Like us on Facebook

Sep 4, 2012

Supreme Leader’s Inaugural Speech (Urdu) at the 16th Non-Aligned Summit

ناوابستہ تحریک کے سولہویں سربراہی اجلاس سے قائد انقلاب اسلامی کے خطاب کا ترجمہ
بسم‌ اللّہ ‌الرّحمن ‌الرّحيم‌
الحمد للہ ربّ العالمین و الصلاۃ و السلام علی الرسول الاعظم الامین و علی الہ الطاھرین و صحبہ المنتجبین و علی جمیع الانبیاء و المرسلین
میں آپ معزز مہمانوں ناوابستہ تحریک کے ملکوں کے سربراہوں، نمائندہ وفود اور اس عالمی اجلاس کے دیگر شرکاء کا خیر مقدم کرتاہوں۔
ہم یہاں اس مقصد سے جمع ہوئے ہیں کہ پروردگار کی نصرت و ہدایت سے اس مہم اور تحریک کو، کہ چھے عشرے قبل چند ہمدرد اور فرض شناس سیاسی رہنماؤں کی دانشمندی، حالات کے ادراک اور بیباکی کے نتیجے میں جس کی داغ بیل پڑی تھی، دنیا کے عصری تقاضوں اور حالات کے مطابق آگے بڑھائيں، بلکہ اس میں نئی روح پھونکیں اور نغی جان ڈالیں ۔
جغرافیائی اعتبار سے دور اور نزدیک کے علاقوں سے ہمارے مہمان یہاں تشریف لائے ہیں جن کا تعلق گوناگوں قومیتوں اور نسلوں سے ہے اور جو مختلف اعتقادی، ثقافتی، تاریخی اور وراثتی پس منظر کے حامل ہیں، لیکن جیسا کہ اس تحریک کے بانیوں میں سے ایک، احمد سوکارنو نے سنہ 1955 کے معروف بانڈونگ اجلاس میں کہا تھا، ناوابستہ (تحریک) کی تشکیل کی بنیاد جغرافیائی، نسلی اور دینی مماثلت نہیں بلکہ ضرورتوں کی یکسانیت ہے۔ اس وقت غیر وابستہ تحریک کے رکن ممالک کو ایسے باہمی رابطے کی احتیاج تھی جو انہیں جاہ طلب، سامراجی اور کبھی سیر نہ ہونے والے نظاموں کے تسلط سے محفوظ رکھے، تسلط پسندی کے وسائل کی پیشرفت اور وسعت کے بعد آج بھی یہ ضرورت بدستور موجود ہے۔
میں ایک اور حقیقت پیش کرنا چاہتا ہوں؛
اسلام نے ہمیں یہ درس دیا ہے کہ نسلی، لسانی اور ثقافتی عدم مماثلت کے باوجود انسانوں کے اندر یکساں سرشت موجود ہے جو انہیں پاکیزگی، مساوات، نیکوکاری، ہمدردی اور امداد باہمی کی دعوت دیتی ہے اور یہی عمومی سرشت ہے جو گمراہ کن جذبات سے بحفاظت گزر جانے کی صورت میں انسانوں کو توحید اور ذات اقدس الہی کی معرفت کی سمت لے جاتی ہے۔
اس درخشاں حقیقت میں ایسی بے پناہ صلاحیت ہے کہ وہ آزاد، سربلند اور بیک وقت ترقی اور مساوات سے آراستہ معاشروں کی تشکیل کی بنیاد اور پشت پناہ بن سکتی ہے، انسانوں کی جملہ مادی و دنیاوی سرگرمیوں کو روحانیت کی ضیاء عطا کر سکتی ہے اور اخروی جنت سے قبل جس کا وعدہ ادیان الہیہ نے کیا ہے دنیاوی جنت تعمیر کر سکتی ہے۔ یہی عمومی اور مشترکہ حقیقت ہے جو ان اقوام کے برادرانہ تعاون کی اساس قرار پا سکتی ہے جو ظاہری شکل و شمائل، ماضی کی تاریخ اور جغرافیائی محل وقوع کے لحاظ سے آپس میں کوئی مشابہت نہیں رکھتیں۔
جب اس قسم کی اساس پر عالمی تعاون استوار ہوگا تو حکومتیں خوف و خطر، توسیع پسندی اور یکطرفہ مفادات کی بنیاد پر نہیں اور ضمیر فروش اور خائن افراد کے توسط سے نہیں بلکہ صحتمند مشترکہ مفادات کی بنیاد پر اور اس سے بھی بالاتر انسانیت کے مفادات کے تناظر میں باہمی روابط قائم کریں گی اور اپنے بیدار ضمیروں اور اپنی قوموں کے دلوں کو ہر تشویش سے نجات دلا سکتی ہیں۔
یہ مطلوبہ نظام اس تسلط پسندانہ نظام کے عین مقابل نقطے پر ہے کہ حالیہ صدیوں کے دوران توسیع پسند مغربی حکومتیں اور آج امریکا کی جارح اور استبدادی حکومت جس کی علمبردار، مبلّغ اور دعویدار ہے۔
مہمانان عزیز!
چھے عشرے بیت جانے کے بعد بھی تاحال ناوابستہ تحریک کے اصلی اہداف بدستور زندہ اور قائم ہیں۔؛ استعمار کی نابودی، سیاسی، اقتصادی اور ثقافتی خود مختاری، طاقت کے بلاکوں سے عدم وابستگی اور رکن ممالک کے درمیان یک جہتی اور تعاون کے ارتقاء کے اہداف۔ دنیا کے عصری حقائق اور ان اہداف میں فاصلہ بہت زیادہ ہے لیکن ان حقائق سے گزرتے ہوئے اہداف تک رسائی حاصل کرنے کا اجتماعی ارادہ اور ہمہ گیر سعی و کوشش پرخطر لیکن امید افزاء اور ثمر بخش ہے۔
ماضی قریب میں ہم سرد جنگ کے دور کی پالیسیوں اور اس کے بعد یکطرفہ طرز عمل کی شکست کے شاہد رہے ہیں۔ دنیا اس تاریخی تجربے سے عبرت حاصل کرتے ہوئے ایک بین الاقوامی نظام کی جانب حرکت کر رہی ہے اور ناوابستہ تحریک ( ان حالات میں) ایک نیا کردار ادا کر سکتی ہے اور اسے ایسا ضرور کرنا چاہئے۔ یہ (نیا) نظام عمومی شراکت اور قوموں کے مساوی حقوق کی بنیاد پر تشکیل دیا جانا چاہئے اور اس جدید نظام کی تشکیل کے لئے ہم تحریک کے رکن ممالک کی یکجہتی نمایاں عصری تقاضوں میں سے ایک ہے۔
خوش قسمتی سے عالمی تغیرات کا افق ایک چند قطبی نظام کی خوش خبری دے رہا ہے جس میں طاقت کے روایتی محوروں کی جگہ، گوناگوں اقتصادی، سماجی اور سیاسی سرچشموں سے تعلق رکھنے والے مختلف ممالک، ثقافتوں اور تہذیبوں کا ایک مجموعہ لے رہا ہے۔ یہ حیرت انگیز تبدیلیاں جن کا ہم حالیہ تین عشروں کے دوران مشاہدہ کرتے رہے ہیں، واضح طور پر یہ ثابت کرتی ہیں کہ نئی طاقتوں کا طلوع قدیمی طاقتوں کے زوال کے ہمراہ رہا ہے۔ اقتدار کی یہ منتقلی ناوابستہ ممالک کو یہ موقعہ مہیا کراتی ہے کہ عالمی میدان میں موثر اور مناسب کردار ادا کریں اور روئے زمین پر منصفانہ اور حقیقی معنی میں شراکتی انتظامی نظام کی زمین ہموار کریں۔ ہم ناوابستہ تحریک کے رکن ممالک نظریات اور رجحانات کے اختلاف کے باوجود مشترکہ اہداف کے تناظر میں ایک طویل مدت تک اپنی یکجہتی اور باہمی رابطے کو محفوظ رکھنے میں کامیاب ہوئے ہیں اور یہ کوئی معمولی اور چھوٹی کامیابی نہیں ہے۔ یہ رابطہ منصفانہ اور انسان دوستانہ نظام کی اساس قرار پا سکتا ہے۔
دنیا کے موجودہ حالات ناوابستہ تحریک کے لئے شاید دوبارہ ہاتھ نہ آنے والا موقعہ ہے۔ ہمارا موقف یہ ہے کہ دنیا کے کنٹرول روم کا اختیار مٹھی بھر مغربی ممالک کی آمریت کے چنگل میں نہیں ہونا چاہئے۔ بین الاقوامی انتظامی امور کے میدان میں ایک عالمی جمہوری شراکت ایجاد کرنے اور اسے یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔ یہ ان تمام ممالک کی احتیاج ہے جو چند استبدادی اور تسلط پسند ممالک کی براہ راست یا بالواسطہ مداخلتوں سے نقصان اٹھاتے رہے ہیں اور آج بھی نقصان اٹھا رہے ہیں۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ساخت اور اس کا اسلوب عمل غیر منطقی، غیر منصفانہ اور سراسر غیر جمہوری ہے۔ یہ ایک کھلی ہوئی ڈکٹیٹرشپ، دقیانوسی، منسوخ شدہ اور خارج المیعاد نظام ہے۔ اسی غلط اسلوب عمل سے فائدہ اٹھاتے ہوئے امریکا اور اس کے ہمنوا، شریفانہ مفاہیم کے لباس میں اپنا استبداد دنیا پر مسلط کرنے میں کامیاب ہوئے۔ وہ بات کرتے ہیں انسانی حقوق کی لیکن ان کی مراد مغربی مفادات ہوتے ہیں، وہ بات کرتے ہیں ڈیموکریسی کی لیکن اس کی جگہ مختلف ملکوں میں اپنی فوجی مداخلت کی بنیاد رکھتے ہیں، وہ بات کرتے ہیں دہشت گردی کے خلاف جنگ کی اور شہروں اور قریوں میں آباد نہتے عوام کو اپنے بموں اور ہتھیاروں کی آماجگاہ بنا دیتے ہیں۔ ان کے نقطہ نگاہ کے مطابق بشریت پہلے، دوسرے اور تیسرے درجے کے شہریوں میں تقسیم ہے۔ ایشیا، افریقا اور لاطینی امریکا کے انسانوں کی جانیں بے قیمت اور امریکا و مغربی یورپ میں (بسنے والے انسانوں کی جانیں) بہت قیمتی قرار دی جاتی ہیں۔ امریکا اور یورپ کی سلامتی بہت اہم جبکہ بقیہ انسانوں کی سیکورٹی بے وقعت سمجھی جاتی ہے۔ ایذا رسانی اور قتل اگر کسی امریکی، صیہونی یا ان کے گماشتہ افراد کے ہاتھوں انجام پائے تو جائز اور قابل چشم پوشی ہے۔ ان کی خفیہ جیلیں جو مختلف بر اعظموں میں بے سہارا، وکیل کی سہولت سے محروم اور بغیر کسی عدالتی کارروائی کے قیدیوں سے مذموم ترین اور نفرت انگیز ترین سلوک کی گواہ ہیں ان کے جذبات کو ٹھیس نہیں پہنچاتیں۔ اچھے اور برے کی تعریف پوری طرح یکطرفہ اور امتیازی ہوتی ہے۔ وہ اپنے مفادات کو بین الاقوامی قوانین کا نام دیکر اور اپنی غیر قانونی اور تحکمانہ باتوں کو عالمی برادری (کے مطالبے) کا نام دیکر قوموں پر مسلط کر دیتی ہیں۔ اپنی اجارہ داری والے منظم میڈیا نیٹ ورک کے ذریعے وہ اپنے جھوٹ کو سچ، باطل کو حق اور ظلم کو انصاف پسندی بناکر پیش کرتی ہیں اور ہر اس سچائی کو جو ان کے فریب کو برملا کرتی ہو جھوٹ اور ہر برحق مطالبے کو بغاوت کا نام دے دیتی ہیں۔
دوستو! یہ ناقص اور زیاں بار صورت حال جاری رہنے کے قابل نہیں ہے۔ اس غلط عالمی نظام سے سب تھک چکے ہیں۔ امریکا میں دولت و اقتدار کے مراکز کے خلاف ننانوے فیصدی عوام کی تحریک اور یورپی ممالک میں عوام کا اپنی حکومتوں کی اقتصادی پالیسیوں پر ہمہ گیر اعتراض بھی اس صورت حال سے قوموں کا پیمانہ صبر لبریز ہو جانے کی علامت ہے۔ اس غیر منطقی صورت حال کا کوئی حل تلاش کرنا ضروری ہے۔
ناوابستہ تحریک کے رکن ممالک کا ہمہ جہتی، منطقی اور مستحکم رابطہ راہ حل کی تلاش میں بہت موثر واقع ہو سکتا ہے۔
محترم حاضرین!
بین الاقوامی امن و آشتی عصر حاضر کی انتہائی اہم ضرورتوں میں سے ایک ہے اور عام تباہی کے خطرناک ہتھیاروں کی نابودی ایک فوری ضرورت اور عمومی مطالبہ ہے۔ آج کی دنیا میں سیکورٹی ایک عمومی اور غیر امتیازی احتیاج ہے۔ جو لوگ اپنے اسلحہ خانوں کو انسانیت مخالف ہتھیاروں سے بھر رہے ہیں، خود کو امن عالم کا علمبردار قرار دینے کا حق نہیں رکھتے۔ بلا شبہ یہ (ہتھیار) خود ان کو بھی امن و سلامتی فراہم نہیں کر سکتے۔ بڑے افسوس کی بات ہے کہ آج یہ دیکھنے میں آتا ہے کہ سب سے زیادہ نیوکلیائی ہتھیار رکھنے والے ممالک اپنے فوجی نظام سے ان مہلک وسائل کو ختم کرنے کا حقیقی اور سنجیدہ ارادہ نہیں رکھتے بلکہ انہیں بدستور خطرات کے سد باب کا ذریعہ اور اپنی سیاسی و عالمی ساکھ کا ایک اہم معیار مانتے ہیں۔ یہ تصور بالکل غلط اور ناقابل قبول ہے۔
جوہری ہتھیار سے نہ سیکورٹی حاصل ہوتی ہے اور نہ سیاسی قوت بڑھتی ہے بلکہ یہ (ہتھیار) ان دونوں چیزوں کے لئے خطرناک ہے۔ سنہ انیس سے نوے کے عشرے کے واقعات سے ثابت ہو گیا کہ ان ہتھیاروں کی موجودگی سابق سوویت یونین جیسی حکومت کو بھی بچا نہیں سکتی۔ آج بھی ہم ایسے ملکوں کو جانتے ہیں جو ایٹم بم کے مالک ہونے کے باوجود بد امنی کی زد میں ہیں۔
اسلامی جمہوریہ ایران نیوکلیائی، کیمیائی اور اسی طرح کے دیگر ہتھیاروں کے استعمال کو ناقابل معافی اور عظیم گناہ سمجھتا ہے۔ ہم نے جوہری ہتھیار سے پاک مشرق وسطی کا نعرہ بلند کیا ہے اور اس کی پابندی بھی کر رہے ہیں۔ (لیکن) یہ ایٹمی توانائی کے پرامن استعمال اور ایٹمی ایندھن کی پیداوار کے حق سے دست بردار ہو جانے کے معنی میں ہرگز نہیں ہے۔ عالمی قوانین کی رو سے اس توانائی کا پرامن استعمال تمام ممالک کا حق ہے۔ سب کو اپنے ملک اور اپنی قوم کی مختلف حیاتی ضرورتوں کے تحت اس صاف ستھری انرجی کے استعمال کا موقعہ ملنا چاہئے اور اس حق کا حصول دوسروں پر منحصر نہیں ہونا چاہئے۔ چند مغربی ممالک جن کے پاس نیوکلیائی ہتھیار ہیں اور جو اس غیر قانونی عمل کے مرتکب ہوئے ہیں جوہری ایندھن کی پیداوار پر بھی اپنی اجارہ داری قائم رکھنا چاہتے ہیں۔ مشکوک اقدامات انجام دیئے جا رہے ہیں کہ ایٹمی ایندھن کی پیداوار اور فروخت پر کچھ مراکز کی دائمی اجارہ داری قائم ہو جائے جن کے نام تو بین الاقوامی ہوں لیکن در حقیقت وہ چند مغربی ممالک کے پنجے میں جکڑے ہوئے ہوں۔
ہمارے اس زمانے کا طرفہ تماشا یہ ہے کہ امریکا جس کے پاس سب سے زیادہ مقدار میں انتہائی مہلک ایٹمی ہتھیار اور عام تباہی کے دیگر اسلحے ہیں اور ان کا استعمال کرنے والا جو واحد ملک ہے، آج ایٹمی عدم پھیلاؤ کا علم بردار بننا چاہتا ہے! انہوں نے اور ان کے مغربی ہمنواؤں نے غاصب صیہونی حکومت کو ایٹمی ہتھیاروں سے لیس کرکے اسے اس حساس علاقے کے لئے بہت بڑے خطرے میں تبدیل کر دیا ہے لیکن عیاروں کی یہی جماعت خود مختار ممالک کو جوہری توانائی کا پرامن استعمال کرتے ہوئے بھی نہیں دیکھنا چاہتی۔ یہاں تک کہ نیوکلیائی دواؤں اور دیگر پرامن انسانی مقاصد کے تحت ایٹمی ایندھن کی تیاری میں سد راہ بننے کے لئے اپنی پوری توانائی استعمال کر رہی ہے۔ نیوکلیائی ہتھیاروں کی تعمیر پر تشویش تو ان کا جھوٹا بہانہ ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے سلسلے میں انہیں خود بھی معلوم ہے کہ وہ سراسر جھوٹ بول رہے ہیں! لیکن جب سیاست میں روحانیت کی کوئی رمق باقی نہ رہ جائے تو وہ جھوٹ کو جائز قرار دے دیتی ہے۔ اکیسویں صدی میں جو ایٹمی دھمکی دے اور اس پر اسے شرم بھی نہ آئے کیا وہ دروغ گوئی سے پرہیز یا اس پر شرم کرے گا؟!
میں تاکید کے ساتھ کہہ رہا ہوں کہ اسلامی جمہوریہ ایران جوہری ہتھیاروں کے حصول کی کوشش میں نہیں ہے۔ ساتھ ہی پر امن مقاصد کے تحت جوہری توانائی کے استعمال کے حق سے ہرگز چشم پوشی بھی نہیں کرے گی۔ ہمارا نعرہ ہے؛ "جوہری توانائی سب کے لئے، ایٹمی ہتھیار کسی کے لئے نہیں"۔ ہم ان دونوں باتوں پر اصرار کرتے رہیں گے۔ ہمیں علم ہے کہ ایٹمی عدم پھیلاؤ کے معاہدے کے تناظر میں ایٹمی ایندھن کی پیداوار پر چند مغربی ممالک کی اجارہ داری کا خاتمہ تمام خود مختار ممالک منجملہ ناوابستہ تحریک کے رکن ممالک کے مفاد میں ہے۔
امریکا اور اس کے اتحادیوں کے دباؤ اور زبردستی کے سامنے کامیاب استقامت کے تین عشروں کے تجربے سے اسلامی جمہوریہ اس حتمی یقین پرپہنچ چکی ہے کہ ایک متحد اور عزم محکم رکھنے والی قوم کی استقامت تمام مخاصمتوں اور دشمنیوں پر غلبہ پانے اور اعلی اہداف کی جانب لے جانے والا پرافتخار راستہ تعمیر کرنے پر قادر ہے۔ گزشتہ دو عشروں میں ہمارے ملک کی ہمہ گیر ترقی ایک ایسی حقیقت ہے جو سب کی نظروں کے سامنے ہے اور اس پر نظر رکھنے والے بین الاقوامی اداروں نے بار بار اس کا اعتراف کیا ہے۔ یہ سب کچھ پابندیوں، اقتصادی دباؤ اور امریکا و صیہونزم سے وابستہ چینلوں کی زہر افشانیوں کے عالم میں حاصل ہوا ہے۔ پابندیاں، جنہیں کچھ مہمل باتیں کرنے والے، کمر شکن قرار دے رہے تھے، نہ صرف یہ کہ کمر شکن ثابت نہیں ہوئیں اور نہ آئندہ ہوں گی بلکہ ان کی وجہ سے ہمارے قدم مزید مستحکم اور ہماری ہمتیں اور بھی بلند ہوئیں اور اپنے تجزیوں کی درستگی اور اپنی قوم کی داخلی توانائی پر ہمارا اطمینان و بھروسہ اور بھی پختہ ہو گیا۔ ہم نے ان چیلنجوں کا سامنا کرتے وقت نصرت الہی کا منظر بارہا اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔
مہمانان گرامی!
