنا تھا جس کے عروج پر جانے کی وجہ سے سانحہ کربلا رونما ہواجس کا کرب آج بھی ہمارے دلوں میں جاگزیں ہے

حضرت علی رضہ نے امت مسلمہ کو اللہ کے سپرد کردیا تھا اور نہج البلاغہ میں فرمایا ہے کہ امت کے حکمران، امام یا خلیفہ صرف وہ ہوسکتا ہے جو متقی اور پرہیز گار ہو ، ہر معاملے میں اللہ سے ڈرے اور عدل کرے
انہوں نے خلیفہ کے سلسلے میں بھی یہی فرمایا تھا کہ امت مسلمہ جس کو بہتر سمجھتی ہے اسے خلیفہ چن لے اور اسکی بیعت کرلے
اسی لئے  امت مسلمہ میں بنو ہاشم کے علاوہ کون دیندار اور اللہ سے ڈرنے والا ہوسکتا ہے
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضہ سے مروی ہے کہ جہاں تک میں جانتی ہوں علی رضہ سے بڑھ کر کوئی بھی صوم صلوٰۃ کا پابند اور عبادت گذار نہیں
حضرت علی رضہ کے وصال کے بعد رمضان 40 ہجری میں قیس بن سعد انصاری رضہ نے سب سے پہلے حضرت حسن رضہ کی بیعت کیلئے ہاتھ بڑھایااور اس کے بعد 40 ہزار مسلمانوں نے آپ رضہ کے ہاتھ پر بیعت کی،، مسند خلافت پر متمکن ہونے کے بعد آپ نے پہلے خطبے میں ارشاد فرمایا(خلاصہ درج ذیل ہے)۔۔۔
 
لوگو کل تم سے ایک ایسا شخص بچھڑا ہے اگلے اس سے نہ بڑھ سکے اور پچھلے اسے پا نہ سکیں گے،،محمد صلعم اسے علم دے کر بھیجتے اور تمام گزوات میں فاتح ٹھہرا، میکائیل و جبرائیل اسکے جلو میں ہوتے تھے اس نے 700درہم کے علاوہ کچھ نہیں چھوڑا جو کہ اس کی تنخواہ میں سے بچے تھے جو کہ اس نے ایک غلام خریدنے کیلئے جمع کئے تھے

video 


Next Video | Add Comment | Related Videos | Go Up | Previous Video

Read More Add your Comment 1 comments


The Loneliest Commander 1 (Urdu) Imam Hassan A.S




آنگن رسالت مصطفیٰ خاتم النبیین محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و اصحابہ وسلم کے دو پھول اور سرداران جوانان جنت خیرالنساء فاطمۃالزہرا کے جگر گوشے اور علی المرتضی رضہ فاتح خیبر کے پسر حسن و حسین رضہ میں سے حسن رضہ کی زندگی کی داستان
جسے تاریخ سردار تنہا ترین کے نام سے یاد کرتی ہے
ان کے بارے میں بہت سی غلط فہمیاں ہیں جو کہ اہل سنت اور اہل تشیع دونوں میں پائی جاتی ہیں
ان کے والد حضرت علی نے خوارج کا فتنہ فرو کیا بہت سے خوارج مارے گئے اور کچھ اسلام کی طرف پلٹ آئے اور معافی کے طالب ہوئے

مگر کچھ خوارج نے فرار کیا اور صحراؤں اور جنگلوں میں چھپ گئے اور زیر زمین سرگرمیوں میں ملوث ہوگئے
3 خاری مکہ میں اکٹھا ہوئے اور دیر تک اسلامی سیاسی حالات پر بحث کرنے کے بعد متفق ہوئے کہ اسلامی دنیا میں 3 اشخاص فتنہ اور قل عام کے سبب ہیں لہذا ان کو قتل کردیا جائے تینوں فسطاط، دمشق اور کوفہ کو روانہ ہوئے اور طے پایا کہ تینوں ایک ہی دن حملہ آور ہونگےابن ملجم کوفہ آیا اور قطامہ نامی اوک خارجی عورت کااسیر ہوگیاوہ بھی علی رضہ سے بغض رکھتی تھی اس نے مہر میں علی رضہ کا سر مانگا
ابن ملجم نے ایک مددگار کی مدد سے حملہ کیا حملہ کے بعد اس کا معاون فرار ہوگیامگر ابن ملجم پکڑاگیا، حضرت علی کی شہادت کے بعد ان کی وصیت کے مطابق ابن ملجم کو ایک ہی وار سے قصاص کے بدلے قتل کردیا گیا
video



Next Video | Add Comment | Related Videos | Go Up | Previous Video

Read More Add your Comment 0 comments