Like us on Facebook

Aug 8, 2013

The Maps Tell Truel Story

The truth is that far from being the poor victim it likes to portray itself as, Israel is in fact the most aggressive and belligerent nation in the region, having invaded pretty much everyone it shares a border with. How does a defensive action result in the total conquest of someone else's lands? The answer is that it does not. Israel is the aggressor. The maps of Israel then and now prove it. 
اصلی داستاں یہ ہے کہ دنیا میں یہودیوں کا ایک با اثر گروہ یہودیوں کے لئے ایک مستقل ملک کی داغ بیل اور بنیادڈالنے کی فکر میں تھا ۔ان کی اس فکر سے برطانیہ نے اپنی مشکل حل کرنے کے لئے استفادہ کیا ۔البتہ یہودی پہلے یوگنڈا جانے اور اس کو اپنا ملک بنانےکی فکر میں تھے۔کچھ عرصہ لیبیا کے شہر طرابلس جانے کی فکر میں رہے طرابلس اس دور میں اٹلی کے قبضہ میں تھا اٹلی کی حکومت سے گفتگو کی لیکن اٹلی والوں نے یہودیوں کو منفی جواب دیا۔آخر کار برطانیہ والوں کے ساتھ یہودی مل گئے۔اس دور میں مشرق وسطی میں برطانیہ کے اہم استعماری مقاصد تھے اس نے کہا ٹھیک ہے یہودی اس علاقہ میں آئیں ؛ اور ابتداء میں ایک اقلیت کے عنوان سے وارد ہوں پھر آہستہ آہستہ اپنی تعداد میں اضافہ کریں۔اورمشرق وسطی میں فلسطین کے حساس علاقہ پر اپنا قبضہ جما کرحکومت قائم کرلیں اور برطانیہ کے اتحاد کا حصہ بن جائیں اوراس علاقہ میں عالم اسلام خصوصا عرب ممالک کو متحد نہ ہونے دیں ۔وہ دشمن جس کی باہر سے اس قدر حمایت کی جاتی ہے، وہ مختلف طریقوں اور جاسوسی ہتھکنڈوں کے ذریعہ اختلاف پیدا کرسکتا ہے ؛ اور آخر اس نےیہی کام کیا: ایک ملک کے قریب ہوجاتا ہے دوسرے پر حملہ کرتا ہے ایک کے ساتھ سختی سے پیش آتا ہے دوسرے کے ساتھ نرمی کرتا ہے،اسرائیل کو پہلے برطانیہ اور بعض دوسرے مغربی ممالک کی مدد حاصل رہی ۔ پھر اسرائیل آہستہ آہستہ برطانیہ سے الگ ہوگیا اور امریکہ کے ساتھ مل گیا ؛ امریکہ نے بھی آج تک اسرائیل کواپنے پروں کے سائے میں رکھا ہوا ہے۔یہودیوں نے اس طرح اپنے ملک کو وجود بخشا کہ دوسری جگہوں سے آکر فلسطینیوں کے ملک پر قبضہ کرلیا ۔ انھوں نے اس طرح قبضہ کیا کہ پہلے جنگ نہیں کی بلکہ مکر وفریب اور حیلہ کا راستہ اختیار کیا؛ بڑے بڑے فلسطینیوں کی بڑی بڑی اور سرسبز و شاداب زرعی زمینوں کو دگنی قیمت دیکرخریدا جن پر مسلمان کسان کام کرتے تھے ان زمینوں کے مالک یورپ اور امریکہ میں رہتے تھے۔انھوں نے بھی خدا خدا کرکے زمینوں کو یہودیوں کے حوالے کردیا۔ زمینوں کی فروخت میں بڑے بڑے دلال شامل تھے جن میں سید ضیاء بھی تھا جس کے بارے میں معروف ہے کہ وہ رضا خان کے ساتھ 1299 ھ ش کے کودتا میں شریک تھا ۔یہاں سے فلسطین جاتا اور وہاں دلالی کرتا تھا فلسطینی مسلمانوں سے یہودیوں کے لئے زمینیں خریدتا تھا! انھوں نے زمینیں خریدیں ؛ زمینیں جب ان کی ملکیت بن گئیں، تو انھوں نے پھر بڑی بے دردی ، بے رحمی اور سنگدلی کے ساتھ کسانوں سے وہ زمینیں خالی کرانا شروع کردیں ۔ بعض جگہ فلسطینیوں کو مارتے تھے قتل کرتے تھے اور اس کے ساتھ ساتھ مکر و فریب اور جھوٹ کے ذریعہ عالمی رائے عامہ کو اپنی طرف مبذول کرتے تھے۔
یہودیوں کے فلسطین پر قبضہ کے تین مرحلے ہیں ؛ پہلا مرحلہ عربوں کے ساتھ قساوت اور سنگدلی پر مبنی ہے ۔ زمینوں کے اصلی مالکوں کے ساتھ ان کی رفتاربہت سخت اور شدید تھی ان کے ساتھ کبھی بھی رحم کو روا نہیں رکھتے تھے۔