میں یہاں ایک انتہائی اہم مسئلے کا ذکر کرنا چاہتا ہوں۔ اگرچہ اس کا تعلق ہمارے علاقے سے ہے لیکن اس کے وسیع پہلوؤں کا دائرہ علاقے سے باہر تک پھیل گیا ہے اور اس نے کئی عشروں سے عالمی سیاست کو بھی متاثر کیا ہے۔ وہ فلسطین کا دردناک مسئلہ ہے۔ اس مسئلے کا خلاصہ یہ ہے کہ ایک آزاد اور واضح تاریخی شناخت رکھنے والا فلسطین نامی ملک بیسویں صدی کی چالیس کی دہائی میں برطانیہ کی سرکردگی میں وحشتناک مغربی سازش کے تحت طاقت، اسلحہ، قتل عام اور فریب و عیاری کے ذریعے اس کی (مالک) قوم سے ہڑپ کر ایک ایسی جماعت کو سونپ دیا گیا جس کی اکثریت کو یورپی ممالک سے مہاجرت کرواکے لایا گيا تھا۔ یہ سنگین غاصبانہ کارروائی جو شہروں اور قریوں میں نہتے عوام کے قتل عام، ان کے گھربار سے ہمسایہ ممالک کی جانب ان کی جبری نقلی مکانی کے ساتھ انجام پائی، چھے عشروں سے زیادہ کی اس مدت میں انہی مجرمانہ اقدامات کے ساتھ بدستور جاری ہے۔ یہ انسانی معاشرے کا ایک اہم ترین مسئلہ ہے۔ غاصب صیہونی حکومت کے سیاسی و فوجی قائدین نے اس عرصے میں کسی بھی جرم کے ارتکاب سے دریغ نہیں کیا ہے؛ انسانوں کے قتل عام، ان کے گھروں اور کھیتوں کی تباہی، مردوں، عورتوں حتی بچوں کی گرفتاری اور انہیں دی جانے والی ایذاؤں سے لیکر اس قوم کی توہین اور تحقیر، صیہونی حکومت کے حرام خوری کے عادی معدے میں اسے نابود کر دینے کی کوششوں اور فلسطین اور ہمسایہ ممالک میں ان کے پناہ گزیں کیمپوں پر حملوں تک جن میں دسیوں لاکھ کی تعداد میں مہاجرین پناہ لئے ہوئے ہیں، (کسی بھی مجرمانہ کارروائی سے انہوں نے دریغ نہیں کیا)۔ صبرا، شتیلا، قانا، دیر یاسین وغیرہ کے نام ہمارے علاقے کی تاریخ میں مظلوم فلسطینی عوام کے خون سے لکھے گئے ہیں۔ آج 65 سال بعد مقبوضہ علاقوں میں باقی رہ جانے والوں کے خلاف ان صیہونی درندوں کی یہی مجرمانہ کارروائیاں اب بھی انجام پا رہی ہیں۔ وہ پے در پے نئے نئے جرائم انجام دے رہے ہیں اور علاقے کو ایک نئے بحران سے دوچار کر رہے ہیں۔ شاید ہی کوئی دن ایسا ہو جب ان نوجوانوں کے قتل ہونے، زخمی ہونے اور گرفتار کر لئے جانے کی خبریں نہ آتی ہوں جو دفاع وطن میں اور اپنے وقار کی بازیابی کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے ہیں اور اپنے گھروں اور کھیتوں کی نابودی پر صدائے احتجاج بلند کر رہے ہیں۔ صیہونی حکومت جس نے تباہ کن جنگوں کی آگ بھڑکا کر، انسانوں کا قتل عام کرکے، عرب علاقوں کو غصب کرکے اور علاقائی و عالمی سطح پر ریاستی دہشت گردی کا بازار گرم کرکے دسیوں سال سے قتل و غارتگری اور شرپسندی کی آگ بھڑکا رکھی ہے، فلسطینی قوم کو جس نے اپنے حقوق کی بازیابی کے لئے قیام کیا ہے اور جدوجہد کر رہی ہے، دہشت گرد قرار دیتی ہے اور صیہونزم سے تعلق رکھنے والے چینل اور بہت سے بکے ہوئے مغربی ذرائع ابلاغ بھی اپنی اخلاقی ذمہ داریوں اور میڈیا کے اصولوں کو پامال کرتے ہوئے اس کذب محض کو دہراتے ہیں۔ انسانی حقوق کے بلند بانگ دعوے کرنے والے سیاسی رہنما بھی ان تمام جرائم پر اپنی آنکھیں بند کئے ہوئے ہیں اور کسی بھی شرم و حیا کا احساس کئے بغیر، المئے رقم کرنے والی اس حکومت کے حامی بنے ہیں اور اس کے وکیل اور محافظ کا کردار ادا کر رہے ہیں۔
ہمارا موقف یہ ہے کہ فلسطین فلسطینیوں کی ملکیت ہے اور اس پر غاصبانہ قبضے کا تسلسل بہت بڑا اور ناقابل برداشت ظلم اور عالمی امن و سلامتی کے لئے ایک سنگین خطرہ ہے۔ مسئلہ فلسطین کے حل کے لئے مغرب والوں اور ان سے وابستہ لوگوں نے جتنی بھی تجاویز پیش کی ہیں سب غلط اور ناکام ثابت ہوئی ہیں اور آئندہ بھی یہی ہوگا۔ ہم نے بہت منصفانہ اور مکمل جمہوری راہ حل پیش کی ہے کہ تمام فلسطینی خواہ یہاں کے موجودہ باشندے ہوں یا وہ افراد جنہیں دوسرے ملکوں کی جانب جبرا ہجرت کروا دی گئی اور جنہوں نے اب تک اپنی فلسطینی شناخت قائم رکھی ہے، وہ مسلمان ہوں، یہودی ہوں یا عیسائی، سب دقیق نگرانی میں انجام پانے والے اطمینان بخش استصواب رائے میں شرکت کریں اور اس ملک کے سیاسی نظام کے ڈھانچے کا انتخاب کریں، تمام فلسطینی جو برسوں سے بے وطنی کا دکھ جھیل رہے ہیں اپنے وطن لوٹیں اور اس ریفرنڈم اور اس کے بعد آئین کی تدوین اور انتخابات میں حصہ لیں۔ اسی صورت میں امن قائم ہو سکتا ہے۔
یہاں میں امریکی سیاست دانوں کو، جو تا حال ہمیشہ صیہونی حکومت کے محافظ اور پشت پناہ کی حیثیت سے میدان میں رہے ہیں، ایک خیر خواہانہ نصیحت کرنا چاہوں گا۔ اس حکومت نے اب تک آپ کے لئے بے شمار درد سر کھڑے کئے ہیں، علاقے کی قوموں کے اندر آپ کو نفرت انگیز اور آپ کو ان کی نگاہوں میں غاصب صیہونیوں کا شریک جرم بنا کر پیش کیا ہے۔ ان برسوں کے دوران اس راستے پر چلنے کی وجہ سے امریکی حکومت اور عوام کو جو مادی اور اخلاقی خسارہ اٹھانا پڑا ہے وہ وحشتناک ہے اور شاید اگر مستقبل میں بھی یہی روش جاری رہی تو آپ کو اور بھی بڑی قیمت چکانی پڑ سکتی ہے۔ آئيے! ریفرنڈم کے سلسلے میں اسلامی جمہوریہ کی تجویز پر غور کیجئے اور شجاعانہ فیصلے کے ذریعے خود کو کبھی نہ حل ہونے والی اس گتھی سے نجات دلائيے! یقینا علاقے کے عوام اور روئے زمین کے تمام آزاد فکر انسان اس اقدام کا خیر مقدم کریں گے۔
مہمانان محترم!
میں ایک بار پھر اپنی شروعاتی گفتگو کی جانب پلٹنا چاہوں گا۔ دنیا کے حالات بہت حساس ہیں اور دنیا بڑے اہم اور تاریخی موڑ سے گزر رہی ہے۔ امید ہے کہ ایک نیا نظام جنم لے رہا ہے۔ ناوابستہ تحریک میں عالمی برادری کے دو تہائی سے زیادہ ارکان شامل ہیں جو مستقبل کے خدو خال طے کرنے میں بہت اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ تہران میں اس عظیم اجلاس کا انعقاد خود بھی بہت بامعنی واقعہ ہے جسے اندازوں اور تخمینوں میں مد نظر رکھنا چاہئے۔ ہم اس تحریک کے ارکان اپنی وسیع صلاحیتوں اور امکانات کے باہمی فروغ کے ذریعے دنیا کو بدامنی، جنگ اور تسلط پسندی سے نجات دلانے کے سلسلے میں یادگار اور تاریخی کردار ادا کر سکتے ہیں۔
یہ ہدف آپس میں ہمارے ہمہ جہتی تعاون سے ہی حاصل ہو سکتا ہے۔ ہمارے درمیان انتہائی دولت مند ممالک اور گہرا عالمی اثر و رسوخ رکھنے والے ممالک کی تعداد کم نہیں ہے۔ اقتصادی اور میڈیا کے میدان میں تعاون اور آگے لے جانے اور بلندیوں پر پہنچانے والے تجربات کے تبادلے کی صورت میں مشکلات کا حل یقینی طور پر ممکن ہو جائے گا۔ ہمیں چاہئے کہ اپنے عزم و ارادے کو مستحکم کریں، اہداف کے تئیں وفادار رہیں، توسیع پسند طاقتوں کے غیظ و غضب سے نہ ڈریں اور ان کی مسکراہٹوں کے جھانسے میں نہ آئیں، ارادہ الہی اور قوانین خلقت کو اپنا پشت پناہ سمجھیں، دو عشرے قبل کمیونسٹ محاذ کی شکست اور موجودہ دور میں مغرب کی نام نہاد لبرل ڈیموکریسی کی پالیسیوں کی شکست کو، جس کے آثار یورپی ممالک اور امریکا کی سڑکوں پر اور ان ممالک کی معیشتوں کو در پیش لا ینحل مشکلات کی صورت میں سب کے سامنے ہیں، عبرت کی نظر سے دیکھیں۔ اور آخری بات یہ کہ شمالی افریقا میں امریکا پر منحصر اور صیہونی حکومت کے مددگار آمروں کی سرنگونی اور علاقے کے ملکوں میں پھیلی اسلامی بیداری کو ہمیں بہت بڑا موقعہ سمجھنا چاہئے۔ ہم عالمی نظم و نسق میں ناوابستہ تحریک کے سیاسی کردار کو فروغ دینے کے بارے میں غور کر سکتے ہیں، اس انتظامی سسٹم میں تبدیلی لانے کے لئے ایک تاریخی دستاویز کی تدوین اور اس کے اجراء کے وسائل فراہم کر سکتے ہیں، ہم موثر اقتصادی تعاون کی جانب پیش قدمی کی منصوبہ بندی اور اپنے درمیان ثقافتی رابطوں کے نمونوں کا تعین کر سکتے ہیں۔ ایک فعال اور باہدف سکریٹریئيٹ کی تشکیل ان اہداف کے حصول میں بہت موثر اور مددگار ہو سکتی ہے۔
میں (آپ سب کا) شکر گزار ہوں۔
Related Articles in Same Category
  • Blogger Comments
  • Facebook Comments

0 comments:

Post a Comment

Press "Hide/Show" To Read Other's Comments

Item Reviewed: Supreme Leader’s Inaugural Speech (Urdu) at the 16th Non-Aligned Summit Description: The following is the full text of Ayatollah Khamenei’s inaugural address delivered on August 30, 2012 at the 16th Non-Aligned Summit in Tehran. To Listen in Persian with Urdu Translation scroll Down Page to Video Player at end of this Text To read in Urdu Click Here In the Name of Allah, the Beneficent, the Merciful All praise belongs to Allah, the Lord of the Two Worlds, and may peace and blessings be upon the greatest and trustworthy Messenger and on his pure progeny, his select companions, and all the prophets and divine envoys. I welcome you honorable guests, the leaders and delegations representing the member states of the Non-Aligned Movement, and all the other participants of this great international summit. We have gathered here to continue a movement with God’s guidance and assistance and to give it new life and momentum on the basis of the current conditions and needs in the world. The movement was founded almost six decades ago thanks to the intelligence and courage of a few caring and responsible political leaders who were aware of the conditions and circumstances of their time. Our guests have gathered here from different geographical locations, far and near, and they belong to different nationalities and races with different ideological, cultural and historical characteristics, but just as Ahmad Sukarno, one of the founders of this movement said in the famous Bandung Conference in the year 1955, the basis of establishing the Non-Aligned Movement is not geographical or racial and religious unity, but rather unity of needs. At that time, the member states of the Non-Aligned Movement were in need of a bond that could safeguard them against authoritarian, arrogant and insatiable networks and today with the progress and spread of the instruments of hegemony, this need still exists. I would like to point out another truth. Islam has taught us that in spite of their racial, linguistic and cultural differences, human beings share the same nature, which calls them to purity, justice, benevolence, compassion and cooperation. It is this universal human nature which – if it can safely steer away from misleading motives – guides human beings to monotheism and understanding of God’s transcendent essence. This brilliant truth has such potential that it can form the foundation of societies which are free and proud and at the same time enjoy progress and justice. It can extend the light of spirituality to all material and worldly endeavors of humankind and it can create a paradise on earth for human beings in advance of the other-worldly paradise, which has been promised by divine religions. And it is this common and universal truth that can form the foundations of brotherly cooperation among the nations that do not share any similarities in terms of outward structures, historical background and geographical location. Whenever international cooperation is based on such a foundation, governments will build their relationships with each other not on the basis of fear and threats, or greed and unilateral interests, or mediation of treasonous and venal individuals, but on the basis of wholesome and shared interests and more importantly, the interests of humanity. In this way, governments can relieve their awakened consciences and put the minds of their peoples at ease. This values-based order is the exact opposite of the hegemony-based order, which has been upheld, propagandized and led by hegemonic Western powers in the recent centuries and by the domineering and aggressive government of America today. Dear guests, today after the passage of nearly six decades, the main values of the Non-Aligned Movement remain alive and steady: values such as anti-colonialism, political, economic and cultural independence, non-alignment with any power blocs, and improving solidarity and cooperation among the member states. The realities of today’s world fall short of those values, but the collective will and comprehensive efforts to change the existing realities and achieve these values, though full of challenges, are promising and rewarding. In the recent past, we have been witness to the failure of the policies of the Cold War era and the unilateralism that followed it. Having learnt lessons from this historical experience, the world is in transition towards a new international order and the Non-Aligned Movement can and should play a new role. This new order should be based on the participation of all nations and equal rights for all of them. And as members of this movement, our solidarity is an obvious necessity in the current era for establishing this new order. Fortunately, the outlook of global developments promises a multi-faceted system in which the traditional power blocs are replaced with a group of countries, cultures and civilizations from different economic, social and political origins. The striking events that we have witnessed over the past three decades clearly show that the emergence of new powers has coincided with the decline of the traditional powers. This gradual transition of power provides the non-aligned countries with an opportunity to play a significant and worthy role on the world stage and prepare the ground for a just and truly participatory global management. In spite of varying perspectives and orientations, we member states of this movement have managed to preserve our solidarity and bond over a long period of time within the framework of the shared values and this is not a simple and small achievement. This bond can prepare the ground for transitioning to a just and humane order. Current global conditions provide the Non-Aligned Movement with an opportunity that might never arise again. Our view is that the control room of the world should not be managed by the dictatorial will of a few Western countries. It should be possible to establish and ensure a