دوسرا مرحلہ عالمی رائے عامہ کے ساتھ جھوٹ اور مکر وفریب پر مبنی ہے عالمی رائے عامہ کو فریب دینا ان کی عجیب و غریب باتوں میں شامل ہے انھوں نے صہیونی ذرائع ابلاغ کے ذریعہ فلسطین آنے سے قبل و بعد اس قدر جھوٹ بولاکہ ان کےجھوٹ کی بنیاد پر بعض یہودی سرمایہ داروں کو پکڑ لیا ! اور بہت سے لوگوں نے ان کے جھوٹ پر یقین کرلیا ؛یہاں تک کہ فرانس کے رائٹر وسماجی فلسفی "جان پل سیٹر" کو بھی انھوں نے فریب دیدیا ۔ اسی جان پل سیٹرنےایک کتاب لکھی تھی جس کا میں نے 30 سال پہلے مطالعہ کیاتھا اس نے لکھا تھا " بغیر سرزمین کے لوگ اور بغیر لوگوں کے سرزمین " یعنی یہودی وہ لوگ ہیں جن کے پاس سرزمین نہیں تھی وہ فلسطین آئے جہاں سرزمین تھی لیکن لوگ نہیں تھے! یعنی کیا فلسطین میں لوگ نہیں تھے؟ ایک قوم وہاں آباد تھی کام کاج میں مشغول تھی ؛ بہت سے شواہد موجود ہیں ایک غیر ملکی رائٹر لکھتا ہے کہ فلسطین کی تمام سرزمین پر زراعت ہوتی تھی یہ سرزمین تا حد نظر سرسبز و شاداب تھی بغیر لوگوں کے سرزمین کا مطلب کیا؟! دنیا میں یہودیوں نے یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی کہ فلسطین ایک خراب ، ویران اور بدبخت جگہ تھی ؛ ہم نے آکر اس کو آباد کیا!رائے عامہ کو گمراہ کرنے کے لئے اتنا بڑا جھوٹ !
وہ ہمیشہ اپنے آپ کو مظلوم ظاہر کرنے کی کوشش کرتے تھے؛ اب بھی ایسا ہی کرتے ہیں! امریکی جرائد مانند "ٹائم " اور " نیوزویک " کا کبھی مطالعہ کرتا ہوں تو دیکھتا ہوں کہ اگر ایک یہودی خاندان کسی معمولی حادثہ کا شکار ہوجائے تو اس کا بڑا فوٹو ،ہلاک ہونے والے کی عمر اس کے بچوں کی مظلومیت کو بہت بڑا بنا کر پیش کرتے ہیں ؛ لیکن یہی جرائد مقبوضہ فلسطین میں اسرائيل کی طرف سے فلسطینی جوانوں ، عورتوں ، بچوں پر ہونے والے سینکڑوں اور ہزاروں مظالم ،قساوت اور سنگدلی کے واقعات کی طرف معمولی سا اشارہ بھی نہیں کرتے ہیں
تیسرا مرحلہ سازش اور کھوکھلے مذاکرات پر مبنی ہے اور ان کے قول کے مطابق "لابی" ہے، اس حکومت کے ساتھ ، اس شخصیت کے ساتھ ، اس سیاستمدار کے ساتھ ، اس روشن خیال کے ساتھ ، اس رائٹر کے ساتھ ، اس شاعر کے ساتھ بیٹھو گفتگو کرو! ان کے ملک کا کام اب تک مکر وفریب کے ذریعہ ان تین مرحلوں پر چل رہا ہے۔
اس دور میں بیرونی طاقتیں بھی ان کے ساتھ تھیں؛ جن میں سرفہرست برطانیہ تھا ۔ اقوام متحدہ اور اس سے پہلے جامعہ ملل" جو جنگ کے بعد صلح کے معاملات کے لئے تشکیل دیا گیا تھا " بھی ہمیشہ اسرائیل کی حمایت کرتا رہا ؛ اور اسی سال 1948ء میں جامعہ ملل نے ایک قرارداد منظور کی جس میں فلسطین کو بغیر کسی دلیل اور علت کے تقسیم کردیا؛ اس قرارداد میں 57 فیصد اراضی کو یہودیوں کی ملکیت قراردیدیا؛ جبکہ اس سے قبل صرف 5 فیصد فلسطین کی اراضی یہودیوں سے متعلق تھی؛ انھوں نے حکومت تشکیل دی اور اس کے بعد مختلف مسائل رونما ہوئے جن میں فلسطینی دیہاتوں پر حملہ ، شہروں پر حملہ ، فلسطینیوں کے گھروں اور بےگناہ لوگوں پر حملوں کا سلسلہ شروع ہوگیا ؛ البتہ عرب حکومتوں نے بھی اس سلسلے میں کافی کوتاہیاں کی ہیں۔ کئی جنگیں ہوئیں اور 1967 کی جنگ میں اسرائیل نے امریکہ اور بعض مغربی ممالک کی مدد سے مصر ، اردن اور شام کی کچھ سرزمینوں پر بھی قبضہ کرلیا۔اور 1973ء کی جنگ میں بھی اسرائیلیوں نے مغربی طاقتوں کی مدد سے جنگ کا نتیجہ اپنے حق میں کرلیا اور عربوں کی مزيد سرزمین پر اپنا قبضہ جمالیا ۔