participatory system for managing international affairs, one that is global and democratic. This is what is needed by all the countries that have been directly or indirectly harmed as a result of the transgression of a few bullying and hegemonic countries. The UN Security Council has an illogical, unjust and completely undemocratic structure and mechanism. This is a flagrant form of dictatorship, which is antiquated and obsolete and whose expiry date has passed. It is through abusing this improper mechanism that America and its accomplices have managed to disguise their bullying as noble concepts and impose it on the world. They protect the interests of the West in the name of “human rights”. They interfere militarily in other countries in the name of “democracy”. They target defenseless people in villages and cities with their bombs and weapons in the name of “combating terrorism”. From their perspective, humanity is divided into first-, second- and third-class citizens. Human life is considered cheap in Asia, Africa and Latin America, and expensive in America and Western Europe. The security of America and Europe is considered important, while the security of the rest of humanity is considered unimportant. Torture and assassination are permissible and completely ignored if they are carried out by America, the Zionists and their puppets. It does not trouble their conscience that they have secret prisons in various places on different continents, in which defenseless prisoners who have no legal representation and have not been tried in a court of law are treated in the most hideous and detestable way. Good and evil are defined in a completely one-sided and selective way. They impose their interests on the nations of the world in the name of “international law”. They impose their domineering and illegal demands in the name of “international community”. Using their exclusive and organized media network, they disguise their lies as the truth, their falsehood as true, and their oppression as efforts to promote justice. In contrast, they brand as lies every true statement that exposes their deceit and label every legitimate demand as roguish. Friends, this flawed and harmful situation cannot continue. Everybody has become tired of this faulty international structure. The 99 percent movement of the American people against the centers of wealth and power in America and the widespread protests of the people in Western Europe against the economic policies of their governments show that the people are losing their patience with this situation. It is necessary to remedy this irrational situation. Firm, logical and comprehensive bonds between member states of the Non-Aligned Movement can play an important role in finding a remedy. Honorable audience, international peace and security are among the critical issues of today’s world and the elimination of catastrophic weapons of mass destruction is an urgent necessity and a universal demand. In today’s world, security is a shared need where there is no room for discrimination. Those who stockpile their anti-human weapons in their arsenals do not have the right to declare themselves as standard-bearers of global security. Undoubtedly, this will not bring about security for themselves either. It is most unfortunate to see that countries possessing the largest nuclear arsenals have no serious and genuine intention of removing these deadly weapons from their military doctrines and they still consider such weapons as an instrument that dispels threats and as an important standard that defines their political and international position. This conception needs to be completely rejected and condemned. Nuclear weapons neither ensure security, nor do they consolidate political power, rather they are a threat to both security and political power. The events that took place in the 1990s showed that the possession of such weapons could not even safeguard a regime like the former Soviet Union. And today we see certain countries which are exposed to waves of deadly insecurity despite possessing atomic bombs. The Islamic Republic of Iran considers the use of nuclear, chemical and similar weapons as a great and unforgivable sin. We proposed the idea of “Middle East free of nuclear weapons” and we are committed to it. This does not mean forgoing our right to peaceful use of nuclear power and production of nuclear fuel. On the basis of international laws, peaceful use of nuclear energy is a right of every country. All should be able to employ this wholesome source of energy for various vital uses for the benefit of their country and people, without having to depend on others for exercising this right. Some Western countries, themselves possessing nuclear weapons and guilty of this illegal action, want to monopolize the production of nuclear fuel. Surreptitious moves are under way to consolidate a permanent monopoly over production and sale of nuclear fuel in centers carrying an international label but in fact within the control of a few Western countries. A bitter irony of our era is that the U.S. government, which possesses the largest and deadliest stockpiles of nuclear arms and other weapons of mass destruction and the only country guilty of its use, is today eager to carry the banner of opposition to nuclear proliferation. The U.S. and its Western allies have armed the usurper Zionist regime with nuclear weapons and created a major threat for this sensitive region. Yet the same deceitful group does not tolerate the peaceful use of nuclear energy by independent countries, and even opposes, with all its strength, the production of nuclear fuel for radiopharmaceuticals and other peaceful and humane purposes. Their pretext is fear of production of nuclear weapons. In the case of the Islamic Republic of Iran, they themselves know that they are lying, but lies are sanctioned by the kind of politics that is completely devoid of the slightest trace of spirituality. One who makes nuclear threats in the 21st century and does not feel ashamed, will he feel ashamed of lying? I stress that the Islamic Republic has never been after nuclear weapons and that it will never give up the right of its people to use nuclear energy for peaceful purposes. Our motto is: “Nuclear energy for all and nuclear weapons for none.” We will insist on each of these two precepts, and we know that breaking the monopoly of certain Western countries on production of nuclear energy in the framework of the Non-Proliferation Treaty is in the interest of all independent countries, including the members of the Non-Aligned Movement. The Islamic Republic's successful experience in resistance against the bullying and comprehensive pressures by America and its accomplices has firmly convinced it that the resistance of a unified and firmly determined nation can overcome all enmities and hostilities and open a glorious path to its lofty goals. The comprehensive advances made by our country in the last two decades are facts for all to see, as repeatedly attested by official international observers. All this has happened under sanctions, economic pressures and propaganda campaigns by networks affiliated with America and Zionism. The sanctions, which were regarded as paralyzing by nonsensical commentators, not only did not and will not paralyze us, but have made our steps steadier, elevated our resolve and strengthened our confidence in the correctness of our analyses and the inborn capacities of our nation. We have with our own eyes repeatedly witnessed divine assistance in these challenges. Honored guests, I deem it necessary to speak about a very important issue, which though related to our region has dimensions extending far beyond it and which has influenced global policies for several decades. This issue is the agonizing issue of Palestine. The summary of this matter is that on the basis of a horrible Western plot and under the direction of England in the 1940s, an independent country with a clear historical identity called “Palestine” has been taken away from its people through the use of weapons, killings and deception