Related Articles in Same Category
  • Blogger Comments
  • Facebook Comments

0 comments:

Post a Comment

Press "Hide/Show" To Read Other's Comments

Item Reviewed: The Maps Tell Truel Story Description: HISTORICAL PALESTINE Another claim that Israel likes to make is that Palestine never really existed to start with. "How can we return the occupied territories? There is nobody to return them to." Golda Maier, March 8, 1969. "There was no such thing as Palestinians, they never existed." Golda Maier Israeli Prime Minister June 15, 1969 Oh? The people shall hear, and be afraid: sorrow shall take hold on the inhabitants of Palestina. -- Exodus 15:14 Rejoice not thou, whole Palestina, because the rod of him that smote thee is broken : for out of the serpent's root shall come forth a cockatrice, and his fruit shall be a fiery flying serpent. -- Isaiah 14:29 Howl , O gate; cry , O city; thou, whole Palestina, art dissolved : for there shall come from the north a smoke, and none shall be alone in his appointed times. -- Isaiah 14:31 Yea, and what have ye to do with me, O Tyre, and Zidon, and all the coasts of Palestine?will ye render me a recompence? and if ye recompense me, swiftly and speedily will Ireturn your recompence upon your own head; -- Joel 3:4 And again, the maps tell a different story. Even now, the Israeli media admits that nobody (other than the purported bomber) was actually hurt in this latest bombing. Now, would a real anti-Israel suicide bomber, obviously able to select where and when the bomb is to go off, really choose to detonate the bomb when there is nobody around, damaging ONLY buildings? So, if you are being lied to about the Jerusalem bombings, and with Israel's past use of, indeed PRIDE of, deception as a tool to be used against friend and enemy alike, it's time to take another hard look at the fact that every other nation on Earth except the United States is opposed to what Israel is doing. You know, if the United States REALLY wanted peace in Palestine, all they have to do is stop signing the checks that pay for Israel's war machine. "Every time we do something you tell me America will do this and will do that . . . I want to tell you something very clear: Don't worry about American pressure on Israel. We, the Jewish people, control America, and the Americans know it." -- Israeli Prime Minister, Ariel Sharon, October 3, 2001.How does a defensive action result in the total conquest of someone else's lands? The answer is that it does not. Israel is the aggressor. The maps of Israel then and now prove it. Stop buying into what Sharon claims Israel "has to do" and look at what Israel has actually done. The maps tell the story of a nation eager to conquer lands which do not belong to it. Israel has invaded virtually every nation it shares borders with, including Syria and Lebanon, and as the map above shows has almost conquered Palestine and is ready to "ethnically cleanse" the region. Far from being the poor victimized society desperately defending itself Israel likes to pretend it is in order to wrest more money from Americans, Israel is in fact the most militarily aggressive nation in the region. Israel has ALWAYS portrayed non-Israelis as animals, in order to make it easier for the American tax payers who pay for the weapons accept their killing. And Israel has always resorted to staged terror bombings to further its agenda, such as the Lavon affair and more recently when a supposed suicide bomber turned out to be a known Israeli collaborator. In one recent case photos showed that what was reported as a suicide bomb in Jerusalem was actually a car bomb Rating: 5 Reviewed By: Unknown
Scroll to Top