and has been given to a group of people the majority of whom are immigrants from European countries. This great usurpation – which at the outset was accompanied with massacres of defenseless people in towns and villages and their expulsion from their homes and homeland to bordering countries – has continued for more than six decades with similar crimes and continues to this very day. This is one of the most important issues of the human community. Political and military leaders of the usurping Zionist regime have not avoided any crimes during this time: from killing the people, destroying their homes and farms and arresting and torturing men and women and even their children, to humiliating and insulting that nation and trying to destroy it in order to digest it in the haraam-eating stomach of the Zionist regime, to attacking their refugee camps in Palestine itself and in the neighboring countries where millions of refugees live. Such names as Sabra and Shatila, Qana and Deir Yasin have been etched in the history of our region with the blood of the oppressed Palestinian people. Even now after 65 years the same kind of crimes marks the treatment of Palestinians remaining in the occupied territories by the ferocious Zionist wolves. They commit new crimes one after the other and create new crises for the region. Hardly a day passes without reports of murder, injury and arrests of the youth who stand up to defend their homeland and their honor and protest against the destruction of their farms and homes. The Zionist regime, which has carried out assassinations and caused conflicts and crimes for decades by waging disastrous wars, killing people, occupying Arab territories and organizing state terror in the region and in the world, labels the Palestinian people as “terrorists”, the people who have stood up to fight for their rights. And the media networks which belong to Zionism and many of the Western and mercenary media repeat this great lie in violation of ethical values and journalistic commitment, and the political leaders who claim to defend human rights have closed their eyes on all these crimes and support that criminal regime shamelessly and boldly and assume the role of their advocates. Our standpoint is that Palestine belongs to the Palestinians and that continuing its occupation is a great and intolerable injustice and a major threat to global peace and security. All solutions suggested and followed up by the Westerners and their affiliates for “resolving the problem of Palestine” have been wrong and unsuccessful, and it will remain so in the future. We have put forth a just and entirely democratic solution. All the Palestinians – both the current citizens of Palestine and those who have been forced to immigrate to other countries but have preserved their Palestinian identity, including Muslims, Christians and Jews – should take part in a carefully supervised and confidence-building referendum and chose the political system of their country, and all the Palestinians who have suffered from years of exile should return to their country and take part in this referendum and then help draft a Constitution and hold elections. Peace will then be established. Now I would like to give a benevolent piece of advice to American politicians who always stood up to defend and support the Zionist regime. So far, this regime has created countless problems for you. It has presented a hateful image of you to the regional peoples, and it has made you look like an accomplice in the crimes of the usurping Zionists. The material and moral costs borne by the American government and people on account of this are staggering, and if this continues, the costs might become even heavier in the future. Think about the Islamic Republic's proposal of a referendum and with a courageous decision, rescue yourselves from the current impossible situation. Undoubtedly, the people of the region and all free-thinkers across the world will welcome this measure. Honorable guests, now I would like to return to my initial point. Global conditions are sensitive and the world is passing through a crucial historical juncture. It is anticipated that a new order shall be born. The Non-Aligned Movement, which includes almost two-thirds of the world community, can play a major role in shaping that future. The holding of this major conference in Tehran is itself a significant event to be taken into consideration. By pooling our resources and capacities, we members of this movement can create a new historic and lasting role towards rescuing the world from insecurity, war and hegemony. This goal can be achieved only through our comprehensive cooperation with each other. There are among us quite a few countries that are very wealthy and countries that enjoy international influence. It is completely possible to find solutions for problems through economic and media cooperation and through passing on experiences that help us improve and make progress. We need to strengthen our determination. We need to remain faithful to our goals. We should not fear the bullying powers when they frown at us, nor should we become happy when they smile at us. We should consider the will of God and the laws of creation as our support. We should learn lessons from what happened to the communist camp two decades ago and from the failure of the policies of so-called “Western liberal democracy” at the present time, whose signs can be seen by everybody in the streets of European countries and America and in the insoluble economic problems of these countries. And finally, we should consider the Islamic Awakening in the region and the fall of the dictatorships in North Africa, which were dependent on America and were accomplices to the Zionist regime, as a great opportunity. We can help improve the “political productivity” of the Non-Aligned Movement in global governance. We can prepare a historic document aimed to bring about a change in this governance and to provide for its administrative tools. We can plan for effective economic cooperation and define paradigms for cultural relationships among ourselves. Undoubtedly, establishing an active and motivated secretariat for this organization will be a great and significant help in achieving these goals. Thank you. ناوابستہ تحریک کے سولہویں سربراہی اجلاس سے قائد انقلاب اسلامی کے خطاب کا ترجمہ انگریزی میں خطاب کا ترجمہ پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں بسم‌ اللّہ ‌الرّحمن ‌الرّحيم‌ الحمد للہ ربّ العالمین و الصلاۃ و السلام علی الرسول الاعظم الامین و علی الہ الطاھرین و صحبہ المنتجبین و علی جمیع الانبیاء و المرسلین میں آپ معزز مہمانوں ناوابستہ تحریک کے ملکوں کے سربراہوں، نمائندہ وفود اور اس عالمی اجلاس کے دیگر شرکاء کا خیر مقدم کرتاہوں۔ ہم یہاں اس مقصد سے جمع ہوئے ہیں کہ پروردگار کی نصرت و ہدایت سے اس مہم اور تحریک کو، کہ چھے عشرے قبل چند ہمدرد اور فرض شناس سیاسی رہنماؤں کی دانشمندی، حالات کے ادراک اور بیباکی کے نتیجے میں جس کی داغ بیل پڑی تھی، دنیا کے عصری تقاضوں اور حالات کے مطابق آگے بڑھائيں، بلکہ اس میں نئی روح پھونکیں اور نغی جان ڈالیں ۔ جغرافیائی اعتبار سے دور اور نزدیک کے علاقوں سے ہمارے مہمان یہاں تشریف لائے ہیں جن کا تعلق گوناگوں قومیتوں اور نسلوں سے ہے اور جو مختلف اعتقادی، ثقافتی، تاریخی اور وراثتی پس منظر کے حامل ہیں، لیکن جیسا کہ اس تحریک کے بانیوں میں سے ایک، احمد سوکارنو نے سنہ 1955 کے معروف بانڈونگ اجلاس میں کہا تھا، ناوابستہ (تحریک) کی تشکیل کی بنیاد جغرافیائی، نسلی اور دینی مماثلت نہیں بلکہ ضرورتوں کی یکسانیت ہے۔ اس وقت غیر وابستہ تحریک کے رکن ممالک کو ایسے باہمی رابطے کی احتیاج تھی جو انہیں جاہ طلب، سامراجی اور کبھی سیر نہ ہونے والے نظاموں کے تسلط سے محفوظ رکھے، تسلط پسندی کے وسائل کی پیشرفت اور وسعت کے بعد آج بھی یہ ضرورت بدستور موجود ہے۔ میں ایک اور حقیقت پیش کرنا چاہتا ہوں؛ اسلام نے ہمیں یہ درس دیا ہے کہ نسلی، لسانی اور ثقافتی عدم مماثلت کے باوجود انسانوں کے اندر یکساں سرشت موجود ہے جو انہیں پاکیزگی، مساوات، نیکوکاری، ہمدردی اور امداد باہمی کی دعوت دیتی ہے اور یہی عمومی سرشت ہے جو گمراہ کن جذبات سے بحفاظت گزر جانے کی صورت میں انسانوں کو توحید اور ذات اقدس الہی کی معرفت کی سمت لے جاتی ہے۔ اس درخشاں حقیقت میں ایسی بے پناہ صلاحیت ہے کہ وہ آزاد، سربلند اور بیک وقت ترقی اور مساوات سے آراستہ معاشروں کی تشکیل کی بنیاد اور پشت پناہ بن سکتی ہے، انسانوں کی جملہ مادی و دنیاوی سرگرمیوں کو روحانیت کی ضیاء عطا کر سکتی ہے اور اخروی جنت سے قبل جس کا وعدہ ادیان الہیہ نے کیا ہے دنیاوی جنت تعمیر کر سکتی ہے۔ یہی عمومی اور مشترکہ حقیقت ہے جو ان اقوام کے برادرانہ تعاون کی اساس قرار پا سکتی ہے جو ظاہری شکل و شمائل، ماضی کی تاریخ اور جغرافیائی محل وقوع کے لحاظ سے آپس میں کوئی مشابہت نہیں رکھتیں۔ جب اس قسم کی اساس پر عالمی تعاون استوار ہوگا تو حکومتیں خوف و خطر، توسیع پسندی اور یکطرفہ مفادات کی بنیاد پر نہیں اور ضمیر فروش اور خائن افراد کے توسط سے نہیں بلکہ صحتمند مشترکہ مفادات کی بنیاد پر اور اس سے بھی بالاتر انسانیت کے مفادات کے تناظر میں باہمی روابط قائم کریں گی اور اپنے بیدار ضمیروں اور اپنی قوموں کے دلوں کو ہر تشویش سے نجات دلا سکتی ہیں۔ یہ مطلوبہ نظام اس تسلط پسندانہ نظام کے عین مقابل نقطے پر ہے کہ حالیہ صدیوں کے دوران توسیع پسند مغربی حکومتیں اور آج امریکا کی جارح اور استبدادی حکومت جس کی علمبردار، مبلّغ اور دعویدار ہے۔ مہمانان عزیز! چھے عشرے بیت جانے کے بعد بھی تاحال ناوابستہ تحریک کے اصلی اہداف بدستور زندہ اور قائم ہیں۔؛ استعمار کی نابودی، سیاسی، اقتصادی اور ثقافتی خود مختاری، طاقت کے بلاکوں سے عدم وابستگی اور رکن ممالک کے درمیان یک جہتی اور تعاون کے ارتقاء کے اہداف۔ دنیا کے عصری حقائق اور ان اہداف میں فاصلہ بہت زیادہ ہے لیکن ان حقائق سے گزرتے ہوئے اہداف تک رسائی حاصل کرنے کا اجتماعی ارادہ اور ہمہ گیر سعی و کوشش پرخطر لیکن امید افزاء اور ثمر بخش ہے۔ ماضی قریب میں ہم سرد جنگ کے دور کی پالیسیوں اور اس کے بعد یکطرفہ طرز عمل کی شکست کے شاہد رہے ہیں۔ دنیا اس تاریخی تجربے سے عبرت حاصل کرتے ہوئے ایک بین الاقوامی نظام کی جانب حرکت کر رہی ہے اور ناوابستہ تحریک ( ان حالات میں) ایک نیا کردار ادا کر سکتی ہے اور اسے ایسا ضرور کرنا چاہئے۔ یہ (نیا) نظام عمومی شراکت اور قوموں کے مساوی حقوق کی بنیاد پر تشکیل دیا جانا چاہئے اور اس جدید نظام کی تشکیل کے لئے ہم تحریک کے رکن ممالک کی یکجہتی نمایاں عصری تقاضوں میں سے ایک ہے۔ خوش قسمتی سے عالمی تغیرات کا افق ایک چند قطبی نظام کی خوش خبری دے رہا ہے جس میں طاقت کے روایتی محوروں کی جگہ، گوناگوں اقتصادی، سماجی اور سیاسی سرچشموں سے تعلق رکھنے والے مختلف ممالک، ثقافتوں اور تہذیبوں کا ایک مجموعہ لے رہا ہے۔ یہ حیرت انگیز تبدیلیاں جن کا ہم حالیہ تین عشروں کے دوران مشاہدہ کرتے رہے ہیں، واضح طور پر یہ ثابت کرتی ہیں کہ نئی طاقتوں کا طلوع قدیمی طاقتوں کے زوال کے ہمراہ رہا ہے۔ اقتدار کی یہ منتقلی ناوابستہ ممالک کو یہ موقعہ مہیا کراتی ہے کہ عالمی میدان میں موثر اور مناسب کردار ادا کریں اور روئے زمین پر منصفانہ اور حقیقی معنی میں شراکتی انتظامی نظام کی زمین ہموار کریں۔ ہم ناوابستہ تحریک کے رکن ممالک نظریات اور رجحانات کے اختلاف کے باوجود مشترکہ اہداف کے تناظر میں ایک طویل مدت تک اپنی یکجہتی اور باہمی رابطے کو محفوظ رکھنے میں کامیاب ہوئے ہیں اور یہ کوئی معمولی اور چھوٹی کامیابی نہیں ہے۔ یہ رابطہ منصفانہ اور انسان دوستانہ نظام کی اساس قرار پا سکتا ہے۔ دنیا کے موجودہ حالات ناوابستہ تحریک کے لئے شاید دوبارہ ہاتھ نہ آنے والا موقعہ ہے۔ ہمارا موقف یہ ہے کہ دنیا کے کنٹرول روم کا اختیار مٹھی بھر مغربی ممالک کی آمریت کے چنگل میں نہیں ہونا چاہئے۔ بین الاقوامی انتظامی امور کے میدان میں ایک عالمی جمہوری شراکت ایجاد کرنے اور اسے یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔ یہ ان تمام ممالک کی احتیاج ہے جو چند استبدادی اور تسلط پسند ممالک کی براہ راست یا بالواسطہ مداخلتوں سے نقصان اٹھاتے رہے ہیں اور آج بھی نقصان اٹھا رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ساخت اور اس کا اسلوب عمل غیر منطقی، غیر منصفانہ اور سراسر غیر جمہوری ہے۔ یہ ایک کھلی ہوئی ڈکٹیٹرشپ، دقیانوسی، منسوخ شدہ اور خارج المیعاد نظام ہے۔ اسی غلط اسلوب عمل سے فائدہ اٹھاتے ہوئے امریکا اور اس کے ہمنوا، شریفانہ مفاہیم کے لباس میں اپنا استبداد دنیا پر مسلط کرنے میں کامیاب ہوئے۔ وہ بات کرتے ہیں انسانی حقوق کی لیکن ان کی مراد مغربی مفادات ہوتے ہیں، وہ بات کرتے ہیں ڈیموکریسی کی لیکن اس کی جگہ مختلف ملکوں میں اپنی فوجی مداخلت کی بنیاد رکھتے ہیں، وہ بات کرتے ہیں دہشت گردی کے خلاف جنگ کی اور شہروں اور قریوں میں آباد نہتے عوام کو اپنے بموں اور ہتھیاروں کی آماجگاہ بنا دیتے ہیں۔ ان کے نقطہ نگاہ کے مطابق بشریت پہلے، دوسرے اور تیسرے درجے کے شہریوں میں تقسیم ہے۔ ایشیا، افریقا اور لاطینی امریکا کے انسانوں کی جانیں بے قیمت اور امریکا و مغربی یورپ میں (بسنے والے انسانوں کی جانیں) بہت قیمتی قرار دی جاتی ہیں۔ امریکا اور یورپ کی سلامتی بہت اہم جبکہ بقیہ انسانوں کی سیکورٹی بے وقعت سمجھی جاتی ہے۔ ایذا رسانی اور قتل اگر کسی امریکی، صیہونی یا ان کے گماشتہ افراد کے ہاتھوں انجام پائے تو جائز اور قابل چشم پوشی ہے۔ ان کی خفیہ جیلیں جو مختلف بر اعظموں میں بے سہارا، وکیل کی سہولت سے محروم اور بغیر کسی عدالتی کارروائی کے قیدیوں سے مذموم ترین اور نفرت انگیز ترین سلوک کی گواہ ہیں ان کے جذبات کو ٹھیس نہیں پہنچاتیں۔ اچھے اور برے کی تعریف پوری طرح یکطرفہ اور امتیازی ہوتی ہے۔ وہ اپنے مفادات کو بین الاقوامی قوانین کا نام دیکر اور اپنی غیر قانونی اور تحکمانہ باتوں کو عالمی برادری (کے مطالبے) کا نام دیکر قوموں پر مسلط کر دیتی ہیں۔ اپنی اجارہ داری والے منظم میڈیا نیٹ ورک کے ذریعے وہ اپنے جھوٹ کو سچ، باطل کو حق اور ظلم کو انصاف پسندی بناکر پیش کرتی ہیں اور ہر اس سچائی کو جو ان کے فریب کو برملا کرتی ہو جھوٹ اور ہر برحق مطالبے کو بغاوت کا نام دے دیتی ہیں۔ دوستو! یہ ناقص اور زیاں بار صورت حال جاری رہنے کے قابل نہیں ہے۔ اس غلط عالمی نظام سے سب تھک چکے ہیں۔ امریکا میں دولت و اقتدار کے مراکز کے خلاف ننانوے فیصدی عوام کی تحریک اور یورپی ممالک میں عوام کا اپنی حکومتوں کی اقتصادی پالیسیوں پر ہمہ گیر اعتراض بھی اس صورت حال سے قوموں کا پیمانہ صبر لبریز ہو جانے کی علامت ہے۔ اس غیر منطقی صورت حال کا کوئی حل تلاش کرنا ضروری ہے۔ ناوابستہ تحریک کے رکن ممالک کا ہمہ جہتی، منطقی اور مستحکم رابطہ راہ حل کی تلاش میں بہت موثر واقع ہو سکتا ہے۔ محترم حاضرین! بین الاقوامی امن و آشتی عصر حاضر کی انتہائی اہم ضرورتوں میں سے ایک ہے اور عام تباہی کے خطرناک ہتھیاروں کی نابودی ایک فوری ضرورت اور عمومی مطالبہ ہے۔ آج کی دنیا میں سیکورٹی ایک عمومی اور غیر امتیازی احتیاج ہے۔ جو لوگ اپنے اسلحہ خانوں کو انسانیت مخالف ہتھیاروں سے بھر رہے ہیں، خود کو امن عالم کا علمبردار قرار دینے کا حق نہیں رکھتے۔ بلا شبہ یہ (ہتھیار) خود ان کو بھی امن و سلامتی فراہم نہیں کر سکتے۔ بڑے افسوس کی بات ہے کہ آج یہ دیکھنے میں آتا ہے کہ سب سے زیادہ نیوکلیائی ہتھیار رکھنے والے ممالک اپنے فوجی نظام سے ان مہلک وسائل کو ختم کرنے کا حقیقی اور سنجیدہ ارادہ نہیں رکھتے بلکہ انہیں بدستور خطرات کے سد باب کا ذریعہ اور اپنی سیاسی و عالمی ساکھ کا ایک اہم معیار مانتے ہیں۔ یہ تصور بالکل غلط اور ناقابل قبول ہے۔ جوہری ہتھیار سے نہ سیکورٹی حاصل ہوتی ہے اور نہ سیاسی قوت بڑھتی ہے بلکہ یہ (ہتھیار) ان دونوں چیزوں کے لئے خطرناک ہے۔ سنہ انیس سے نوے کے عشرے کے واقعات سے ثابت ہو گیا کہ ان ہتھیاروں کی موجودگی سابق سوویت یونین جیسی حکومت کو بھی بچا نہیں سکتی۔ آج بھی ہم ایسے ملکوں کو جانتے ہیں جو ایٹم بم کے مالک ہونے کے باوجود بد امنی کی زد میں ہیں۔ اسلامی جمہوریہ ایران نیوکلیائی، کیمیائی اور اسی طرح کے دیگر ہتھیاروں کے استعمال کو ناقابل معافی اور عظیم گناہ سمجھتا ہے۔ ہم نے جوہری ہتھیار سے پاک مشرق وسطی کا نعرہ بلند کیا ہے اور اس کی پابندی بھی کر رہے ہیں۔ (لیکن) یہ ایٹمی توانائی کے پرامن استعمال اور ایٹمی ایندھن کی پیداوار کے حق سے دست بردار ہو جانے کے معنی میں ہرگز نہیں ہے۔ عالمی قوانین کی رو سے اس توانائی کا پرامن استعمال تمام ممالک کا حق ہے۔ سب کو اپنے ملک اور اپنی قوم کی مختلف حیاتی ضرورتوں کے تحت اس صاف ستھری انرجی کے استعمال کا موقعہ ملنا چاہئے اور اس حق کا حصول دوسروں پر منحصر نہیں ہونا چاہئے۔ چند مغربی ممالک جن کے پاس نیوکلیائی ہتھیار ہیں اور جو اس غیر قانونی عمل کے مرتکب ہوئے ہیں جوہری ایندھن کی پیداوار پر بھی اپنی اجارہ داری قائم رکھنا چاہتے ہیں۔ مشکوک اقدامات انجام دیئے جا رہے ہیں کہ ایٹمی ایندھن کی پیداوار اور فروخت پر کچھ مراکز کی دائمی اجارہ داری قائم ہو جائے جن کے نام تو بین الاقوامی ہوں لیکن در حقیقت وہ چند مغربی ممالک کے پنجے میں جکڑے ہوئے ہوں۔ ہمارے اس زمانے کا طرفہ تماشا یہ ہے کہ امریکا جس کے پاس سب سے زیادہ مقدار میں انتہائی مہلک ایٹمی ہتھیار اور عام تباہی کے دیگر اسلحے ہیں اور ان کا استعمال کرنے والا جو واحد ملک ہے، آج ایٹمی عدم پھیلاؤ کا علم بردار بننا چاہتا ہے! انہوں نے اور ان کے مغربی ہمنواؤں نے غاصب صیہونی حکومت کو ایٹمی ہتھیاروں سے لیس کرکے اسے اس حساس علاقے کے لئے بہت بڑے خطرے میں تبدیل کر دیا ہے لیکن عیاروں کی یہی جماعت خود مختار ممالک کو جوہری توانائی کا پرامن استعمال کرتے ہوئے بھی نہیں دیکھنا چاہتی۔ یہاں تک کہ نیوکلیائی دواؤں اور دیگر پرامن انسانی مقاصد کے تحت ایٹمی ایندھن کی تیاری میں سد راہ بننے کے لئے اپنی پوری توانائی استعمال کر رہی ہے۔ نیوکلیائی ہتھیاروں کی تعمیر پر تشویش تو ان کا جھوٹا بہانہ ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے سلسلے میں انہیں خود بھی معلوم ہے کہ وہ سراسر جھوٹ بول رہے ہیں! لیکن جب سیاست میں روحانیت کی کوئی رمق باقی نہ رہ جائے تو وہ جھوٹ کو جائز قرار دے دیتی ہے۔ اکیسویں صدی میں جو ایٹمی دھمکی دے اور اس پر اسے شرم بھی نہ آئے کیا وہ دروغ گوئی سے پرہیز یا اس پر شرم کرے گا؟! میں تاکید کے ساتھ کہہ رہا ہوں کہ اسلامی جمہوریہ ایران جوہری ہتھیاروں کے حصول کی کوشش میں نہیں ہے۔ ساتھ ہی پر امن مقاصد کے تحت جوہری توانائی کے استعمال کے حق سے ہرگز چشم پوشی بھی نہیں کرے گی۔ ہمارا نعرہ ہے؛ "جوہری توانائی سب کے لئے، ایٹمی ہتھیار کسی کے لئے نہیں"۔ ہم ان دونوں باتوں پر اصرار کرتے رہیں گے۔ ہمیں علم ہے کہ ایٹمی عدم پھیلاؤ کے معاہدے کے تناظر میں ایٹمی ایندھن کی پیداوار پر چند مغربی ممالک کی اجارہ داری کا خاتمہ تمام خود مختار ممالک منجملہ ناوابستہ تحریک کے رکن ممالک کے مفاد میں ہے۔ امریکا اور اس کے اتحادیوں کے دباؤ اور زبردستی کے سامنے کامیاب استقامت کے تین عشروں کے تجربے سے اسلامی جمہوریہ اس حتمی یقین پرپہنچ چکی ہے کہ ایک متحد اور عزم محکم رکھنے والی قوم کی استقامت تمام مخاصمتوں اور دشمنیوں پر غلبہ پانے اور اعلی اہداف کی جانب لے جانے والا پرافتخار راستہ تعمیر کرنے پر قادر ہے۔ گزشتہ دو عشروں میں ہمارے ملک کی ہمہ گیر ترقی ایک ایسی حقیقت ہے جو سب کی نظروں کے سامنے ہے اور اس پر نظر رکھنے والے بین الاقوامی اداروں نے بار بار اس کا اعتراف کیا ہے۔ یہ سب کچھ پابندیوں، اقتصادی دباؤ اور امریکا و صیہونزم سے وابستہ چینلوں کی زہر افشانیوں کے عالم میں حاصل ہوا ہے۔ پابندیاں، جنہیں کچھ مہمل باتیں کرنے والے، کمر شکن قرار دے رہے تھے، نہ صرف یہ کہ کمر شکن ثابت نہیں ہوئیں اور نہ آئندہ ہوں گی بلکہ ان کی وجہ سے ہمارے قدم مزید مستحکم اور ہماری ہمتیں اور بھی بلند ہوئیں اور اپنے تجزیوں کی درستگی اور اپنی قوم کی داخلی توانائی پر ہمارا اطمینان و بھروسہ اور بھی پختہ ہو گیا۔ ہم نے ان چیلنجوں کا سامنا کرتے وقت نصرت الہی کا منظر بارہا اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ مہمانان گرامی! میں یہاں ایک انتہائی اہم مسئلے کا ذکر کرنا چاہتا ہوں۔ اگرچہ اس کا تعلق ہمارے علاقے سے ہے لیکن اس کے وسیع پہلوؤں کا دائرہ علاقے سے باہر تک پھیل گیا ہے اور اس نے کئی عشروں سے عالمی سیاست کو بھی متاثر کیا ہے۔ وہ فلسطین کا دردناک مسئلہ ہے۔ اس مسئلے کا خلاصہ یہ ہے کہ ایک آزاد اور واضح تاریخی شناخت رکھنے والا فلسطین نامی ملک بیسویں صدی کی چالیس کی دہائی میں برطانیہ کی سرکردگی میں وحشتناک مغربی سازش کے تحت طاقت، اسلحہ، قتل عام اور فریب و عیاری کے ذریعے اس کی (مالک) قوم سے ہڑپ کر ایک ایسی جماعت کو سونپ دیا گیا جس کی اکثریت کو یورپی ممالک سے مہاجرت کرواکے لایا گيا تھا۔ یہ سنگین غاصبانہ کارروائی جو شہروں اور قریوں میں نہتے عوام کے قتل عام، ان کے گھربار سے ہمسایہ ممالک کی جانب ان کی جبری نقلی مکانی کے ساتھ انجام پائی، چھے عشروں سے زیادہ کی اس مدت میں انہی مجرمانہ اقدامات کے ساتھ بدستور جاری ہے۔ یہ انسانی معاشرے کا ایک اہم ترین مسئلہ ہے۔ غاصب صیہونی حکومت کے سیاسی و فوجی قائدین نے اس عرصے میں کسی بھی جرم کے ارتکاب سے دریغ نہیں کیا ہے؛ انسانوں کے قتل عام، ان کے گھروں اور کھیتوں کی تباہی، مردوں، عورتوں حتی بچوں کی گرفتاری اور انہیں دی جانے والی ایذاؤں سے لیکر اس قوم کی توہین اور تحقیر، صیہونی حکومت کے حرام خوری کے عادی معدے میں اسے نابود کر دینے کی کوششوں اور فلسطین اور ہمسایہ ممالک میں ان کے پناہ گزیں کیمپوں پر حملوں تک جن میں دسیوں لاکھ کی تعداد میں مہاجرین پناہ لئے ہوئے ہیں، (کسی بھی مجرمانہ کارروائی سے انہوں نے دریغ نہیں کیا)۔ صبرا، شتیلا، قانا، دیر یاسین وغیرہ کے نام ہمارے علاقے کی تاریخ میں مظلوم فلسطینی عوام کے خون سے لکھے گئے ہیں۔ آج 65 سال بعد مقبوضہ علاقوں میں باقی رہ جانے والوں کے خلاف ان صیہونی درندوں کی یہی مجرمانہ کارروائیاں اب بھی انجام پا رہی ہیں۔ وہ پے در پے نئے نئے جرائم انجام دے رہے ہیں اور علاقے کو ایک نئے بحران سے دوچار کر رہے ہیں۔ شاید ہی کوئی دن ایسا ہو جب ان نوجوانوں کے قتل ہونے، زخمی ہونے اور گرفتار کر لئے جانے کی خبریں نہ آتی ہوں جو دفاع وطن میں اور اپنے وقار کی بازیابی کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے ہیں اور اپنے گھروں اور کھیتوں کی نابودی پر صدائے احتجاج بلند کر رہے ہیں۔ صیہونی حکومت جس نے تباہ کن جنگوں کی آگ بھڑکا کر، انسانوں کا قتل عام کرکے، عرب علاقوں کو غصب کرکے اور علاقائی و عالمی سطح پر ریاستی دہشت گردی کا بازار گرم کرکے دسیوں سال سے قتل و غارتگری اور شرپسندی کی آگ بھڑکا رکھی ہے، فلسطینی قوم کو جس نے اپنے حقوق کی بازیابی کے لئے قیام کیا ہے اور جدوجہد کر رہی ہے، دہشت گرد قرار دیتی ہے اور صیہونزم سے تعلق رکھنے والے چینل اور بہت سے بکے ہوئے مغربی ذرائع ابلاغ بھی اپنی اخلاقی ذمہ داریوں اور میڈیا کے اصولوں کو پامال کرتے ہوئے اس کذب محض کو دہراتے ہیں۔ انسانی حقوق کے بلند بانگ دعوے کرنے والے سیاسی رہنما بھی ان تمام جرائم پر اپنی آنکھیں بند کئے ہوئے ہیں اور کسی بھی شرم و حیا کا احساس کئے بغیر، المئے رقم کرنے والی اس حکومت کے حامی بنے ہیں اور اس کے وکیل اور محافظ کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ ہمارا موقف یہ ہے کہ فلسطین فلسطینیوں کی ملکیت ہے اور اس پر غاصبانہ قبضے کا تسلسل بہت بڑا اور ناقابل برداشت ظلم اور عالمی امن و سلامتی کے لئے ایک سنگین خطرہ ہے۔ مسئلہ فلسطین کے حل کے لئے مغرب والوں اور ان سے وابستہ لوگوں نے جتنی بھی تجاویز پیش کی ہیں سب غلط اور ناکام ثابت ہوئی ہیں اور آئندہ بھی یہی ہوگا۔ ہم نے بہت منصفانہ اور مکمل جمہوری راہ حل پیش کی ہے کہ تمام فلسطینی خواہ یہاں کے موجودہ باشندے ہوں یا وہ افراد جنہیں دوسرے ملکوں کی جانب جبرا ہجرت کروا دی گئی اور جنہوں نے اب تک اپنی فلسطینی شناخت قائم رکھی ہے، وہ مسلمان ہوں، یہودی ہوں یا عیسائی، سب دقیق نگرانی میں انجام پانے والے اطمینان بخش استصواب رائے میں شرکت کریں اور اس ملک کے سیاسی نظام کے ڈھانچے کا انتخاب کریں، تمام فلسطینی جو برسوں سے بے وطنی کا دکھ جھیل رہے ہیں اپنے وطن لوٹیں اور اس ریفرنڈم اور اس کے بعد آئین کی تدوین اور انتخابات میں حصہ لیں۔ اسی صورت میں امن قائم ہو سکتا ہے۔ یہاں میں امریکی سیاست دانوں کو، جو تا حال ہمیشہ صیہونی حکومت کے محافظ اور پشت پناہ کی حیثیت سے میدان میں رہے ہیں، ایک خیر خواہانہ نصیحت کرنا چاہوں گا۔ اس حکومت نے اب تک آپ کے لئے بے شمار درد سر کھڑے کئے ہیں، علاقے کی قوموں کے اندر آپ کو نفرت انگیز اور آپ کو ان کی نگاہوں میں غاصب صیہونیوں کا شریک جرم بنا کر پیش کیا ہے۔ ان برسوں کے دوران اس راستے پر چلنے کی وجہ سے امریکی حکومت اور عوام کو جو مادی اور اخلاقی خسارہ اٹھانا پڑا ہے وہ وحشتناک ہے اور شاید اگر مستقبل میں بھی یہی روش جاری رہی تو آپ کو اور بھی بڑی قیمت چکانی پڑ سکتی ہے۔ آئيے! ریفرنڈم کے سلسلے میں اسلامی جمہوریہ کی تجویز پر غور کیجئے اور شجاعانہ فیصلے کے ذریعے خود کو کبھی نہ حل ہونے والی اس گتھی سے نجات دلائيے! یقینا علاقے کے عوام اور روئے زمین کے تمام آزاد فکر انسان اس اقدام کا خیر مقدم کریں گے۔ مہمانان محترم! میں ایک بار پھر اپنی شروعاتی گفتگو کی جانب پلٹنا چاہوں گا۔ دنیا کے حالات بہت حساس ہیں اور دنیا بڑے اہم اور تاریخی موڑ سے گزر رہی ہے۔ امید ہے کہ ایک نیا نظام جنم لے رہا ہے۔ ناوابستہ تحریک میں عالمی برادری کے دو تہائی سے زیادہ ارکان شامل ہیں جو مستقبل کے خدو خال طے کرنے میں بہت اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ تہران میں اس عظیم اجلاس کا انعقاد خود بھی بہت بامعنی واقعہ ہے جسے اندازوں اور تخمینوں میں مد نظر رکھنا چاہئے۔ ہم اس تحریک کے ارکان اپنی وسیع صلاحیتوں اور امکانات کے باہمی فروغ کے ذریعے دنیا کو بدامنی، جنگ اور تسلط پسندی سے نجات دلانے کے سلسلے میں یادگار اور تاریخی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ یہ ہدف آپس میں ہمارے ہمہ جہتی تعاون سے ہی حاصل ہو سکتا ہے۔ ہمارے درمیان انتہائی دولت مند ممالک اور گہرا عالمی اثر و رسوخ رکھنے والے ممالک کی تعداد کم نہیں ہے۔ اقتصادی اور میڈیا کے میدان میں تعاون اور آگے لے جانے اور بلندیوں پر پہنچانے والے تجربات کے تبادلے کی صورت میں مشکلات کا حل یقینی طور پر ممکن ہو جائے گا۔ ہمیں چاہئے کہ اپنے عزم و ارادے کو مستحکم کریں، اہداف کے تئیں وفادار رہیں، توسیع پسند طاقتوں کے غیظ و غضب سے نہ ڈریں اور ان کی مسکراہٹوں کے جھانسے میں نہ آئیں، ارادہ الہی اور قوانین خلقت کو اپنا پشت پناہ سمجھیں، دو عشرے قبل کمیونسٹ محاذ کی شکست اور موجودہ دور میں مغرب کی نام نہاد لبرل ڈیموکریسی کی پالیسیوں کی شکست کو، جس کے آثار یورپی ممالک اور امریکا کی سڑکوں پر اور ان ممالک کی معیشتوں کو در پیش لا ینحل مشکلات کی صورت میں سب کے سامنے ہیں، عبرت کی نظر سے دیکھیں۔ اور آخری بات یہ کہ شمالی افریقا میں امریکا پر منحصر اور صیہونی حکومت کے مددگار آمروں کی سرنگونی اور علاقے کے ملکوں میں پھیلی اسلامی بیداری کو ہمیں بہت بڑا موقعہ سمجھنا چاہئے۔ ہم عالمی نظم و نسق میں ناوابستہ تحریک کے سیاسی کردار کو فروغ دینے کے بارے میں غور کر سکتے ہیں، اس انتظامی سسٹم میں تبدیلی لانے کے لئے ایک تاریخی دستاویز کی تدوین اور اس کے اجراء کے وسائل فراہم کر سکتے ہیں، ہم موثر اقتصادی تعاون کی جانب پیش قدمی کی منصوبہ بندی اور اپنے درمیان ثقافتی رابطوں کے نمونوں کا تعین کر سکتے ہیں۔ ایک فعال اور باہدف سکریٹریئيٹ کی تشکیل ان اہداف کے حصول میں بہت موثر اور مددگار ہو سکتی ہے۔ میں (آپ سب کا) شکر گزار ہوں۔ Rating: 5 Reviewed By: Unknown
Scroll to Top